اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :: چاشت کے وقت کی قسم۔ اور رات کی قسم جب وہ پھیل جائے۔ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ بےزار ہوا۔ اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر ہے۔ اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ (الضحیٰ : ٥-١)
” ضحیٰ “ اور ” سجیٰ “ کا معنی
الضحیٰ : ١ میں ” ضحیٔٔ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : چاشت کا وقت، جب دن نکل آئے، جس وقت دھوپ چڑھ جائے ” ضحیٰ “ کا معنی ہے : دن چڑھنا اور دھوپ پھیلنا۔ (القاموس المحیط ص 1304 مئوسستہ الرسالۃ، بیروت 1424، ) قرآن مجید میں ہے :
(الاعراف : 98) کیا بستیوں والوں کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ دن چڑھے ان پر ہمارا عذاب آجائے اور وہ اس وقت کھیل رہے ہوں۔