اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر ہے۔
الضحیٰ : ٤ میں فرمایا : اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر ہے۔
دن بہ دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت اور کرامت کا زیادہ ہونا
یعنی اللہ تعالیٰ دن بہ دن آپ کی عزت اور وجاہت میں اضافہ فرماتا رہے گا اور فراعنہ وقت اور منکروں اور معاندوں پر آپ کو غلبہ عطا فرماتا رہے گا اور آپ کو بہ کثرت فتوحات عطا فرماتا رہے گا اور آپ کے متبعین اور پیروکار بڑھاتا رہے گا اور آپکے علوم اور معارف اور درجات میں ترقی عطا فرماتا رہے گا اور آپ کا ہر بعد والا زمانہ پہلے زمانہ سے بڑھ چڑھ کر اور افضل اور اعلیٰ ہوگا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی مہمات کے مقابل ہمیں اخروی درجات کی ترقی میں کوشش کرنا آپ کے زیادہ لائق ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا، آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے عزت اور جاہت حاصل ہوئی اور آپ کو اس سے خوشی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ مرتبہ اگرچہ عظیم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس آپ کے لئے آخرت میں اس سے بھی بڑا مرتبہ ہے، نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہر روز ہر ساعت اللہ تعالیٰ آپ کو گزری ہوئی ساعت سے بڑھ کر عزت اور بلندی عطا فرمائے گا، آپ یہ نہ گمان کریں کہ میں آپ سے ناراض ہوں بلکہ میں ہر روز آپ کو پہلے سے زیادہ سعادت اور کرامت عطا فرمائوں گا۔
اگریہ سوال کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے آخرت دنیا سے کس وجہ سے افضل ہوگی اور کس اعتبار سے فزوں تر ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حسب ذیل وجوہ سے آپ کے لئے آخرت، دنیا سے افضل اور اعلیٰ ہوگی۔
آپ کی آخرت کا آپ کی دنیا سے افضل ہونا
(١) آپ کی امت آپ کے لئے بہ منزلہ اولاد ہے اور آخرت میں آپ کی امت جنت میں ہوگی اور اولاد پر نعمت دیکھ کر اس کے باپ کو خوشی ہوتی ہے۔
(٢) آپ نے اللہ تعالیٰ سے جنت کو خرید لیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ (التوبہ : ١١١) بیشک اللہ نے مئومنین سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلہ میں خر ید لیا ہے۔
سو آخرت اور جنت آپ کی مملوک ہے اور دنیا آپ کی مملوک نہیں ہے، سو مملوک میں رہنا غیر مملوک میں رہنے سے افضل ہے۔
(٣) دنیا میں کافر آپ کو تنگ کرتے ہیں اور ستاتے ہیں اور آخرت میں آپ کی امت تمام امتوں پر گواہ ہوگی اور آپ تمام نبیوں اور رسولوں پر گواہ ہوں گے اور اللہ کی ذات آپ پر گواہ ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وکفی باللہ شھیداً ۔ (الفتح : ٢٨) اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ یہ بہت بڑی عظمت اور فضیلت ہے، جو آپ کو آخرت میں حاصل ہوگ ی۔
(٤) د نیا کی حسنات اور لذات، آفات اور پریشانیوں سے گھری ہوئی ہیں اور قلیل اور فانی ہیں اور آخرت کی نعمتیں، پریشانیوں اور افکار سے خالی ہیں اور بہت زیادہ ہیں اور دائمی اور غیر مقنطع ہیں۔