Site icon اردو محفل

ملحدین / Athiests

ملحدین/Athiests :

دہریہ لوگ اسلام سے پہلے قبل مسیح کے دور سے چلے آ رہے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت بھی یہ طبقہ موجود تھا۔ قرآن انکا نام لیکر انکی تردید کرتا ہے :
وَقَالُوْا مَاهِیَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ
یعنی ان لوگوں نے کہا کہ ہماری زندگی بس یہی دنیا ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اور ہمیں دہر(زمانہ) ہی ہلاک کرتا ہے۔ (الجاثیہ : ۲۴)

دہریہ لوگ ہر بندھن سے آزاد ہو کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگ علی الاعلان نکاح کی مخالفت کر رہے ہیں اور اپنے لیے ہر عورت کو جائز کہہ رہے ہیں۔ تو پھر یہ لوگ اپنی ماں بہن اور تمام جانوروں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ قرآن اسی لیے فرماتا ہے کہ: ان لوگوں نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا ہے(الجاثیہ : ۲۳)۔ سچے خدا کا انکار کرنے کی نحوست اس طرح ظاہر ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو ملحد بھی کہا جاتا ہے اور یہ خود کو ملحد مانتے بھی ہیں۔ قرآن فرماتا ہے :
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهٗ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِیْ أَسْمَائِهٖ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یعنی اور سب سے اچھے نام ﷲ ہی کے ہیں تو اسے انہی ناموں سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں الحاد اختیار کرتے ہیں، عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (الاعراف: ۱۸۰)۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِیْ آيَاتِنَا لَا يَحْفَوْنَ عَلَيْنَا اَفَمَنْ يُلْقٰى فِی النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ یَّأتِی اَمِنًا یَوْمَ الْقِيَامَةِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ

یعنی بـے شک وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں، تو کیا جو آگ میں جھونکا جائے گا وہ اچھا ہے یا جو قیامت کے دن بـے خوف ہو کر آئے گا وہ اچھا ہے؟ جو چاہو کیے جاؤ بے شک وہ تمہارے سب کام خوب دیکھ رہا ہے (فصلت: ۴۰)۔

واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کے سامنے ملحدین کوئی نیا معمہ نہیں ہیں بلکہ ملحدین کے لیے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہر سوال کا جواب پہلے ہی قرآن و حدیث کے علاوہ اسلامی عقائد کی کتابوں میں تفصیل سے دیا جا چکا ہے، مثلاً : كتاب التوحيد للماتريدی، كتاب الابانہ للاشعری، الاقتصاد للغزالی، شرح عقائد نسفی ، عقیدہ طحاویہ، شرح مواقف ، شرح مقاصد وغیرہ۔

صدیوں سے تمام مدارس کے نصاب میں شامل کتاب شرح عقائد نسفی کے صفحہ ۳۲ سے یہ بحث شروع ہوتی ہے جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں : اَلْمُحْدِثُ لِلْعَالَمِ هُوَ اللّٰهُ تَعَالٰی
یعنی اس جہان کا پیدا کرنے والا ﷲ تعالیٰ ہے۔ اس کتاب میں : صفحہ ۱۲ پر علم کے ذرائع ، صفحہ ۲۴ پر حدوث عالم یعنی اس جہان کا مخلوق ہونا، صفحہ ۳۲ پر خالق و محدث کا وجود صفحہ ۵۸ پر قرآن کی حقانیت اور صفحہ ۱۳۶ پر نبوتِ مصطفی صلی ﷲ علیہ وسلم کا ثبوت جیسے دلائل پر مفصل بحث آج بھی موجود ہے۔ پھر انہی صدیوں پرانے سوالوں کو دوبارہ دہرا دینا محض شرارت نہیں تو اور کیا ہے؟

پھر بھی تم لاکھ رنگ روپ اور انداز بدل لو، ان شاءﷲ ہر رنگ کو کاٹ دیا جائے گا، ہر روپ کو بہروپ ثابت کر دیا جائے گا اور ہر انداز کو عصری تقاضوں کے مطابق ناساز کر دیا جائے گا۔

Exit mobile version