اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آپ کے پاس ڈھانپنے والی چیز کی خبر آچکی ہے۔ اس دن بہت چہرے ذلیل ہوں گے۔ کام کرنے والے، مشقت برداشت کرنے والے۔ وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ انہیں کھولتے ہوئے چشمے ( کے پانی) سے پلایا جائے گا۔ ان کا کھانا صرف خار دار خشک زہریلے درخت سے ہوگا۔ جو نہ فربہ کرے گا نہ بھوک دور کرے گا۔
( الغاشیہ : ٧۔ ١)
قیامت کے دن کو ” الغاشیۃ “ فرمانے کی وجوہ
الغاشیہ : ١ میں ” الغاشیۃ “ ( ڈھانپنے والی چیز) قیامت کو کہا گیا ہے اور اس کو ” الغاشیۃ “ کہنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) قرآن مجید میں ہے :” یوم یغشہم العذاب “ ( العنکبوت : ٥٥) وہ دن جوان کو عذاب سے ڈھانپ لے گا۔
(٢) قیامت کو ” الغاشیۃ “ اس لیے فرمایا ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز کا تمام اطراف سے احاطہ کرلے، اس کا غاشیہ کہتے ہیں۔
(٣) قیامت اچانک آ کر لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈھانپ لے گی، جیسا کہ اس آیت میں ہے :