کیا آپ نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر آپ کو ٹھکانا دیا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر آپ کو ٹھکانا دیا۔ اور آپ کو جب کبریاء میں سرشار پایا تو آپ کو تبلغی دین کی طرف متوجہ کیا۔ اور آپ کو ضرورت مند پایا تو غنی کردیا۔ سو آپ یتیم پر شدت نہ کریں۔ اور مانگنے والے کو جھڑکیں۔ اور اپنے رب کی نعمت کا (خوب) ذکر کریں اللہ تعالیٰ (الضحیٰ : ١١-٦)
یتیم کا معنی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یتیم ہونے کی کیفیت
الضحیٰ : ٦ میں ” یتیم “ کا لفظ ہے، یتیم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا والد فوت ہوجائے، اور اس آیت میں ” اویٰ “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” ایوائ “ ہے، اس کا معنی ہے : ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا، اس آیت کا یہ معنی ہے : کیا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آپ کم سن بچے تھے، آپ کے والد نہیں تھے تو اللہ عزوجل نے آپ کو ان کے ساتھ ملا دیا جنہوں نے آپ کی پرورش اور نگہداشت کی۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی اپنی والدہ ماجدہ کے شکم مبارک میں تھے تو آپ کے والد ماجد سیدنا عبدا للہ (رض) فوت ہوگئے، ولادت کے بعد آپ اپنی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ (رض) اور اپنے دادا سیدنا عبدالمطلب (رض) کی کفالت میں رہے، پھر جب آپ کی عمر شریف چھ سال تھی تو آپ کی والدہ ماجدہ رحلت فرما گئیں اور جب آپ آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ کے دادا (رض) فوت ہوگئے اور حضرت عبدالمطلب نے آپ کے چچا جناب ابوطالب کو وصیت کی کہ وہ آپ کی کفالت کریں اور انہوں نے نہایت شفقت سے آپ کی کفالت کی، ان کا نام عبدمناف تھا، پھر ابوطالب آپ کی کفالت کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا، اس کے بعد بھی عرصہ دراز تک آپ کی نصرت اور حمایت کرتے رہے، حتیٰ کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ (الکشاف ج ٤ ص 772، داراحیاء التراث العربی، بیروت 1417 ھ)
امام فخر الدین حمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
روایت ہے کہ ایک دن ابوطالب نے اپن یبھائی عباس سے کہا : کیا میں تم کو یہ خبر نہ دوں کہ میں نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں ؟ ابوطالب نے کہا : میں دن رات کے کسی وقت میں بھی ان کو اپنے پاس سے جدا نہیں کرتا تھا، حتیٰ کہ رات کو بھی اپنے پاس سلاتا تھا، ان کا جسم بہت نرم، ملائم اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھا، بہت دفعہ میں ان کو اپنے بستر سے گم پاتا، میں ان کو ڈھونڈنے کے لئے باہر نکلتا تو وہ مجھے آواز دیتے، اے چچا ! میں یہاں ہوں ! پھر میں لوٹ آتا، بہت مرتبہ آدھی رات کو میں ان سے ایسا کلام سنتا، جس سے مجھے بہت تعجب ہوتا، ہم کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتے اور نہ کھانے کے بعد الحمد للہ پڑھتے اور وہ کھانے سے پہلے کہتے تھے :” بسم اللہ الاحد “ اور کھانے کے بعد کہتے تھے، ” الحمد للہ “ مجھے اس پر بہت تعجب ہوتا تھا، میں نے ان کو کبھی جھوٹ بولتے دیکھا، نہ جاہلیت کی طرح ہنستے دیکھا اور نہ بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 196، داراحیا التراث العربی، بیروت 1415 ھ روح المعانی جز 30 ص 290 دارالفکر بیروت)
آپ کو یتیم رکھا اور آپ کے والدین کو اٹھا لیا تاکہ آپ پر کسی کی تعظیم کرنے کا حق نہ ہو دودھ پلانے والی حلیمہ کا بھی آپ پر کوئی احسان نہ تھا، کیونکہ آپ کی برکت سے اس پر خوش حالی آگئی، ایک قول یہ ہے کہ آپ کو یتیم اس طرح فرمایا ہے، جس طرح در یتیم اس موتی کو کہا جاتا ہے جو اپنی سیپی میں تنہا اور منفرد ہوتا ہے، آپ بھی اپنی پاکیزہ صفات اور حیرت انگیز کمالات میں متضرد تھے اور اس آیت کا معنی ہے : کیا اللہ نے آپ کو قریش میں منفرد صفات کا حامل نہیں پایا، پھر آپ کو ان کے ساتھ ملا دیا یا ہم نے آپ کو ریتیم کی طرح بےنظیر صفات کا حامل پایا تو آپ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور آپ کو برگزیدہ بنا لای۔