الضحیٰ : ١١ میں فرمایا : اور اپنے رب کی نعمت کا (خوب) ذکر کریں۔
اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرنا چاہیے اور یہی اس کا شکر ہے
مجاہدین الرقشی المخزومی المتوفی ١٠٤ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
انسان جو نیک عمل کرتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے معتمد مسلمان بھائیوں کو وہ عمل بتائے تاکہ وہ بھی اس کی اقتداء کریں اور اس کی مثل عمل کریں۔ (تفسیر مجاہد رقم الحدیث : ٢٠٣١ دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤٢٦ ھ)
مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی ١٥٠ ھ لکھتے ہیں :
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوپر جن نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، ان کا شکر ادا کیجیے۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٤٩٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
امام، بدرالرحمان بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ لکھتے ہیں :
مجاہد نے کہا : اس نعمت سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن مجید کی تبلیغ کیجیے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٣٨٤)
مقسم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی (رض) سے اس آیت کی فسیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا : جب مومن شخص کوئی نیک عمل کرے تو وہ اپنے گھر والوں کو اس کی خبر دے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدی : ١٩٣٨٥)
نیز حضرت حسن بن علی (رض) نے فرمای : جب تمہیں کوئی خیر حاصل ہو تو تم اپنے مسلمان بھائیوں سے اس کا ذکر کرو۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٣٨٦)
حضرت النعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر فرمایا : جس نے کم نعمت کا شکر ادا نہیں کیا تو اس نے زیادہ نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کیا، اور جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا اور اللہ کی نعمت کا بیان کرنا شکر ہے اور اس کا بیان نہ کرنا کفران نعمت ہے، اور جماعت رحمت ہے اور اس سے علیحدہ ہونا عذاب ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص 375 طبع قدیم، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٤١٩)
زازان کندی بیان کرتے ہیں : ہماری حضرت علی (رض) سے ملاقات ہوئی، ہم نے کہا : اپنے اصحاب کا حال بتائیے ؟ آپ نے پوچھا : میرے کون سے اصحاب کا ؟ اس نے کہا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا، آپ نے فرمایا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اصحاب میرے اصحاب ہیں، تم کن کے متعلق دریافتک رتے ہ ؟ اس نے کہا : جن کا آپ محبت سے ذکر کرتے ہیں اور ان پر رحمت بھیجتے ہیں، آپ نے پوچھا : ان میں کس سکا ؟ لوگوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کا آپ نے فرمایا : انہوں نے قرآن اور سنت کا علم حاصل کیا اور وہ ان کے لئے کافی ہے، پھر حضرت ابوذر (رض) کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا : وہ بہت سوال کرتے تھے، ان کو دیا بھی جاتا اور منع بھی کیا جاتا ہے، وہ دین کا علم حاصل کرنے پر بہت حریص تھے، ان کو ایک برتن میں علم دیا گیا سو وہ بھر گیا، لوگوں نے کہا : پھر حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے متعلق بہت حریص تھے، ان کو ایک بترن میں علم دیا گیا سو وہ بھر گیا، لوگوں نے کہا : پھر حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے متعلق بہت حریص تھے، ان کو ایک برتن میں علم دیا گیا سو وہ بھر گیا، لوگوں نے کہا : پھر حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے متعلق بتائیں آپ نے فرمایا : ان کو منافقین کے ناموں کا علم دیا گیا، وہ مشکل مسائل کے عالم ہیں، لوگوں نے کہا : حضرت سلمان کے متعلق بتائیں، آپ نے فرمایا : وہ حکیم لقمان کی مثل ہیں، وہ اہل بیت میں سے ہیں، انہوں نے علم اول اور علم آخر کو حاصل کیا لوگوں نے کہا، حضرت عمار بن یاسر (رض) کے متعلق بتائیں، آپ نے فرمایا : وہ ایسے شخص ہیں کہ ان کے گوشت، ان کے خون اور ان کے بالوں میں ایمان رچا بسا ہوا ہے، آگ ان کے جسم کو نہیں کھا سکتی، لوگوں نے کہا : آپ اپنے متعلق بتائیے، آپ نے فرمایا : ٹھہرو ! اللہ تعالیٰ نے خود ستائی سے منع فرمایا ہے، ایک شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” واما بنعمۃ ربک فحدث “ (الضحیٰ : ١١) آپ نے فرمایا : میں اپنے رب کی نعمت کو بیان کرتا ہوں، میں جب سوال کرتا ہوں تو مجھے عطا کیا جاتا ہے اور جب میں چپ رہتا ہوں تو مجھے ابتدائً نعمت دی جاتی ہے۔ (المعجم ج ٦ ص ٢١٤۔ رقم الحدیث : ٦٠٤١ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو کچھ عطا کیا گیا، پس وہ اس کی خبر دے اور اگر کوئی نہ ملے تو وہ اللہ کی حمد وثناء کرے، اگر اس نے اللہ کی حمد وثناء کی تو اس کا شکر ادا کیا اور جس نے اس کی عطا کو چھپایا تو اس نے کفران نعمت کیا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨١٣)
حضرت عائشہرضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس شخص نے کوئی نیکی کی ہے، اس کا صلہ دینا چاہیے اور اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے تو اس کی نیکی کا ذکر کرنا چاہیے، پس جس نے اس کی نیکی کا ذکر کیا، اس نے اس کا شکر ادا کردیا۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٩٠ طبع قدیم)
حسن بصری نے کہا : اس کی نعمت کا زیادہ ذکر کرو کیونکہ نعمت کا ذکر شکر ہے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٤٢١ )
ابوحازم نے کہا : اپنی نیکیوں کو اس طرح چھپائو جس طرح تم اپنے گناہوں کو چھپاتے ہو۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٦٨٩٩)
حضرت عمر ان بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ اس کو پسند فرماتا ہے کہ نعمت کا اثر اس پر نظر آئے اور اس کی خسہت حالی کو ناپسند فرما ات ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٧٤، طبع قدیم)
ابو نضرۃ نے کہا : مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ نعمت کا شکریہ ہے کہ اس کا بیان کیا جائے۔ (جامع البیان جز ٣٠ ص ٢٩٤، دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)
اگر ریا کاری اور اپنی بڑائی کا خطرہ نہ ہو تو اپنے نیک اعمال کا اسی نیت سے اظہار کرنا افضل ہے کہ دوسرے مسلمان اس کی اقتداء کریں اور اگر یہ خطرہ ہو تو ان کو چھپانا افضل ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس نعمت کے بیان کا حکم دیا گیا ہے ؟
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) مجاہد نے کہا : اس نعمت سے مراد قرآن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب سب سے عظیم نعمت عطا کی ہے، وہ قرآن مجید ہے اور اس نعمت کو بیان کرنے کا معنی یہ ہے کہ آپ خود بھی قرآن کریم پڑھیں اور لوگوں کو بھی پڑھائیں اور لوگوں سے اس کے حقائق اور معارف بیان کریں۔
(٢) مجاہد سے دوسری روایت یہ ہے کہ اس نعمت سے مراد نبوت ہے یعنی آپ پر جو آیات نازل ہوئی ہیں، ان کا بیان کریں۔
(٣) آپ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یتیم اور سائل کے حقوق ادا کئے، سو آپ یہ لوگوں کے سامنے بیان کیجیے تاکہ لوگ آپ کی اقتداء کریں۔
(٤) تمام اطاعات اور عبادات سے مقصود یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی یاد میں مستغرق ہوجائے، اس سورت میں جن عبادات کا حکم دیا ہے، اس کے بعد یہ حکم دیا کہ دل اور زبان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہو اور انسان بار بار اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتا رہے اور ان کو دہراتا رہے تاکہ وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھول نہ سکے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٠١، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملنے والی چند نعمتوں کے متعلق احادیث
حافظ حمد بن احمد بن عثمان ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ (الضحی : ١١) کے تحت یہ احادیث ذکر کی ہیں :
(١) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے بہت حسین و جمیل مکان بنایا اور اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس جو شخص اس کو دیکھتا ہوا گزرتا ہے، وہ تعجب سے یہ کہتا ہے کہ اس مکان میں اس ایک اینٹ کو کیوں نہیں رکھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : میں وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبین ہوں۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٣٥٣٥ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٢٣ السنن الکبری للبیہقی ج ٩ ص ٥ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ٣٦٥ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٩٩، شرح السنہ ج ١٣ ص ٢٠١)
(٢) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
رعب سے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جوامع الکلم دیئے گئی ہیں اور جس وقت میں سویا ہوا تھا تو مجھے روئے زمین کی چابیاں دی گئیں اور میرے سامنے رکھ دی گئیں۔ مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنایا گیا ہے اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٩٧١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٣ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٢٣ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥ ص ٤٧٠ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٣٤ السنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ٤٨ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٥٣ مسند احمد ج ٢ ص ٤١٢ دلائل النبوۃ ج ٥ ص ٤٧٢ شرح السنہ ج ١ ص ٢٦٦ )
(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں وہ ہوں جس سے سب سے پہلے زمین کھلے گی، اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں وہ ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٥٥١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٧٨ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٤٦٧٣ السنن الکبری للبیہقی ج ١ ص ٢١٣ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥ ص ٤٧٥)
(٤) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں وہ ہوں جس سے قیامت کے دن سب سے پہلے زمین کھلے گی اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا اور مجھ ہی کو حمد کا جھنڈا دیا جائے گا اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا اور میں ہی قیامت کے دن سب لوگوں کا سردار ہوں اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا۔ (سنن ترمذی ٣١٤٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٠٨، مسند احمد ج ١ ص ٢٨١ المستدرک ج ٣ ص ٤٦٤ )
(٥) ابو الجوزاء حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبوب مخلوق کوئی نہیں پیدا کی اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبوب مخلوق کوئی نہیں پیدا کی اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سوا کسی کی زندگی کی قسم کھائی ہو پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” لعمرک انہم لفی سکرتھم یعمھون “ (الحجر : ٧٢) آپ کی زندگی کی قسم ! بیشک یہ لوگ اپنی مستی میں مدہوش ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء ج ١ ص ٤١٤٣، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
(٦) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت میں سویا ہوا تھا تو مجھے دکھایا گیا کہ میں جنت میں سیر کر رہا ہوں، اس وقت میں نے ایک دریا دیکھا، جس کے دونوں کناروں پر کھوکھلے موتیوں کے گنبد تھے۔ میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے، پھر فرشتہ نے اپنا ہاتھ لگایا تو اس کی مٹی میں مشک کی خوشبو تھی۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٥٨١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٠، مسند احمد ج ٣ ص ٢٣١)
(٧) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور ایلہ میں فاصلہ ہے اور اس میں ستاروں کے عدد کے برابر کو زے ہیں۔ (التاریخ الکبیر للامام البخاری ج ٣ ص ٣٢٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٣٢ المعجم الکبیرج ٨ ص ١٤٠ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٤٥ )
(٨) حضرت عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر منبر پر چڑھ کر یہ خطبہ دیا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارے حق میں گواہی دینے والا ہوں اور میں اپنے حوض کو اب بھی دیکھ رہا ہوں جب کہ میں اس مقام میں ہوں اور بیشک اللہ کی قسم ! مجھے یہ خطرہ نہیں ہے کہ میرے بعد تم (سب) شرک میں مبتلا ہو جائو گے، لیکن مجھے یہ دکھایا گیا ہے کہ مجھے تمام روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ تم اس میں رغبت کرو گے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ١٣٤٤ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٢٢٣، مسند احمد ج ٤ ص ١٤٩ المعجم الکبیرج ٣ ص ٦٤ )
(٩) حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری امت میں سے ستر ہزار کو بغیر حساب کے جنت میں اخل کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کا حوض کتنا وسیع ہے ؟ آپ نے فرمایا : عدن اور عمان سے زیادہ وسیع ہے۔ اس میں سونے اور چاندی کے دو پرنالے ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، جس نے اس کو پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور اس کا منہ کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (مسند احمد ج ٥ 250 المعجم الکبیر رقم الحدیث :7672 البعث والنثور للبیہقی رقم الحدیث : ١٣٤)
(١٠) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الکوثر جنت میں ایک دریا ہے، جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا بہائو موتی اور یاقوت پر ہے اور اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے اور برف سے زیادہ سفید ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :3361، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٣٤، مسند احمد ج ٢ ص ٧٦، المستدرک ج ٣ ص 171 شرح السنہ ٨ ص ٧٣٢)
(١١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ : الکوثر وہ خیر کثیر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو عطا فرمائی ہے اور سعید بن جبیر نے کہا کہ یہ جنت میں ایک دریا ہے، جس میں خیر کثیر ہے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٥٧٨ المستدرک ج ٢ ص 537)
(١٢) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میرے متعبین تمام انبیاء کے پیروکاروں سے زیادہ ہوں گے اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٣١، السنن الکبری للبیہقی ج ٩ ص ٤، شرح السنہ ج ١٥ ص ١٦٦، مسند ابوعوانہ ج ١ ص ١٠٩ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٥٠٣)
(١٣) حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء پر (یا یہ فرمایا کہ) میری امت کو تمام امتوں پر چار خصوصیات کے ذریعہ فضیلت عطا فرمائی ہے، مجھے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، پوری زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا، سو میرا امتی جہاں نماز کا موقع پالے، وہی جگہ اس کے لئے سجدہ گاہ اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے جو کہ میرے آگے ایک ماہ کیمسافت تک قائم ہوتا ہے اور میرے دشمنوں کے دلوں میں میری دھاک بٹھاتا ہے اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢١ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٥٣، جمع الجوامع للسیوطی رقم الحدیث : ٤٨٨٨ مسند احمد ج ٢ ص ٢٢٢، مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث : ٤٠٠١)
(١٤) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے چار چیزوں کے ذریعہ لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی ہے : بہادری، سخاوت، کثرت جماع اور شدت ضبط (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٦٠ تاریخ بغداد ج ٨ ص ٧٠ تہذیب تاریخ دمشق ج ٤ ص ٣٤٧
(١٥) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کو اتنے معجزات عطا کئے گئے ہیں، جن کی مثل پر کوئی بشر ایمان لاسکتا ہے اور مجھے جو چیز عطا کی گئی ہے وہ اللہ کی وحی ہے جو اس نے میری طرف فرمائی، سو مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے متبعین سب سے زیادہ ہوں گے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٤٩٨١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٢، السنن الکبریٰ للنسائی کی رقم الحدیث : ١١١٢٩ )
یہ تمام احادیث حافظ ذہبی متوفی 748 ھ نے اللہ کی نعمتوں کی تفسیر میں بیان کی ہیں۔ (سیرا علام النبلاء ج ١ ص 411-416، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابی بن کعب (رض) باین کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة والضحیٰ ختم کرلیتے تو اس کے بعد اللہ اکبر پڑھتے، پھر آخر قرآن تک ہر سورت کے درمیان اللہ اکبر پڑھتے اور سورت کے آخر کو تکبیر کے ساتھ نہیں ملاتے تھے بلکہ ان کے درمیان فصل کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جب کئی دنوں تک وحی نہیں آئی اور مشرکین طعنہ دینے لگے تھے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا :” ماودع ربک وما قلی “ (الضحیٰ : ٣) اور پھر لگاتار وحی نازل ہونے لگی تو آپ اس کا شکر ادا کرنے کے لئے اس طرح اللہ اکبر پڑھتے ” والضحیٰ “ کو ختم کرنے کے بعد قرآن تک ہر سورت کے آخر میں اللہ اکبر پڑھنا مستحب ہے، اگر کوئی نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٩١ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر کا اختتام
الحمد للہ رب العلمین ! آج ٤ شوال ١٤٢٦ ھ /٧ نومبر ٢٠٠٥ ھ بعد از نماز ظہر سورة الضحیٰ کی تفسیر مکمل ہوگئی، میں نے تھکاوٹ کمزوری اور بیماری کے ابوجود ” الضحیٰ “ کی تفسری کے لئے بہت مطالعہ کیا، بہ کثرت احادیث کو تلاش کیا اور بسیا غور و فکر کے بعد بہت سے نکات کا استخراج کیا، اللہ تعالیٰ اس عاجز کی سعی کو قب ول فرمائے، ٢٧ اکتوبر کو اس سورت کی تفسیر کی ابتداء کی تھی، اس طرح گیارہ دنوں میں اس کی تفسیر مکمل ہوگئی۔
یا رب العلمین ! جس طرح آپ نے یہاں تک پہنچا دیا ہے، قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور میری مغفرت فرما دیں۔
و صلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ سیدنا محمد خاتم النبین قائد المرسلین شفیع المذنبین و علیٰ آلہ و اصحابہ و ازواجہ وذریاتہ وامتہ اجمعین