Site icon اردو محفل

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 10

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ ۞

ترجمہ:

اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔

الضحیٰ : 10 میں فرمایا : اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔ ربط آیات

اس سے پہلے فرمایا تھا : آپ یتیم تھے تو آپ کو ٹھکانا دیا، آپ طالب ہدایت تھے تو آپ کو ہدیت دی اور آپ ضرورت مند تھے تو اللہ نے آپ کو غنی کیا تو آپ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو نہ بھولیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور یتیم پر شفقت کریں اور سائل پر رحم کریں کیونکہ آپ یتیمی اور تنگ دستی کو گزار چکے ہیں۔

صحیح سائل کا معیار اور غیر مستسحق سائل کے لئے عذاب کی وعید کے متعلق احادیث

حضرت قبصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کی طرف سے حقوق ادا کر رہا تھا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس سلسلہ میں سوال کیا، آپ نے فرمایا : تم ہمارے پاس ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے، پھر ہم اس میں سے تمہیں دینے کا حکم دیں گے، پھر آپ نے فرمایا : تین صورتوں کے سوا اور کسی صورت میں سوال کرنا جائز نہیں ہے : (١) ایک وہ شخص ہے جس نے کسی کی طرف کسی حق کو ادا کرنے کا ذمہ لیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے، حتٰی کہ اس کو مطلوبہ مال مل جائے، پھر وہ سوال سے رک جائے (٢) دوسرا وہ شخص جس کے مال پر کوئی آفت آگئی ہو اور اس کا سب مال ضائع ہوگیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے حتیٰ کہ اس کو گزر اوقات کے لئے مل جائے (٣) تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص فاقوں میں مبتلا ہو حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں کہ فلاں شخص فاقوں میں مبتلا ہے تو اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے (تین آدمیوں کی گواہی استحباب کی شرط ہے اگر وہ واقعی فاقے کر رہا ہے تو اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے) اے قبیصہ ان تین صورتوں کے سوا جو شخص سوال کرتا ہے، وہ حرام کھاتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٤ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٤٠ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٠ سنن دارمی رقم الحدیث :1678، مسند احمد ج ٣ ص 477)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے سوال کیا اور اس کے پاس اتنی چیزیں تھیں جو اس کو سوال سے غنی کرسکتی تھیں، وہ صرف آگ کو زیادہ کر رہا ہے، نفیلی نے پوچھا : اس چیز کی کتنی مقدار ہے جو اس کو سوال سے غنی کر دے اور اس مقدار کے ہوتے ہوئے اس کو سوال نہیں کرنا چاہے ؟ فرمایا : اس کے پاس صبح اور شام کا کھانا ہو یا ایک دن اور ایک رات کا کھانا ہ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :1629، مسند احمد ج ٤ ص 180)

حضرت حبشی بن جنادہ (رض) باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غنی (مالک نصاب زکوۃ) کے لئے سوال کرنا جائز نہیں اور نہ تندرست آدمی کے لئے، سوال کرنا صرف اس کے لئے جائز ہے جس کو فقر ہلاک کر رہا ہو یا جو قرض کے بوجھ سے گھبرا رہا ہو اور جس نے اپنے مال میں اضافے کے لئے سوال کیا، قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی اور وہ دوزخ کے گرم پتھر کھا رہا ہوگا، پس جو چاہے (اس عذاب کو) کم کرے اور جو چاہے زیادہ کرے۔ (اگر کسی شخص کو علم ہو کہ اس سائل کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس کو نرمی سے مسترد کر دے اور اگر وہ اس کو دے گا تو وہ گنہ گار ہوگا) (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٥٣ )

سائل کو دینے کی ترغیب کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تو (لوگوں پر) خرچ کر، میں (تجھ پر) خرچ کروں گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٥٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٣، مسند احمد ج ٢ ص ٢٤٢ )

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن آدم ! اگر تو ضرورت سے زائد چیز کو خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے اور اگر تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے اور اگر تیرے پاس بہ قدر ضرورت مال ہو تو تجھ کو ملامت نہیں کی جائے گی، اور دینے کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کر۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 1036)

حضرت ام بحیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کسی من میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے حتیٰ کہ مجھے حیاء آتی ہے اور میرے پاس اسے دینے کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے اسے دے دو ، خواہ وہ بکری کا جلا ہوا پایا ہو۔

(سنن ابو دائود رقم الحدیث :1667 سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٦٥ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٧٤ مسند احمد ج ٦ ص ٣٨٣)

حضرت عثمان (رض) کے آزاد شدہ غلام بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) کو کچھ گوشت ہدیہ کیا گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گوشت پسند تھا، انہوں نے خادمہ سے کہا، اس کو گھر میں رکھ دو شاید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو تناول فرمائیں خادمہ نے اس کو گھر کے طاق میں رکھ دیا، اس اثناء میں ایک سائل نے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا : صدقہ دو ، اللہ تمہارے مال میں برکت دے، گھر والوں نے کہا : اللہ تمہیں برکت دے، وہ سائل چلا گیا، بعد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : اے ام سلمہ ! تمہارے پاس کچھ کھانے کی چیز ہے ؟ اور انہوں نے خادمہ سے کہا، جائو اور رسول اللہ کو وہ گوشت لا کردو، وہ گئی تو اس طاق میں گوشت نہیں تھا، ایک پتھر کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی وہی گوشت ہے جو اب پتھر کی شکل میں تبیدل ہوگیا ہے، کیونکہ تم نے سائل کو یہ گوشت نہیں دیا تھا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ٣٠٠ اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیونکہ حضرت عثمان کا غلام مجبہول ہے)

حضرت ابوامامہ (رض) باین کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اگر مساکین جھوٹ نہ بولیں تو ان کو رد کرنے والا فلاح نہ پائے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :7967 اس حدیث کا ایک راوی جعفر بن الزبیر ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ٣ ص ١٢)

حضرت حسین بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، سائل کے لئے حق ہے، خواہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔

شعب الارنووط نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند مجہول ہے کیونکہ اس کی سند میں یعلی بن ابی یحییٰ مجہول ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص 201 طبع قدیم، مسند احمد ج ٣ ص 254، رقم الحدیث : ١٧٣٠، مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :2468، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ١١٣ مسند ابویعلی رقم الحدیث : ٦٧٨٤ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٦٦٥ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٨٩٣ سنن کبریٰ للبیہقی ج ٧ ص ٢٣ الموطا ج ٢ ۔ رقم الحدیث : ١٩٢٧ دارالمعرفتہ، بیروت)

موطاً امام مالک میں یہ حدیث ان الفاظ سے ہے، سائل کو عطا کرو خواہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ہو۔

حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں سائل کو عطا کرنے کی ترغیب ہے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ جس شخص کے پاس صبح اور شام کا کھانا ہو، اس کا سوال کرنا مکروہ ہے، نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غنی کا اور تندرست شخص کا جو کمانے پر قادر ہو، سوال کرنا جائز نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس سائل سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا سائل ہے کہ بغیر سواری کے اس کے لئے کہیں جانا مشکل ہو اور اس کے پاس ایک دن سے زیادہ کھانیپینے کی چیز نہ ہو اور وہ کمزور اور بیمار ہو، اس وجہ سے محنت مزدوری نہ کرسکتا ہو، اس لئے اس کا سوال کرنا صحیح ہے، علاوہ ازیں اس حدیث کی سند قطعی الثبوت نہیں ہے۔ (الاستذکارج ٢٧ ص ٤٠٣، مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ١٤١٤ ھ)

نیز حافظ ابن عبدالبر اپنی دوسری شرح میں لکھتے ہیں :

جب کسی شخص کے پاس اس کا گھوڑا اس کی ضرورت کے لئے ہو تو وہ اس گھوڑے کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اپنی ضروریات کے لئے پیدل نہیں جاسکتا، اور اس گھوڑے کا مالک ہونے کی وجہ سے وہ فقر کی حد سے نہیں نکلتا اور ان اغنیاء کے حکم میں داخل نہیں ہوتا، جن کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے، نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مطلقاً فرمایا ہے : سائل کو عطا کرو، یہ نہیں فرمایا : اس کو زکوۃ دو یا نفلی صدقہ دو ، پس اس کو ہر قسم کے صدقہ سے دینا جائز ہے، نیز اس حدیث میں یہ ترغیب دی ہے کہ سائل جو بھی ہو، اس کو عطا کرنا چاہیے، کیونکہ مسلمان کے حال سے اغلب یہ ہے کہ وہ واقعی ضرورت مند ہے، جب ہی سوال کر رہا ہے، ہاں ! اگر دینے والے کو کسی دلیل سے معلوم ہو کہ یہ ضروتر مند یا مقروض نہیں ہے یا یہ صحت مند ہے اور کمانے پر قادر ہے تو پھر اس کو نہیں دینا چاہیے۔ (التمہید ج ٢ ص ٦٢١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی سائل کو رد نہیں فرماتے تھے، حتیٰ کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی جب مرنے لگا تو اس کے بیٹے نے آپ سے آپ کی قمیض مانگی تاکہ وہ اس قمیص کو اپنے باپ کا کفن بنا دے تو آپ نے اس کو اپنی قمیض عطا کردی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1269، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٧٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٠٩٨)

حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاشیہ والی ایک چادر بن کر آپ کے پاس لائی، اس عورت نے کہا : میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہنائوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے وہ چادر لے لی اور آپ کو اس وقت اس چادر کی ضرورت بھی تھی، آپ وہ چادر ہپن کر ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کی اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! یہ بہت خبوصورت چادر ہے، آپ مجھے یہ چادر دے دیجیے، حاضرین نے کہا، تم نے یہ اچھا نہیں کیا، اس چادر کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہن لیا تھا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی، پھر بھی تم نے اس کو مانگ لیا اور تم کو معلوم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کا سوال نہیں فرماتے، اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے پہننے کے لئے اس چادر کا سوال نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس چادر کا صرف اس لئے سوال کیا تھا کہ یہ میرا کفن ہوجائے، حضرت سہل نے کہا : پھر وہ چادر اس شخص کا کفن ہوگئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٧٧)

امام عبدالرحمان بن محمد رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

منہال بن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بیٹے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا، اس عورت نے کہا، آپ سے کہنا کہ مجھے کوئی کپڑا پہنا دیجیے آپ نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اس عورت نے کہا، آپ کے پاس واپس جائو اور کہو : آپ نے جو قمیض پہنی ہوئی ہے وہی دے دیجیے، اس کا بیٹا آپ کے پاس آیا تو آپ نے اپنی قمیص اتار کر اس کو دے دی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧ ص 2327 رقم الحدیث : ١٣٢٣٦، الدرالمنثور ج ٥ ٢٤١ )

اگر سائل کو دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو نرمی سے جواب دینا چاہئے

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ سائل کو سختی کے ساتھ جواب نہ دیں، اگر آپ کے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو اس کو نرمی اور رحمت کے ساتھ لوٹا دیں، ایک تفسیر یہ بھی ہے، جو آپ سے دین کا کوئی مسئلہ معلوم کر رہا ہو، اس کو نہایت نرمی اور آسانی سے مسئلہ بتائیں اور اگر دنیا کی کسی چیز کا سوال کرے تو اگر آپ کے پاس وہ چیز ہو تو دے دیں ورنہ اس کو نرمی کے ساتھ لوٹا دیں، اسی مضمون کی یہ آیت ہے :

(بنی اسرائیل : ٢٨) اور اگر آپ کو اپنے رب کی رحمت کی توقع اور جستجو میں ان سے اعراض کرنا پڑے تو ان کو کوئی نرم بات کہہ کر ٹال دیں۔

امام عبدالرحمان بن محمد رازی ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

مجاہد نے کہا : یعنی اگر آپ کو اللہ کے رزق کا انتظار ہو۔ (تفسیر امام بن ابی حاتم رقم الحدیث :13251)

حسن بصری نے کہا : آپ اس صورت میں نرمی اور شقت سے کہیں : عنقریب انشاء اللہ ہم کو کوئی چیز ملے گی تو ہم تم کو عطا کریں گے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13252)

سدی نے ” قول میسور “ کی تفسیر میں کہا : آپ ان سے کہیں کہ اس وقت ہمارے پاس وہ چیز نہیں ہے، جب وہ چیز ہمارے پاس آئے گی تو ہم عطا کریں گے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13253)

ابن زید نے ’ دقول میسور “ کی تفسیر میں کہا : آپ خوبصورت بات کہیں، اللہ تعالیٰ ہم کو بھی عطا فرمائے اور تم کو بھی اور اللہ تعالیٰ تم کو اس میں برکت دے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13254)

مخلوق سے گڑ گڑا کر سوال نہ کیا جائے، صرف اللہ سے گڑ گڑا کر سوال کیا جائے

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

اس آیت میں جھڑکنے سے ممانعت اس صورت میں ہے، جب سائل گڑ گڑا کر سوال نہ کرے لیکن اگر وہ گڑ گڑا کر سوال کرے اور نرمی سے منع کرنے کے باوجود واپس نہ جائے تو پھر اس سائل کو ڈانٹنے اور جھگڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (روح المعانی جز ٣٠ ص ٢٩٤ دارالفکر، بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ آلوسی نے یہ صحیح نہیں لکھا، اللہ تعالیٰ نے مطلقاً سائل کو جھڑکنے سے منع فرمایا ہے خواہ وہ گڑ ڑا کر سوال کے یا نہ کرے اور منع کرنے سے واپس جائے یا نہ جائے اور ہم کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہم نے گنجائش کے باوجود اس سائل کو نہ دیا اور اس کو اپنے دروازہ سے لوٹا دیا تو وہ تو کسی اور دروازہ پر چلا جائے گا لیکن جب ہم اللہ سے سوال کریں گے اور اس کی سزا میں اس نے ہمیں لوٹا دیا تو ہمارے لئے تو اس کے سوا اور کوئی دروازہ نہیں ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی سوال کرے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ مستحق ہے یا نہیں، مستحق کو دینا چاہیے اور غیر مستحق کو نہیں دینا چاہیے، میں کہتا ہوں کہ جس کو ہم نے غیر مستحق سمجھ کر مسترد کردیا وہ کسی اور دروازے پر جا کر گداکر لے گا لیکن جب ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے، اگر اس نے بھی ہمیں اس بناء پر غیر مستحق قرار دے کر رد کردیا تو ہم اس کے بعد کس دروازہ پر جا کر سوال کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تحسین فرمائی جو لوگوں سے گڑ گڑا کر سوال نہیں کرتے :

لایسئلون الناس الحافاً (البقرہ : ٢٧٣) وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر سوال نہیں کرتے۔

اور اللہ اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر سوال کرنے کا حکم دیا ہے۔

ادعوا ربکم تضرعاً وخفیۃ (الاعراف : ٥٥) اپنے رب سے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو۔

ہمارا حال یہ ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں تو ہاتھ اٹھا کر بےتوجہی سے سرسری طور پر چند کلمات پڑھ کر اٹھ جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً رمضان کے مہینے میں لوگ مسجد میں آ کر نمازیوں کے سامنے اپنے مصائب بیان کر کے گڑا گڑا کر سوال کرتے ہیں اور کوشش کر کے آنسو نکالتے ہیں اور روتے ہیں، پس جس کے سامنے گڑ گڑانا چاہیے، اس کے سامنے نہیں گڑگڑاتے اور مخلوق کے سامنے روتے ہیں اور گڑگڑاتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 10

Exit mobile version