Site icon اردو محفل

فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡؕ – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 9

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡؕ ۞

ترجمہ:

سو آپ یتیم پر شدت نہ کریں۔

الضحیٰ : ٩ میں فرمایا : سو آپ یتیم پر شدت نہ کریں۔

آپ کو یتیم بنانے کی حکمتیں

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ یتیم کا حق نہ روکیں اور اس کا حق اور اس کا مال اس کو ادا کردیں، کیونکہ آپ یتیم رہ چکے ہیں اور یتیم کے حال سے اچھی طرح واقف ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یتیمی کو اختیار فرمایا، اس کی مفسرین نے حسب ذیل حکمتیں بیان فرمائی ہیں :

(١) آپ کو یتیموں کا حال معلوم ہوتا کہ آپ یتیموں کے حقوق ادا کریں اور ان کی آسودگی اور ان کے لئے خیر کے حصول کی کوشش کریں، حضرت یوسف (علیہ السلام) یام قحط میں اس لئے سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتے تھے تاکہ وہ بھوکے لوگوں کی بھو کو بھول نہ جائیں۔

(٢) آپ کو یتیم رکھا تاکہ یتیم اس وصف میں آپ کا شریک ہوجائے اور یتیم کی اس لئے تکریم کی جائے کہ آپ بھی یتیم تھے۔

(٣) جس شخص کے ماں اور باپ دونوں زندہ ہوتے ہیں، اس کا اعتماد اپنے ماں اور باپ پر ہوتا ہے، آپ کے ماں اور باپ دونوں کو اٹھا لیا تاکہ بچپن سے آپ کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر رہے۔

(٤) عموماً یتیم کی تربیت اور تادیب نہیں ہو پاتی، اس لئے لوگ یتیم کے عیب بہت تلاش کرتے ہیں، سو لوگوں نے آپ کے احوال کو بھی بہت ہگری نظر سے دیکھا، لیکن سوائے پاکیزگی اور پاک دامنی کے ان کو کوئی چیز نظر نہیں آئی حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلان نبوت کرنے کا حکم دیا تو لوگوں کو آپ کی ذات میں طعن کرنے کی کوئی وجہ نہیں ملی۔

(٥) جس کا باپ ہوتا ہے وہ اس کو تعلیم دیتا ہے اور اس کی تادیب کرتا ہے، آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے سر سے باپ کا سایا اٹھا لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ آپ کی تعلیم اور تادیب کا کفیل اور متولی صرف اللہ تعالیٰ تھا، سند ضعیف سے روایت ہے :

حضرت ابن معسود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمای :

ادنی ربی فاحسن تادیبی (کنز العمال رقم الحدیث :31895) مجھے میرے رب نے ادب سکھایا، سو بہت اچھا ادب سکھایا۔

(٦) اگر آپ کے ماں باپ زندہ رہتے تو آپ کو ان کی ہر وقت تعظیم کرنی پڑتی، اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ صرف اللہ عزوجل کی تعظیم کریں اور مخلوق میں سے کسی کو تعظیم نہ کریں۔

یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی احادیث

حضرت عقبہ بن عامر (رض) باین کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک گھر ہے، جس کا نام دارالفرج ہے، اس میں صرف وہ لوگ داخل ہوں گے جنہوں نے مئومنین یتمیوں کو خوش کیا ہوگا۔ (اللنئالی المصنوعۃ ج ٢ ص 171 التنزیہ ج ٢ ص 135-136)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یتیم روتا ہے تو اس کے آسنو رحمٰن کی ہتھیلیوں میں گرتے ہیں اور وہ فرماتا ہے : اس یتیم کو کس نے رلایا ہے، جس کے ماں باپ قبر میں غائب ہوچکے ہیں اور جو اس یتیم کو چپ کرائے اس کے لئے جنت ہے۔ (تاریخ بغداد ج ١٣ ص ٤٢ التنزیہ ج ٢ ص ١٣٦ الفوائد رقم الحدیث : ٧٢ التذکرہ رقم الحدیث : ١٢٣ )

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب یتیم روتا ہے تو اس کے رونے کی وجہ سے عرش ہل جاتا ہے اور رحمٰن فرشتوں سے فرماتا ہے، میرے اس بندہ کو کس نے رلایا : حالانکہ میں اس کے باپ کی روح قبض کرچکا ہوں اور اس کو مٹی میں چھپاچکا ہوں، فرشتے کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمیں کوئی علم نہیں ہے، پس رحمان فرمائے گا : اے میرے فرشتو ! گواہ ہو جائو، جس نے اس کو راضی کیا میں اس کو قیامت کے دن راضی کروں گا۔ (اللئالی المصنوعۃ ج ٢ ص 171 التنزیہ ج ٢ 136)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پنسددیہ گھر وہ ہے جس میں یتیم کی تکریم کی جائے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :13434 داراحیاء التراث العربی، بیروت)

ابومالک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس شخص نے مسلمانوں میں کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پانی کے ساتھ ملایا حتیٰ کہ اس کو سیر کردیا، سا کے لئے یقیناً جنت واجب ہوجائے گی۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٤٤ ۔ ج ٥ ص ٢٩ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٩٢٦ )

حضرت سہل بن سعد (رض) باین کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے، آپ نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو ملا کر فرمایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٥٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٥ سنن ترمذی رقم الحدیث :1918، مسند امد ج ٥ 333)

ان حادیث کو علامہ آلوسی نے بھی بغیر تخریج کے ذکر کیا ہے۔ (روح المعانی جز 30 ص 293-294)

القرآن – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 9

Exit mobile version