امام ابوالحسن مقاتل بن سلیمان متوفی ١٥٠ ھ لکھتے ہیں :
الضحیٰ : ٣ میں فرمایا ہے : آپ کے رب نے اپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بےزار ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) چالیس روز تک آپ نازل نہیں ہوئے اور ایک قول ہے کہ تین روز تک آپ پر نازل نہیں ہوتے تو مشرکین مکہ نے کہا : اگر یہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتے تو ان پر مسلسل وحی نازل ہوتی رہتی، جیسے ان سے پہلے نبیوں پر مسلسل وحی نازل ہوتی رہی تھی، اب اللہ تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا اور ان سے بےزار ہوگیا ہے، اس لئے ان پر وحی نازل نہیں ہو رہی، تب اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بےزار ہوا۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص 494 ملحضاً دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1424 ھ، جامع البیان رقم الحدیث :29045 دارالفکر)
مشرکین کا یہ دعویٰ تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے رب نے چھوڑ دیا اور وہ آپ سے بےزار ہوگیا، اب ان پر لازم تاکہ وہ اپنے اس دعویٰ پر گواہ پیش کرتے اور جب وہ اپنے اس دعویٰ پر گواہ نہیں پیش کرسکے تو قاعدہ کے مطابق آپ پر لازم تھا کہ آپ ان کے اس دعویٰ کے انکار پر قسم اٹھاتے، پس قسم آپ پر آی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی جگہ دن اور رات کی قسم کھا کر فرمایا : آپ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے، نہ وہ آپ سے بےزار ہوا ہے، اور یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اور آپ کا معاملہ واحد ہے، آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے، آپ کی بیعت اللہ کی بیعت ہے، اسی طرح جو قسم آپ پر لازم آتی ہے، وہ اللہ پر قسم ہے، اسی لئے فرمایا : دن کی قسم اور رات کی قسم ! آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے بےزار ہوا ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو چند دن وحی نہیں نازل کی گئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ابتداء میں نزول وحی سے آپ گھبرا جاتے تھے اور خوف زدہ ہوجاتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے چند دن کے لئے آپ سے سلسلہ نزول وحی کو موقوف کردیا، تاکہ آپ وحی کا انتظار کریں اور آپ کے دل میں اس کا اشتیاق پیدا ہو، حتیٰ کہ جب حضرت جبریل آپ پر سورة الضحیٰ لے کر نازل ہوئے تو آپ نے فرمایا، تم اب تک نہیں آئے حتیٰ کہ میں تمہارا مشتاق ہوگیا تھا، حضرت جبریل نے کہا : میں آپ سے زیادہ ٓپ کا مشتاق تھا کیونکہ آپ اللہ عزوجل کے نزدیک بہت مکرم ہیں لیکن میں وحی لانے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہوں اور اس کے حکم پر چلتا ہوں۔ (تفسیر مقاتل ج ٣ ص 494)
والضحیٰ واللیل “ (دن اور رات) کی قسم کے محامل
اللہ تعالیٰ نے دن اور ات کی جو قسم کھائی ہے، اس میں دن اور رات سے کیا مراد ہے ؟ اس میں حسب ذیل اقوال ہیں : علامہ عبدالکریم بن ھوازن قشیری نیشاپوری متوفی 465 ھ لکھتے ہیں :
(١) اس سے مراد ہے : چاشت کے وقت کی نماز کی قسم یا دن کی اس ساعت کی قسم جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام سے مشرف کیا تھا۔
(٢) رات سے مراد ہے : اس رات کی قسم جب اللہ تعالیٰ نے شب معراج آپ کو اپنے دیدار کی دولت سے مالا مال فرمایا۔
(٣) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے دل پر ایک ابر چھا جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم، الذکر : ٤١ سنن ابودائود رقم الحدیث :1515 مسند احمد ج ٤ ص 211-260) سو رات کے پھیل جانے کی قسم سے مراد ہے :
کثرت مشاغل کی بنئا پر اللہ کا ذکر نہ کرنے کی وج ہ سے آپ کے دل پر ابر کا چھا جانا اور دن کی قسم سے مراد ہے : کثرت استغافر کی وجہ سے آپ کے قلب پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا منعکس ہونا، خلاصہ یہ ہے کہ اس رات کی قسم جب آپ کے دل پر ابر چھا گیا اور اس دن کی قسم جب اللہ کے جلووں سے آپ کا دل روشن ہوگیا۔
(٤) رات کی قسم سے مراد ہے : اس رات کی قسم ! جب تہائی رات کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نازل ہو کر فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کروں، کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1145 صحیح مسلم رقم الحدیث :758، (سنن ترمذی رقم الحدیث :1314، سنن ترمذی رقم الحدیث :4733 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1366)
(٥) دن کی قسم سے مراد وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو رضائی کرنے کے لئے بیت اللہ کو آپ کی نمازوں کا قبلہ بنادیا۔ (لطائف الاشارات ج ٣ ص 429، مزید اً ، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1420 ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
(٦) بعض مفرسین نے ذکر کیا ہے کہ ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کے روشن چہرے کی قسم (اور ’ واللیل “ سے مراد ہے : آپ کی سیاہ زلفوں کی قسم ) ۔
(٧) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کے اہل بیت کے مردوں کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : آپ کے اہل بیت کی خواتین کی قسم۔
(٨) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : نزول وحی کے ایام کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : اس زمانہ کی قسم ! جب آپ سے نزول وحی کو روک لیا گیا۔
(٩) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کے اس نور علم کی قسم جس سے مخفی غیب منکشف ہوجاتا ہے اور ” واللیل “ سے مراد ہے : آپ کے وہ غیوب جو مستتتر ہیں۔
(١٠) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : ابتداء میں اسلام کے ظہور کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : قرب قیامت میں اسلام کے خفا کی قسم، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور عنقریب اجنبی ہوجائے گا۔ (مسند حمد ج ٤ ص 73)
(١١) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : کمال عقل کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : حالت وفات کی قسم۔
(١٢) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کی ظاہر حیات کی قسم جس میں مخلوق نے آپ کا کوئی عیب نہیں دیکھا اور ” واللیل “ سے مراد ہے : آپ کی حیات کے باطن کی قسم جس میں عالم الغیب نے آپ کا کوئی عیب نہیں دیکھا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ١٩٢ داراحیاء التراث العربی، بیروت 1415 ھ)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی متوفی 1239 ھ لکھتے ہیں :
(١٣) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کے یوم ولادت کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : آپ کی شب معراج کی قسم یا آپ کی وفات کی شب کی قسم۔
(١٤) ” والضحیٰ “ سے مراد ہے : آپ کی امت کی خوبیوں کو ظاہر کرنے کی قسم اور ” واللیل “ سے مراد ہے : آپ کے امت کے عیوب کو چھپانے کی قسم۔
(١٥) آپ کی صفات ظاہرہ کی قسم جو سب مخلوق کو معلوم ہیں اور آپ کی صفات باطنہ کی قسم جن کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں۔
(١٦) زندگی کی قسم اور قبر میں آنے والی شب کی قسم۔ (تفسیر عزیزی پارہ عم، ص 217 حاجی عبدالمجید وبرادران، تاجران کتب، کابل، افغانستان)
علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں ،
(١٧) علامہ طیبی قدس سرہ نے کہا ہے : دن اور رات کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ ان میں دو نمازیں ہیں، جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں، دن کی نماز کے متعلق آپ نے فرمایا : مجھ کو چاشت کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اور تم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا اور رات کی نماز کے متعلق قرآن مجید میں ہے۔
ومن الیل فتھجدبہ نافلۃ لک (بنی اسرائیل : ٧٩) اور آپ رات کو تہجد کی نماز پڑھیے، وہ خصوصیت سے آپ کے لئے زائد ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی نماز چاشت کی قسم اور آپ کی نماز تہجد کی قسم۔
(١٨) رات کا وقت غم اور وحشت کا وقت ہے اور دن کا وقت سرور اور خوشی کا وقت ہے، گویا آپ کی خوشی کی قسم اور آپ کے غم کی قسم۔
(١٩) دن کا وقت لوگوں کے ہجوم کا وقت ہے اور رات کا وقت محبوب، سے ملاقات کا وقت ہے، گویا دن میں آپ کے لوگوں کے ساتھ مشغول ہونے کی قسم اور رات میں اپنے رب کے ساتھ تنہائی اور راز و نیاز کی قسم۔
(٢٠) علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ نے کہا ہے کہ دن کی ایک ساعت رات کی تمام ساعات پر غالب ہے، جس طرح تنہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمالات اور معجزات تمام انبیاء (علیہم السلام) کے کمالات اور معجزات پر غالب ہیں، گویا کہ دن کی اس ساعت کی قسم جو رات کی تمام ساعت پر اس طرح غالب ہے، جس طرح تنہا آپ کے کمالات تمام انبیاء (علیہم السلام) کے کمالات پر غالب ہیں۔ (روح المعانی جز 30 ص 279، دارالفکر، بیروت 1417 ھ)
الضحیٰ : ٣ میں فرمایا : آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ بےزار ہوا۔
الضحیٰ : ٣ کے شان نزول میں متعدد اقوال
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی متوفی 333 ھ لکھتے ہیں :
بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں یہ کہا ہے کہ لوگ آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھتے تو آپ فرماتے : میں کل بتادوں گا، مثلاً آپ سے قیامت، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق پوچھا تو آپ نے اس اعتماد پر فرمایا کہ آج مجھ پر وحی نازل ہوجائے گی تو میں کل بتادوں گا اور آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا تو کئی دن تک وحی نازل نہیں ہوئی، اس پر مشرکین نے خوش ہو کر کہا : (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا اور ان سے بےزار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی قسم کھا کر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہیں چھوڑا، اور نہ آپ سے بےزار ہوا اور بعض نے یہ کہا کہ حضرت خدیجہ (رض) نے جب آپ کو پہلی وحی کے بعد بہت گھبرائے ہوئے دیکھا تو کہا : آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا اور آپ سے بےزار ہوگیا، لیکن یہ قول بداہتۃ باطل ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ جب آپ گھبرائے ہوئے غار حرا سے آئے تو حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا : ہرگز نہیں، اللہ آپ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گا کیونکہ آپ رشتہ داروں سے ملاپ رکھتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کے لئے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستہ میں پیش آنے والی مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣ صحیح مسلم رقم الحدیث :160، مسند احمد ج ٦ ص 232) حضرت خدیجہ امام المومنین (رض) کا مقام تو بہت بلند ہے، کوئی مسلمان کسی نبی کے متعلق ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔
امام ابو منصور ماتریدی نے اپنے طور پر اس کا یہ محمل بیان کیا ہے کہ آپ کے پاس شروع میں کوئی مادی طاقت نہ تھی اور نہ مال و دولت تھی اس کے برخلاف آپ کے مخالفین قریش مکہ بہت رئیس تھے، مادی طاقت اور عددی برتری رکھتے تھے، اس لئے آپ کے متعلق انہوں نے کہا کہ آپ کو رب نے چھوڑ دیا اور آپ سے بےزار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور دن اور رات کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بےزار ہوا۔ (تاویلا اہل السنتہ ج ٥ ص 475-476 مئوسستہ الرسالتہ، ناشرون، 1425 ھ)
امام حمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ نے ایک قول یہ ذکر کیا ہے کہ جب چند دن کے لئے آپ پر وحی کا آنا رک گیا تو ابولہب کی بیوی نے یہ کہا تھا : اے محمد ! میرا گمن ہے کہ تمہارے شیاطن نے تم کو چھوڑ دیا تو اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی، دوسرا قول یہ ذکر کیا ہے کہ جب وحی آنے میں دیر ہوگئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے کہا : میرے رب نے مجھ کو چھوڑ دیا اور مجھ سے بےزار ہوگیا تو حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دی کہ ایسا نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو باتداء میں جوت عزت دی ہے، اللہ اس کو پورا کرے گا، لیکن ہمارے نزدیک یہ قول بھی بداہتۃ باطل ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسا گمان نہیں فرما سکتے، تیسرا قول یہ ذکر کیا ہے کہ آپ کے گھر میں حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کا کتے کا بچہ تھا، اس وجہ سے آپ پر وحی کا آنا رک گیا تھا، یہ قول بھی باطل ہے کیونکہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہ سورت مکی ہے، چوتھا قول یہ ذکر کیا ہے کہ بعض مسلمان ناخن نہیں کاٹتے تھے، اس لئے آپ پر وحی کا آنا رک گیا تھا، اس قول کا باطل ہونا بالکل واضح ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے نزدیک کائنات میں سب سے زیادہ مکرم اور معظم ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کہنا کس طرح مناسب ہوگا کہ میں نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ میں آپ سے بےزار ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء اس طرح نہیں فرمایا بلکہ جب مشرکین نے یہ کہا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا اور ان سے بےزار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی قسم کھا کر فرمایا : آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ آپ سے بےزار ہوا۔
نیز امام رازی فرماتے ہیں، یہ واقعہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور اس کی طرف سے نازل ہا ہے کیونکہ اگر یہ آپ کی اپنی تصنیف ہوتا اور آپ کا کلام ہوتا تو آپ کے سلسلہ کلام میں وقفہ نہ آتا اور مشرکین کو اس اعتراض کا موقع نہ ملتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس بےزار ہوگیا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 192-193، داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت عزت اور جاہت
عیسائیوں کی مزعوم آسمانی کتاب انجیل میں لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھا دیا تو انہوں نے کہا :
اور تیسرے پہر کیق ریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا : ” ایلی، ایلی لما شبقتنی ؟ “ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟۔ (متی کی انجیل ص ٣٣، باب : ٢٨ آیت : ٤٦، بائبل سوسائٹی، لاہور، ١٩٩٢ ئ)
ہمارے نزدیک تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب دی گئی اور نہ انہوں نے مذکور الصدر جملہ کہا، لیکن عیسائیوں کی اپنی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ اور ہماری کتاب قرآن مجید میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
والضحیٰ ۔ والیل اذا سجی۔ ما ودعک ربک و ماقلی۔ الضحیٰ : ٣ -١) چاشت کے وقت کی قسم۔ اور رات کی قسم جب وہ پھیل جائے۔ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ بےزار ہوا۔
دن اور رات کی قسم کھانے میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر مسلسل دن کی روشنی رہے تو انسان تھک جائیں، اس لئے انسان کو سکون اور آرام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رات بنائی، اسی طرح اگر آپ پر مسلسل وحی نازل ہوتی رہتی تو آپ تھک جاتے، یہ سمجھا کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرنے کے لئے اور آپ کی عزت اور وجاہت ظاہر کرنے کے لئے یہ آیات نازل فرمائیں کہ دن اور رات کی قسم ! آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا۔