الضحیٰ : ٨ میں فرمایا : اور آپ کو ضرورت مند پایا تو غنی کردیا۔
” عائل “ کا معنی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غنی کرنے کے محامل
اس آیت میں ” عائل “ کا لفظ ہے ” عائل “ کا معنی ہے : مفتقر اور فقیر، یعنی آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کے پاس ضروتر کی چیزیں نہ تھیں تو آپ کو تجارت کے نفع کے ذریعہ غنی کردیا، یہ اس وقت ہوا جب آپ حضرت خدیجہ (رض) کے غلام میرسہ کے ساتھ تجارت کے سفر پر شام کی طرف روانہ ہوئے، حضرت خدیجہ (رض) مکہ مکرمہ کی مال دار خاتون تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے عقد نکاح کرلیا اور انہوں نے اپنا تمام مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کردیا، پھر اسالم کی فتوحات کے ذریعہ آپ کو بہ کثرت مال غنیمت اور مال فے حاصل ہوا اور یوں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال دنیا سے غنی کردیا۔
اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے مال پر آپ کو قناعت کرنے والا بنادیا اور آپ کے دل کو غنی کردیا اور ہوسکتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی وجہ سے آپ کو اپنے ماسوا سے غنی کردیا، آپ صرف اللہ عزو جل کی طرف مفتفر تھے تو اللہ تعالیٰ نے سارے عال م سے آپ کو غنی کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دعا کی تعلیم دی ہے :
اللھم اغننی من الفقر۔ اے اللہ ! مجھے فقرے غنی کر دے۔ (المعجم الکبیرج ٢٠ ص 332، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص 615)
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کے لحاظ سے فقیر پایا تو آپ کو آخرت کی نعمتیں دکھا کر دنیا سے غنی کردیا اور جب آپ نے وہ نعمتیں دیکھیں جن کا آپ سے وعد کیا گیا ہے اور آخرت کی عزتیں اور وجاہتیں دیکھیں تو پھر آپ کی نظر میں دنیا حقیر ہوگئی، حتیٰ کہ آپ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہ تھی، حدیث میں ہے :
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چٹائی پر سو گئے، جب آپ اٹھے تو آپ کے پہلوئوں میں چٹائی کے نشانات ثبت ہوگئے تھے، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لئے بستر بنادیں، آپ نے فرمایا : میرا دنیا سے کیا تعلق ہے میں اس دنیا میں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو کسی درخت کے سائے میں آتا ہے، پھر اس کو چھوڑ کر روانہ ہوجاتا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :2377، مسند احمد ج ١ ص 391)
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص لطف سے آپ کو غنی کردیا ہو جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا، آپ سے کہا گیا : یا رسول اللہ ! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، میں تم میں سے کسی کی مثل نہیں ہوں، بیشک میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1965)
پس اس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف سے آپ کو غنی کردیا ہو اور ہمیں آپ نے اس سے مطلع نہ فرمایا ہو۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 478 مئوسستہ الرسالۃ ناشرون ١٤٢٥ ھ)