۱۹۸۰ء میں شرح صحیح مسلم لکھنے کا آغاز ہوا، اس وقت کے پبلیشر سید حامد صاحب کے بے حد دباؤ کی وجہ سے میں نے جلد اول بہت مختصر لکھی پھرمیں بیمار پڑگیا اور چار سال تک یہ کام التواء میں پڑا 6 جولائی 1985 کو میں لاہور سے کراچی آگیا اور یہاں آکر اللہ تعالٰی کے فضل سے میری صحت بہتر ہوگئی صحت بہتر ہوگئی ، مارچ ۱۹۸۶ء میں فرید بک سٹال کے مالک سید محمد اعجازصاحب کراچی آئے اور مجھ سے دوبارہ شرح صحیح مسلم لکھنے کا وعدہ لے لیا، اور یوں شرح صحیح مسلم کی نشاۃ ثانیہ ہوئی میں نے سید اعجاز صاحب سے کہا میں تفصیل سے لکھوں گا، اور پھر میں نے بہت شرح وبسط کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا اور جنوری ۱۹۹۳ء میں اس کی سات جلدیں مکمل ہو گئیں ، چونکہ پہلی جلد باقی چھ جلدوں کی بہ نسبت بہت مختصر تھی اس لیے سید اعجاز صاحب اور بہت سے اہل علم حضرات کا تقاضا تھا کہ اس کو بھی باقی جلدوں کے منہاج پر از سر نو تفصیل سے لکھیں تاکہ ساتوں جلدیں ایک منہاج پر ہوں سومیں نے ساتویں جلد کی کمی کے بعد باقی جلدوں کی طرز پر پہلی جلد کو لکھنا شروع کر دیا او الحمداللہ فروری 1994 کے وسط میں اسکی تکمیل ہوگئی۔ میں نے جب شرح صحیح مسلم کو بہت تفصیل کیسا تھ لکھنا شروع کیا تھا تو بعض دوستوں نے کہا آپ مختصرلکھتے تویہ مکمل ہوجاتی پتا نہیں عمر وفا کرے یا نہ کرے اور اس کی تکمیل ہوسکے یا نہیں، لیکن اللہ تعالی کا بے پایا احسان ہے شرح صحیح مسلم نہ صرف یہ میری زندگی میں مکمل ہوئی اور اس کے کئی ایڈییشن نکل گئے اور برصغیر پاک و ہند کے علاوہ یورپ امریکہ اور افریقہ کے دوردراز علاقوں تک یہ کتاب پہنچ گئی اور اس کتاب کو پڑھا گیا اور ہرطبقہ میں اس کی پزیرائی ہوئی۔
متقدمین سے اختلاف رائے کی تحقیق
ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تمام ائمہ شریعت اوع علما طریقت اور مرجع انام اساتذہ اور علما اپنے تمام اعزاز و اکرام کے عالم اورباوجود بندے اور بشر ہیں ، نبی نہیں ہیں اور نہ معصوم ہیں ، ان کی رائے میں خطا واقع ہوسکتی ہے اور کوئی غیر نبی انسان اس سے مستثنی نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم اور فقیہ اور عابد و زاہد کیوں نہ ہوں اور کیسا مشہور عاشق رسول کیوں نہ ہو، کسی عالم یا فقیہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کی تحریر معصوم ہے اور اس میں خطا واقع نہیں ہوسکتی، شرک فی الرسالت کے مترادف ہے اور اس شخص کو امتی کے مقام سے اٹھا کہ نبی کے مقام پر کھڑا کرنے کے قائم مقام ہے۔ العیاذ باللہ!! علامہ شامی نے لکھا ہے کہ فرعون کا کفر اجماعی ہے لیکن امام محی الدین ابن عربی کا اس میں اختلاف ہے علامہ ابن حجر نے زوالجر میں لکھا ہے کہ ہر چند کہ ہمیں ان کی جلالت علم کا اعتراف ہے اس کے باوجود ان کا یہ قول مردود ہے کیونکہ عصمت صرف انبیاء علیہم السلام کے لیے ہے۔ ردالمختار ج ۳ ص ۴۰۰ مطبوعہ استنبول ۱۳۲۷
علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں : و یا بی الله العصمة لكتاب غيرکتابہ ۔
اللہ تعالٰی اپنی کتاب (قرآن مجید) کے سوا ہر کتاب کی عصمت کا انکار فرماتا ہے ۔
علامہ شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں،
اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب عزیز کے سوا کسی کتاب کے لیے عصمت کو مقرر نہیں کیا یا کسی اور کتاب کی عصمت پر راضی نہیں ہے،
یہ صرف اسی کی کتاب کی شان ہے جس کے حق میں فرمایا ،
لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه -حم السجدة ، (۴۲)
اس کتاب میں باطل سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے
سو قرآن مجید کے علاوہ دوسری کتابوں میں خطائیں اور لغزشیں واقع ہوتی ہیں ، کیونکہ وہ انسان کی تصنیفات ہیں اور خطا اور لغزش انسان کی سرشت ہے ۔
علامہ عبد العزیز بخاری نے اصول بزدومی کی شرح میں لکھا ہے کہ بویطی نے امام شافعی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ امام شافعی نے کہا میں نے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے ، میں نے اس میں صحت اور صواب کو ترک نہیں کیا لیکن اس میں ضرور کوئی نہ کوئی بات اللہ تعالٰی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہوگی، اللہ تعالے نے فرمایا ہے :
ولو كان من عند غير الله لوجد وأ فيه اختلافا كثيرا (النساء : ۸۲)
اور اگر قرآن اللہ کے غیر کی جانب سے ہوتا تو لوگ اس میں ضرور بہت سے اختلافن پاتے ۔
لہذا تم کو اس کتاب میں جو بات کتاب اللہ، اور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ملے اس کو چھوڑ دو کیونکہ میں کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کرنے والا ہوں، مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شافعی کی کتاب الرسالہ ان کے سامنے اسی مرتبہ پڑھی، اور ہر مرتبہ امام شافی اس میں کسی خطا پر مطلع ہوئے ، بالاخر امام شافعی نے فرمایا : اب چھوڑ دو۔ اللہ تعالی اس بات سے انکار فرماتا ہے کہ اس کی کتاب کے سوا اور کوئی کتاب صحیح ہو۔رد المحتار ج ا ص ۲۶، مطبوعہ استنبول، ۱۳۲۷ھ)
اس کتاب میں میں نے بعض مقامات پر چند اکابر علماء کی تحقیق سے دلائل کے ساتھ اختلاف کیا ہے، اس پر بعض جمود پسند لوگوں نے برا منایا اور یہ کہا گیا کہ کیا یہ ان سے بڑے عالم ہیں ! کیا ان اکابر کو ان دلائل کا علم نہیں تھا ؟ علم اور تحقیق کی روشنی میں یہ بہت کمزور بات ہے آخر ان اکابر نے بھی تو اپنے متقدمین اور ان اکابرین سے اختلاف کیا ہے جن کا علم و فضل سب کے نزدیک مسلم اور اور ان سے زیادہ تھا . تو کیا ان اکابر علما کا علم ائمہ مجہتدین اور صحابہ کرام سے زیادہ تھا یا ائمہ مجتہدین اورصحابہ کرام کو ان کے دلائل کا علم نہیں تھا؟ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر میں تحقیق کرنے والے علماء کو جمود پسندوں سے واسطہ پڑا ہے اور وہ ان کے اعتراضات کا نشانہ بنے ہیں ، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے بعض مقامات پر علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ کی تحقیقات سے اختلاف کیا تو ان کو بھی ایسے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا ، امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے (اور قریب الوفات تھے، تو حضرت صہیب روتے ہوئے آئے اور کہا وا اخاہ وا صاحباہ حضرت عمر نے فرمایا اے مہیب تم مجھ پر رو رہے ہو! حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے
میت کے بعض گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرفوت ہو گئے تو میں نے حضرت عائشہ ام المومین رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا حضرت عائشہ نے فرمایا تعالی عمر پر رحم کرے بہ خدا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میت کے بعض گھر والوں کے رونے سے میت کو ۔ میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، لیکن اللہ تعالی کافر کے گھر والوں کے رونے سے اس کے عذاب کو زیادہ کرتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کا یہ آیت کافی
ہے:
ولا تزر وازرة وزر اخراى .
(زمر :)7
اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ صحیح بخاری ج ۱ص ۱۷۲ صحیح مسلم ج ۱ ص ۳۰۳، مطبوعہ کراچی
) حضرت عمر کا علم وفضل اور مرتبہ صحابیت حضرت عائشہ سے بہت زائد تھا، اس کے باوجود حضرت عائشہ نے دلیل کے ساتھ حضرت عمر سے اختلاف کیا اس حدیث کی تشریح میں علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہو کہ مجتہد دلیل کے تابع ہے، اور اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ دوسرے مجتہد کی رائے کو خطا قرار دے اور اس کے غلط ہونے یہ قسم کھائے خواہ وہ دوسرا مجتہد اس سے زیادہ مرتبہ کا ہو اور اس سے زیادہ علم والا ہو، کیونکہ حضرت عمر کا مرتبہ اور علم حضرت عائشہ سے بڑا اور زیاد تھا۔
ملا علی قاری ، علامہ ابن حجر مکی کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں
علامہ ابن حجر کی اس عبارت میں ہمارے زمانے کے بعض شافعی علماء کے خلاف صحیح نقل اور صریح دلیل ہے، یہ تقلید کی پستی سے نہیں نکلے اور تقییر کی قید سے آزاد نہیں ہوئے اور میدان تحقیق میں وارد نہیں ہوئے کیونکہ ہم جہاں علامہ ابن حجر کی کسی غلط بات کا رد کرتے ہیں تویہ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا جیسا شخص شیخ الاسلام مفتی الانام ابن حجر پر اعتراض کر رہا ہے جوائمہ اعلام کے نزدیک علم کے پہاڑوں میں سے ایک بہت بڑا پہاڑ ہے حالانکہ علامہ ابن حجر خود ہماری تائید میں یہ کہہ رہے ہیں کہ دلائل کے ساتھ اکابر سے اختلاف کرنا اور ان کی رائے کوغلط قرار دینا جائز ہے۔
المرقاة شرح مشکوة ج ۴ ص ۱۰۱ – ۱۰۰ مطبوعہ مکتبہ امدادیه ملتان)
مصنف کے رجوع کردہ مسائل کا بیان
میں نے چند مسئلوں میں اپنے سابقہ نظریہ سے رجوع کرلیا ہے میں نے شرح صحیح مسلم جلد ثالث طبع اول میں لکھا تھا کہ روزہ دار اگر انجکشن لگوائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن جب میں نے اس پر مزید غور وفکر کیا تو مجھ پر منکشف ہوا کہ انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے چنانچہ شرح صحیح مسلم جلد ثالث طبع ثانی میں ، میں نے لکھا ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور جلد ثالث کے آخر میں اس سے بتعلق ایک ضمیمہ لگادیا ہے اس جلد اول میں بھی اس کی وضاحت کی ہے، شرح صحیح مسلم جلد رابع طبع اول میں لکھا تھا کہ اگر رجم کے وقت چند پتھر مار کع گولی مار دی جائے تو رجم کا تقاضہ پورا ہوجائے گا ، بعد ازاں طبع ثانی میں یہ لکھ دیا کہ گولی مارنے کو رجم کا حصہ نہ بنایا جائے اگر کسی نے اتفاقا گولی ماردی تو رجم کا تقاضہ پورا ہوجائے گا شرح صحیح مسلم جلد اول میں ڈاڑھی میں قبضہ کو واجب لکھا تھا ، طبع چہارم میں لکھ دیا کہ قبضہ سنت ہے اس کی پوری تفصیل اور تحقیق شرح صحیح مسلم جلد سادس میں۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو میں نے شرح صحیح مسلم جلد ثالث طبع اول میں ہاشمیہ لکھ دیا تھا اور طبع ثانی میں تفصیل سے لکھ دیا ہے کہ وہ ہاشمیہ نہیں ان کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے ہے، اسی طرح ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك كے ترجمہ میں ، میں نے اپنے سابق نظریہ سے رجوع کر لیا ہے اس کی تفصیل جلد ثالث، سادس اور سابع میں ہے، یہ وہ کل مسائل ہیں جن میں میں نے رجوع کیا ہے، اس کے علاوہ کچھ کتابت کی اغلاط سامنے آتی رہتی ہیں جن کی ہر ایڈ یشن میں اصلاح کر دی جاتی ہے اور غور و فکمہ اور اصلاح کا یہ عمل ان شاء اللہ میری زندگی تک جاری رہے گا ۔
کتاب وسنت اور اجماع کے خلاف مصنف کی رائے حجت نہیں
میں نے جن عصری مسائل میں کوئی رائے قائم کی ہے اس کی اساس قرآن مجید مستند احادیث اور اجماع ہے اور بعض جگہ قیاس سے بھی استدلال کیا ہے تا ہم اگر کسی مسئلہ میں میری رائے کتاب وسنت یا اجماع کے خلاف ہو تو اصل حجت کتاب و سنت اور اجماع ہے ، میری رائے کی کوئی حیثیت نہیں اور جن مواضع میں میں نے امام اعظم کے قول یا دوسرے علماء احناف سے اختلاف کیا ہے اس کی وجہ نظریہ ضرورت ہے ، اور ہمارے فقہا احناف نے ضرورت کی بنا ۔ پر دوسرے ائمہ کے قول پر فتوی دینے کو جائز قرار دیا ہے ، یا اس کی وجہ اتباع حدیث ہے مثلا عید کے بعد چھ روزے رکھنے کو امام اعظم نے مکروہ کہا ہے اور حدیث میں اس کی فضیلت ہے اس جگہ ہمارے فقہا نے حدیث کو مقدم رکھا ہے،علامہ امجد علی نے بھی یہاں حدیث کے مطابق لکھا ہے ، اسی طرح جن بعض تراجم اور مسائل میں میں نے دوسرے علماء سے اختلاف کیا ہے ان کی بنیاد قوی دلائل ہیں تاہم اگر کوئی شخص میرے ذکر کردہ دلائل سے مطمئن نہیں ہے تو جس قول کی دلیل سے وہ مطمئن ہو اس پر عمل کرے ۔
شرح صحیح مسلم پر معاندین کے اعتراضات کی بحث
فارسی کا ایک مقولہ ہے نہ کردن یک عیب وکردن صد عیب کام کا نہ کرنا تو ایک عیب ہے اور کام کرنے والے کے کام میں سو عیب نکال لیے جاتے ہیں، یقیناً عصر حاضر میں ایسے اجلہ اور اکابر علما اہل سنت موجود ہیں جن کا علمی مرتبہ مجھ سے بہت بڑا ہے اور مختلف مسائل میں ان کے تفردات ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے مخصوص مشاغل کی وجہ سے وہ اپنے انفرادی نظریات کو ضبط تحریر میں نہیں لاسکے، یا اگر ان کے نظریات کی اشاعت ہوئی بھی تو ہ اس قدر کم تھی کہ عام لوگ اس پر مطلع نہ ہوسکے یا ان کی بزرگی اور شہرت کی وجہ سے ان سے صرف نظر کر لیا گیا، عربی کا مشہور مقولہ ہے من صنف فقد استهداف (جس نے کوئی کتاب تصنیف کی وہ اعتراضات کا نشانہ بن گیا اور شرح صحیح مسلم الحمداللہ ایک ضحیم کتاب ہے اور اس میں صد ہا امہات الکتب کے حوالہ جات ہیں اور اللہ رب العزت کے کے خصوصی فیضان کرم سے اسے قبولیت عام نصیب ہوئی اور تکمیل سے پہلے ہی اس کے چار ایڈیشن ہا تھوں ہاتھ نکل گئے۔ میں بارگاہ الوہیت میں سراپا تشکر و امتنان ہوں کہ سیجعل لهم الرحمن ودا کے مصداق اس نے اس کتاب کو اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں جگہ دی ۔ اگرچہ اس کتاب کی تحسین کرنے والوں کی تعداد اس سے عناد رکھنے والوں سے بہت زیادہ ہے تاہم اس کے بعض مقامات یا مسائل سے سے اختلاف کا اظہار اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو نہایت توجہ ثررف بینی اور ناقدانہ نظر سے پڑھا گیا ہے، اور یہ امر بجائے خود مصنف اور کتاب کے لیے وجہ افتخار ہے، اور یہ سب انعامات الہیہ اس حقیقت کے باوجود ہیں کہ ابلاغ و تشہیر کے اس دور میں نہ تو اس کتاب کی تقریب تعارف یا رونمائی منعقد کی گئی اور نہ جدید تشہیری ذرائع استعمال کیے گئے ، میں نے اس سے پہلے بھی مختلف جلدوں کے پیش ہائے لفظ میں لکھا ہے اور اب ایک بار بارپھر اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ دلائل حقہ اور اخلاص پر مبنی ناصحانہ مشوروں کو میں قبول کروں گا اور خالص علمی اختلاف کا خیر مقدم کروں گا اور میں عجب نفس اور انانیت اور معاندین کے شخصی اور گروہی بغض عناد اورتعصبات کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔
امام سے مقلد کے اختلاف کرنے کی تحقیق
ایک بحث یہ اٹھائی جاتی ہےکہ اگر مقلد کو اپنے امام کے قول کے خلاف کوئی حدیث مل جائے تو آیا وہ اپنے امام سے اختلاف کرکے اس حدیث پر عمل کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں بھی ہم سب سے پہلے حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں، امام بخاری روایت کرتے ہیں :
عن عكرمة ان اهل المدينة سألوا ابن عباس عن امرأة طافت ثم حاضت قال لهم تنفر قالوا لا نأخذ بقولک وندع قول زيد قال اذا قدمتم المدينة فاسئلوا فقدموا المدينة فكان فى من سألوا ام سلیم فذكرت حدیث صفية – صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۳۷ مطبوعہ کراچی
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا کہ جس عورت نے طواف ( زیارت ) کرلیا ہو پھر اس کو حیض آجائے (توہ آیا وہ طواف وداع بغیر واپس جا سکتی ہے ؟) حضرت ابن عباس نے فرمایا : جا سکتی ہے، اہل مدینہ نے کہا: ہم آپ کے قول کی وجہ سے حضرت زید بن ثابت کے قول کو ترک نہیں کریں گے، حضرت زیدہ کہتے تھے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر نہیں جاسکتی حضرت ابن عباس نے فرمایا جب تم مدینہ جاؤ تو اس مسئلہ کی تحقیق کرلینا ، جب وہ مدینہ گئے تو انھوں نے اس کی تحقیق کیا، اور حضرت ام سلیم سے بھی پوچھا انھوں نے حضرت صفیہ کی (یہ) حدیث بیان کی (کہ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ کو طواف وداع کیے بغیر جانے کی اجازت دی تھی ۔
جب اہل مدینہ کو حضرت صفیہ کی حدیث مل گئی تو انھوں نے حضرت ابن عباس کے پاس جا کہ حق کا اعتراف کرلیا : حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
فرجعوا الى ابن عباس فقالوا وجدنا الحديث كما حدثتنا –
پھر اہل مدینہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے اور کہا جس طرح آپ نے ہمیں حدیث سنائی تھی، ہمیں اسی طرح حدیث مل گئی ۔
فتح الباری ج ۳ ص ۵۸۸ ، طبع لاہور
اور حضرت زید بن ثابت کو جب یہ حدیث مل گئی تو انھوں نے بھی رجوع فرما لیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی، امام مسلم اور امام نسائی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قال فرجع اليه : فقال ما اراك الاقد صدقت لفظ مسلم وللنسائى كنت عند ابن عباس فقال لہ زید بن ثابت انت الذي تفتی وقال فيه فسالها ثم رجع وهو يضحك فقال : الحديث كما حدثتني –
فتح الباري ج ۲ ص ۵۸۸ طبع لاهور
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت زید بن ثابت نے رجوع کر لیا اور حضرت ابن عباس سے فرمایا مجھے یہ یقین ہے کہ آپ نے سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہا، یہ صحیح مسلم کی عبارت ہے اور سنن نسائی میں یہ عبارت ہے: عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا ، ان سے حضرت زید بن ثابت نے پوچھا آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس انصاری خاتون سے اس کے متعلق حدیث معلوم کرلو ، حضرت زید نے ان سے
حدیث پوچھی اور ہنستے ہوئے (اپنے قول سے) رجوع کرلیا اور کہا جس طرح آپ نے بیان کیا تھا، اسی طرح حدیث ہے۔
اس حدیث میں تقلید شخصی کا بھی ثبوت ہے کہ اہل مدینہ حضرت زید بن ثابت کے فتوی کی تقلید کرتے تھے اور یہ بھی دلیل ہے کہ اگر امام کے قول کے خلاف دلیل مل جائے تو حدیث پر عمل کرنا تقلید شخصی کے خلاف نہیں ہے ۔
نیز ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ شوال کے چھ روزوں کو امام اعظم نے مکروہ کہا ہے، لیکن چونکہ حدیث میں ان ان فضیلت کا بیان ہے اس لیے ہمارے فقہار نے یہاں اپنے امام کے قول کو ترک کرکے حدیث پر عمل کیا ہے ہے حتی کہ علامہ امجد علی رحمہ اللہ نے بھی شوال کے چھ روزوں کو مستحب لکھا ہے ، اور امام اعظم کے قول کی یہ توجیہ ہے کہ ان کو یہ حدیث نہیں پہنچی ۔ اسی طرح اور بہت سے مسائل ہیں ہمارے فقہا نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے سے اختلاف کیا ہے اعلی حضرت امام احمد رضا ہمارے مسلم عالم ہیں انھوں نے کئی مسائل میں امام اعظم کے قول کے برخلاف کہا ہے،مثلا احادیث اوراعمار میں بیع عینہ کی سخت مذمت ہے، اسی بناء پر امام مالک، امام احمد اور امام اعظم ابوحنیفہ نے بیع عینہ کو حرم قرار دیا ہے اور اعلی حضرت نے لکھا ہے کہ بیع عینہ جائز ہے اور کار ثواب ہے فتاوی رضویہ ج ۷ ص ۱۷۲، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) اس کے جواب میں معترضین کہتے ہیں کہ جن مسائل میں اصحاب ترجیح نے امام اعظم کے قول کے خلاف امام ابویوسف یا امام محمد کے قول پر فتوی دیا ہے وہاں اعلیٰ حضرت نے ایسا کیا ہے، اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ قدوری اور صاحب ہدایہ اصحاب ترجیح ہیں اور انھوں نے امام اعظم اور امام محمد کے قول کے مطابق بیع عینہ کو حرام لکھا ہے ہدایه اخیرین ص ۵۷،۵۸مطبوعه مطبوعہ ملتان) ثانیاً اصحاب ترجیح بھی تو امام اعظم کے مقلد ہیں ان کے لیے اپنے امام سے اختلاف کرنا کس طرح جائز ہوگیا ؟ معترضین جواب میں کہتے ہیں کہ انھوں نے دلائل کے ساتھ امام اعظم سے اختلاف کیا ہے، ہم کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہماری بات مان لی کہ اعتبار دلائل کا ہے شخصیت کا نہیں ہے، معترضین کہتے ہیں کہ تمہارے علم اور اصحاب ترجیح کے علم میں بہت فرق ہے ، ان کا علم اس پایہ کا تھا کہ وہ امام اعظم اور اورصاحبین کے اقوال میں محاکمہ کرکے ان میں سے کسی کے قول کو تر جیح دے سکتے تھے ہم کہتے ہیں کہ اصحاب ترجیح کا علم امام اعظم اور صاحبین کے علم کے مقابلہ میں بہت کم ہے، پھر ان کے لیے کیسے جائز ہوگیا کہ وہ امام اعظم اور صاحبین کے اقوال میں محاکمہ کریں ، نیز جن علما نے قدوری اورصاحب ہدایہ کو اصحاب ترجیح قرار دیا ہے وہ بھی تو بعد کے علما ہیں ان کے لیے یہ کیسے جائز ہوگیا کہ وہ ان متاخرین کو اصحاب ترجیح قرار دیں، نیز علامہ شامی اور اعلیٰ حضرت اصحاب ترجیح نہیں ہیں اور انھوں نے کئی مسائل میں اصحاب ترجیح کے خلاف قول کو اختیار کیا ہے ، کتب فقہ میں ایسی بہت مثالیں ہیں ، علامہ امجد علی رحمہ اللہ نے بھی ہمارے ائمہ امام اعظم ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد سے اختلاف کیا ہے ، اس کی ایک مثال یہ ہے : احادیث صحیحہ میں عقیقہ کی فضیلت اور استحباب کو بیان کیا گیا ہے لیکن غالباً یہ احادیث امام ابو حنیفہ اور صاحبین کو نہیں پہنچیں ، کیونکہ انھوں نے عقیقہ کرنے سے منع کیا ہے اور ہمارے فقہاء نے امام محمد کا ایک قول اباحت کا بھی نقل کیا ہے، علامہ امجد علی رحمہ اللہ نے ان اقوال سے عدول اور اختلاف کرکے عقیقہ کو سنت کہا ہے، گو کہ اپنے اختلاف کی صراحت نہیں کی ، ہم پہلے عقیقہ کی فضیلت کے متعلق احادیث کا ذکر کریں گے، پھر ظاہر الروایہ اور دیگر کتب فقہ سے مذہب احناف نقل کریں گے اور اس کے بعد علامہ امجد علی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کریں گے، فتقول وبالله التوفیق و به الاستعانة يليق –
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
عن سلمان بن عامر الضبي قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع الغلام عقیقة فأهريقوا دما را ميطوا عنه الاذى( .صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۲۲)
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے، اس سے خون بہاؤ اور اس کی گندگی دورکرو۔
امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
عن ام كرر انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة فقال عن الغلام شاتان وعن الجارية واحدة لا يضرکم ذکرانا کن ام اناثا هذا حديث صحيح –
حضرت ام کرر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑ کی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرو) اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔
عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق راسه ، هذا حدیث حسن صحيح۔ جامع ترمذی ج ا ص ۱۸۳، کتب خانہ رشید یہ دہلی
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑ کا اپنے عقیقہ کے بدلہ میں گروی ہے، ولادت کے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اس کا نام رکھا جائے اور اس کے بال مونڈے جائیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
احادیث کے بعد ائمہ احناف اور فقہا احناف کی عبارات ملاحظہ فرمائیں ۔
امام محمد لکھتے ہیں
محمد عن يعقوب عن ابي حنيفة (رضى اللہ عنہم ) قال ۔۔۔۔ إلى قوله ولا يعق عن الغلام ولا عن الجاریہ ۔ الجامع الصغير ص ۵۳۳، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی
امام محمد از امام ابو یوسف از امام ابوحنیفہ روایت نہ لڑکی کا،
امام محمد لکھتے ہیں
: قال محمد اما العقيقة فبلغنا انها كانت في الجاهلية وقد فعلت في اول الاسلام ثم نسخ الاضحى كل ذبح كان قبله و نسخ صوم شهر رمضان كل صوم كان قبله و نسخ غسل الجنابة كل غسل كان قبله و نسخت الزكوة كل صدقة كان قبلها كذلك بلغنا- موطا امام محمد ص ۸۹-۸۸ مطبوعه نور محمد ، کراچی
امام محمد فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ عقیقہ زمانہ جاليت میں تھا اور ابتداء اسلام میں بھی عقیقہ کیا گیا، پھر قربانی نے ہر اس ذبیحہ کو منسوخ کر دیا جو اس سے پہلے تھا، اور رمضان کے روزوں نے ہر اس روزہ کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا، اور غسل جنابت نے ہر اس غسل کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا، اور زکوتہ کے ہر اس صدقہ کو منسوخ کر دیا جو اس سے پہلے تھا۔ ہم کواسی طرح حدیث پہنچی
علامہ کا سانی حنفی لکھتے ہیں :
عقیقہ وہ ذبیحہ ہے جو بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن کیا جاتا ہے، ہم نے عقیقہ اور عتیرہ کا منسوح ہونا اس روایت سے پہچانا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رمضان کے روزے نے ہر پہلے روزے کو منسوخ کر دیا اورقربانی نے اس سے پہلے کے ہر ذبیجہ کو منسوخ کر دیا ، اور غسل جنابت نے اس سے پہلے کے ہر غسل کو منسوخ کر دیا اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو سنا تھا کیونکہ اجتہاد سے کسی چیز کو منسوح نہیں کیا جاسکتا (الی تولہ) ۔
امام محمد نے جامع صغیر میں ذکر کیا ہے لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا، اس عبارت میں عقیقہ کے مکروہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عقیقہ کرنے میں فضیلت تھی اور جب فضیلت منسوخ ہوگئی تو اس کا صرف مکروہ ہونا باقی رہ گیا۔
ر بدائع الصنائع ج ۵ ص ۶۹، مطبوعہ ، ایچ ایم سعید ، کراچی
اور فتاوی عالم گیری میں لکھا ہے :
العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره لاسنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري – وذكر محمد رحمہ الله تعالى في العقيقة فمن شاء فعل ومن شائ لم یفعل وهذا يشير إلى الاباحة فيمنع كونها سنتہ وذكر في الجامع الصغير ولا يعق عن الغلام ولا عن الجارية وانه اشارة إلى الكراهية كذا في البدائع في كتاب الاضحية ۔ عالمگیری ج ۵ ص ۳۶۲ ، مطبوعہ بولاق مصر
ولادت کے ساتھ یں دن لڑکے یا لڑکی کی طرف سے بکری ذبح کرنا اور لوگوں کو دعوت کرنا اور بچہ کے بال مونڈنا عقیقہ ہے، یہ نہ سنت . ہے اور نہ واجب ہے، اسی طرح کردری کی وجیز میں ہے، امام محمد نے عقیقہ کے متعلق ذکر کیا ہے، جو چاہے نہ کرے اس کا اشارہ اباحت کی طرف ہے، اس لیے اس کا سنت ہونا ممنوع ہے ، اور امام محمد نے جامع صغیر میں ذکر کیا ہے لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے اور یہ کراہت کی طرف اشارہ ہے ، اسی طرح بدائع کی کتاب الاضحیہ میں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام محمد نے جامع صغیر میں امام اعظم اور امام ابویوسف سے نقل کیا ہے کہ عقیقہ نہ کیا جائے، جس کا مفاد یہ ہے کہ عقیقہ کرنا مکروہ ہے اور موطا امام محمد میں لکھا ہے کہ عقیقہ منسوخ ہوگیا، اگر اس نسخ کوعقیقہ کے استحباب پر محمول کیا جائے تو عقیقہ مباح ہے یا پھر مکروہ ہے جیسا کہ علامہ کاسانی نے لکھا تو پھر احناف کے نزدیک عقیقہ مکروہ ہے یا مباح ہے بہر حال سنت یا کار ثواب نہیں ۔
اور علامہ امجد علی رحمہ اللہ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں : حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح مستحب ہے ، یہ جو بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ عقیقہ سنت نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ سنت موکدہ نہیں ورنہ جب خود حضور اقدس صلے اللہ تعالی علیہ وسلم کے فعل سے اس کا ثبوت موجود ہے تو مطلقاً اس کی سنت سے انکار صحیح نہیں ۔
بہار شریعت حصہ ۱۵ ص ۱۵۰، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز کراچی
علامہ محمد علی رحمہ اللہ کی اس عبارت پر حسب ذیل اعتراضات ہیں
: ۱َ:ایک فعل کو مباح اور مستحب دونوں قرار دینا صحیح نہیں ہے، کیونکہ مباح پر ثواب نہیں ہوتا اور مستحب پر ثواب ہوتا ہے ۔
۲:ہم نے امام ابویوسف اور امام ابو حنیفہ سے امام محمد کی یہ روایت نقل کی ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے جس کا مفاد یہ ہے کہ عقیقہ کرنا مکروہ ہے جیسا کہ عالم گیری میں لکھا ہے، اس لیے علامہ امجد علی کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ سنت موکدہ نہیں ہے یعنی غیر موکدہ سنت ہے اور مطلقاً سنت کی نفی نہیں ہے یہ توجیہ الکلام بمالایرضی بہ قائلہ ہے۔
۳: امام محمد کی دوسری عبارت یہ ہے کہ جو چاہے عقیقہ کرے اور جو چاہے نہ کرے یہ اباحت کی تصریح ہے اس عقیقہ کے سنت ہونے کا مطلب نکالنا صحیح نہیں ہے۔
اگر کوئی شخص تقلید محض کی پستی سے نہیں نکلا تو اسکو عقیقہ کرنے سے منع کرنا چاہیے یا کم از کم یہ کہنا چاہیے کہ عقیقہ مباح ہے اورکار ثواب نہیں ہے اور اس کو یہ نہیں چاہیے کہ امام اعظم کے قول کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر یہ کہے کہ امام اعظم کے نزدیک عقیقہ سنت ہے لیکن سنت موکدہ یا سنت ثابتہ نہیں ہے۔ اور اگر وہ میدان تحقیق میں وارد ہے تو اس کو یہ کہنا چاہیے کہ عقیقہ سنت اور مستحب ہے کیونکہ احادیث صحیحہ میں اس کا ثبوت ہے اور تمام امت نے ان احادیث کو قبول کیا ہے اور امام اعظم کو یہ احادیث نہیں پہنچیں ورنہ وہ عقیقہ کو مکروہ نہ کہتے کیونکہ اس زمانہ میں نشر واشاعت کے ذرائع اور وسائل اتنے میسرنہیں تھے جتنے اب ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا جب حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے، اور علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی حدیث صحیح امام کے قول کے خلاف ہوتو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا ۔ ( رد المختار ج ۱ ص ۶۳ مطبوعہ استنبول ) اس لیے یہاں امام کے قول کے خلاف حدیث پر عمل کرنا تقلید کے خلاف نہیں ہے۔
مولاناعبدالحئی موطا امام محمد کے حاشیہ میں لکھتے ہیں
: امام محمد کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ قربانی کے بعد عقیقہ مشروع نہی رہا اور یہ قول تسلیم نہیں ہے کیونکہ احادیث معتبرہ میں عقیقہ کی مشروعیت اور استحباب کی بہت زیادہ صراحت ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث دوسروں کے اقوال پر مقدم ہیں خواہ وہ کوئی شخص ہو، اگر عقیقہ منسوخ ہو چکا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہا کاعقیقہ نہ فرماتے اور نبی صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام نے عقیقہ کیا ہے، کیونکہ موطا امام مالک میں ہے کہ عروہ بن زبیر نے اپنے بیٹوں کا عقیقہ کیا ، اس باب میں بہ کثرت احادیث صحیحہ مرفوعہ اور موقوفہ ہیں اور ایک قول کی وجہ سے ان تمام احادیث کو ترک کرنا صحیح نہیں ہے ، نیز اگر ہم مان لیں کہ قربانی نے ہرذبیحہ سابقہ کو منسوخ کردیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وجوب کو منسوخ کر دیا نہ یہ کہ وہ اصلا مشروع نہیں رہا ۔ (حاشیہ بر موطا امام محمد ص ۲۸۸، مطبوعہ نور محمد کراچی)
ہاں ہم علامہ امحمد علی حمہ اللہ کی اس بات سے متفق ہیں کہ عقیقہ کا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس لیے صاف صاف یہ کہنا چاہیے کہ عقیقہ سنت اور مستحب ہے کیونکہ مستند احادیث سے اس کا ثبوت ہے اور ہر چند کہ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد سے اس کی کراہت اور اباحت منقول ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی احادیث ان ائمہ کے اقوال پر مقدم ہیں کیونکہ ہم پہلے محمدی ہیں پھر حنفی یا شافعی ہیں ۔ اور یقیناً علامہ امجد علی نے بھی اس مسئلہ میں ائمہ احناف کے اقوال صریحہ سے عدول اور اختلاف کیا ہے اور اس اختلاف سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ علامہ امجد علی خود کو ائمہ احناف سے بڑا سمجھتے ہوں ۔
جن بعض مسائل میں ہم نے ائمہ احناف کے قول کو اختیار نہیں کیا ان میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ ان ائمہ کرام کو وہ احادیث نہیں پہنچیں مثلاً اگر ہمارے ائمہ کو عقیقہ کے متعلق احادیث مل گئی ہوتیں تو کبھی یہ نہ کہتے کہ عقیقہ نہ کیا جائے۔اور ظاہر ہے کہ ابتدائی دور میں احادیث کی نشر و اشاعت کے اتنے ذرائع نہیں تھے جتنے بعد میں مہیا ہو گئے ۔ بہر حال جب علامہ امجد علی اور اعلیٰ حضرت رحمہما اللہ ، امام اعظم اور صاحبین سے اختلاف کر سکتے ہیں، اصحاب ترجیح ان ائمہ کرام میں محاکمہ کرسکتے ہیں اور ان سے بھی بعد کے علماء قدوری اور صاحب ہدایہ کو اصحاب ترجیح قرار دے سکتے ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بھی اس منصب کی کوئی آسمانی سند نہیں ہے تو پھر ہم دلائل قویہ کے ساتھ متقدمین سے کسی مسئلہ میں اختلاف کیوں نہیں کر سکتے !
مذكورالصدر تفصیل اور بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اصل اعتبار دلیل کا ہوتا ہے اور اور یہ کہنا غلط ہے کہ متاخرین کا علم متقدمین کے پائے کا نہیں ہے اس لیے وہ ان سے اختلاف نہیں کرسکتے ، اور جو معترضین یہ کہتے ہیں کہ تمہا را علم فلاں، فلاں کے علم سے کم ہے اس لیے تم ان سے اختلاف نہیں کرسکتے اورفلاں، فلاں کا علم چونکہ زیادہ تھا اس لیے وہ صحابہ اور مجتہدین سے اختلاف کرسکتے ہیں ان سے گزارش یہ ہے کہ آپ نے ہمارے اور فلاں، فلاں کے علم میں جو محاکمہ کیا ہے اور فلاں فلاں کے علم اور مجتہدین کے علم کا جو تجزیہ کیا ہے تو کیا آپ کا علم اتنا وسیع اور حکم ہے کہ آپ ہمارے اور فلاں، فلاں کے علم میں علم محاکمہ اور تجزیہ کرسکیں اور آپ کو اس تجزیہ اور محاکمہ کی کس نے سند دی ہے یا آپ کے زعم میں آپ پر وحی نازل ہوئی ہے؟۔
شرح صحیح مسلم میں اعادہ کیے ہو مسائل کی تفصیل
بعض مسائل کا میں نے اعادہ کیا ہے لیکن وہ افادہ سے خالی نہیں ہے ، ہدایہ کی ایک عبارت سے امام ابوحنیفہ کے مذہب پر یہ اعتراض ہے کہ انھوں نے خمر کے علاوہ باقی نشہ آور مشروبات کو حلال کر دیا ہے ، اس کا جواب میں نے چوتھی جلد میں دو جگہ ذکر کیا ہے، علامہ ابن ہمام کی ایک عبارت سے یہ وہم ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کی علت مشقت ہے مسافت نہیں ہے جس کی بنا پر بعض علماء نے یہ کہا کہ ہوائی جہاز کے سفر سے قصر لازم نہیں ہے اورعورتیں بغیر محرم کے ہوائی جہاز سے حج اور عمرہ کے لیے جا سکتی ہیں۔ فقہ اہل سنت ص ۱۹۴ مطبوعہ ۱۹۴، مطبوعہ کراچی) میں نے اس سلسلہ میں اپنی تحقیق شرح صحیح مسلم کی دوسری جلد میں ذکر کی ہے اور تیسری جلد میں پھر اس کا ذکر کیا ہے اور اس میں زیادہ تفصیل ہے اہل کتاب کیے مسلمانوں کی مساجد میں دخول کے متعلق ، احناف کے مذہب کی تحقیق میں نے تیسری جلد میں کی ہے اور ساتویں جلد میں زیادہ تفصیل ہے، عصمت انبیا کی بحث دوسری جلد میں کی ہے اور ساتویں جلد میں زیادہ تفصیل ہے تلک الغرانیق العلی کی بحث دوسری جلد میں ہے اور ساتویں جلد میں زیادہ تحقیق ہے، غیر کفو میں نکاح کے جواز کی بحث تیسری جلد میں ہے اور اور چھٹی جلد میں زیادہ تفصیل ہے ، انجیکشن سے روزہ ٹوٹنے کی بحث تیسری جلد کے ضمیمے میں ہے ، اور اس پہلی جلد میں اس کی زیادہ تحقیق ہے ، ندائے یا محمد کی بحث ساتویں جلد میں دو جگہ پر ہے، اور اس پہلی جلد میں اس کی زیادہ تفصیل ہے ، ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر میں مغفرت ذنوب کی بحث میں نے تیسری جلد میں کی ہے، پھر چھٹی جلد میں زیادہ تفصیل کی پھر ساتویں جلد میں مزید تشریح کی، ڈاڑھی میں قبضہ کی مقدار کا استحباب اور مسنون ہونا، ہم نے پہلی جلد میں بیان کیا ہے اور چھٹی جلد میں اس کی زیادہ تحقیق ہے۔
شرح حیح مسلم کی تصنیف میں دارالعلیوم نعیمیہ کا حصہ اور دیگر معاونین کے تعاون کا بیان
شرح صحیح حکم کی سات جلدیں میں نے یہاں دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں لکھی ہیں، مارچ ۱۹۸۶ء میں یہ کام شروع کیا اور فروری ۶۱۹۹۴ میں یہ کام ختم ہوگیا ، شرح صحیح مسلم کے اس عظیم کام میں دارالعلوم نعیمیہ اور اس کے ٹرسٹیز کا بہت بڑا حصہ ہے، اور حدیث شریف ، میں ہے :
عن ابي سعيد قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من لم يشكر الناس لم يشكر الله۔ جامع ترمذی ص ۲۸۹، مسند احمد ج ۲ ص ۸ ۲۵ – ۲۹۵ ،۳۰۳ ، ۳۸۸، ۴۹۲،۴۶۱، ج ۳ ص ۳۲ ، ج ۴ ص ۲۷۸ ، ج ۵ ص ۲۱۱، ۲۱۲
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔
اس حدیث پر پر عمل کرتے ہوئے ہیں دارالعلوم نعیمیہ کے تمام ٹرسٹیز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مجھے اس قدر سہولتیں مہیا کیں کہ میں اس عظیم اور ضخیم کتاب کو آسانی سے مکمل کر سکا، حضرت پروفیسر مولانا مفتی منیب الرحمان مہتمم دارالعلوم نعیمیہ زید جہم کا میں خاص طور پر شکر گزار ہوں کیونکہ اول یوم وہ اس کام میں میرے معاون رہے ہیں فرید بک اسٹال سے جب اس کام کا معاہدہ ہوا اوراس کے درمیان سے لے کر اس کے اخیر تک ہر مرحلہ میں انھوں نے میری وکالت کی اور اس کام کو اپنا سمجھا اور اس کام میں جہاں جہاں مشکلات اور رکاوٹیں آئیں انھوں نے انتہائی او لو العزمی سے ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا ، شرح صحیح مسلم کے بعض مباحث میں میں نے مولانا منیب الرحمان سے مشورہ بھی لیا اور ان کی گراں قدر آراء سے مستفید ہوا ، اس کام کے لیے دارالعلوم نعیمیہ کی لائبریری کی چابی انھوں نے میرے حوالے کی جس سے مجھے کام میں بہت آسانی ہوئی، اس ایک کام ہی کی وجہ سے ان کا مجھ پر بڑا احسان ہے جس کی وجہ سے میں ان کو ہمیشہ اپنی دعائوں میں یاد رکھتا ہوں ان کے علاوہ حافظ محمد ازہر زید جہم کا بھی میں شکر گزار یوں وہ بھی میرے للہ فی اللہ محب اور خیر خواہ ہیں مفتی محمد اطہر نعیمی، مولانا جمیل احمد نعیمی اور مولانا اقبال احمد نعیمی، ان کی عنایات کا بھی ممنون ہوں میرے ایک اور محترم دوست استاذ العلما، مولانا حافظ الحاج غلام محمد سیالوی مہتمم شمس العلوم زید جہم ہیں، ان کی لائبریری کی کتابوں سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا ہے ، اور میرے محترم دوست مولانا محمد اکرام حسین سیالوی زید جیہم ہیں ان کا تعاون بھی اس کتاب میں شامل ہے اور حضرت ڈاکٹر جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری رحمہ اللہ کے احسانات ان کا تفصیلی ذکر میں نے ساتویں جلد کے ابتداء میں کیا ہے، حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم فیضی صاحب کا سپاس گزار ہوں ، جنھوں نے انتہائی لگن اور جانفشانی سے اس کتاب کی تصحیح کی ، دارلکتابت حضرت کیلیانوالہ کے کاتبوں کا شکرگزار ہوں جنھوں نے بہت خوبصورت اور دل آویز کتابت کی، اور آخیر میں سید محمد اعجاز مالک فرید بک سٹال کے لئے دعاگو ہوں جنھوں نے انتہائی سرعت اور برق رفتاری کے ساتھ اس کتاب کو بہت حسین اور جاذب نظر طباعت سے مزین کرکے انتہائی ارزاں قیمت پر مہیا کیا ۔
تبیان القرآن لکھنے کا عزم
شرح صحیح مسلم کا کام اب ختم ہو گیا ہے لیکن ابھی زندگی باقی ہے اور میری خواہش ہے کہ جب تک مجھ میں قوت کار باقی ہے۔ دین کا کام کرتا رہوں بہت سے دوستوں اور خاص طور پر سید محمد اعجاز صاحب کی فرمائش ہے کہ قرآن مجید کی عام فہم تفسیر لکھوں، اس لیے میں نے تبیان القرآن کے نام سے تفسیر لکھنے کا ارادہ کر لیا ہے اور ان شاء اللہ ماہ رماه رمضان ۱۴۱۴ ء کے کسی مبارک دن میں تفسیر کے کام کا آغاز کر دوں گا اور جب تک صحت قائم رہی اور عمر نے وفا کی ان شاءاللہ اس کو لکھتا رہوں گا اور یہ اللہ تعالٰی کے علم اور اس کی مشیقت میں ہے کہ یہ کام کہاں تک پہنچ سکے گا۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے حق کا اظہار عطا فرمائے اور باطل سے اجتناب مرحمت فرماتے وما ذالك على الله بعزيز –
اخیر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ اے بارالہ مصنف اور اس کام میں اس کے معاونین اس کتاب کے کاتب، مصحح اور ناشر اور اس کتاب کے قارئین اور مصنف کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، ان کو اپنے حبیب کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی شفاعت سے بہرہ مند فرما، ان کو دنیا اور آخرت کی ہر بلا اور ہر عذاب سے محفوظ رکھ اور ان کو دارین کی ہر نعمت اور ہر راحت عطا فرما آمین یا رب العلمین بجاه حبيبك سيدنا محمد خاتم النبيين افضل الانبياء والمرسلين قائد الغر المحجلين وعلى اله الطيبين و اصحابه الکاملین و ازواجه الطاهرات امهات المؤمنين وعلى سائر اولياء امته وعلماء ملته اجمعين .