” اثرن “ جمع مئونث، غائب کا صیغہ ہے، اس کا مصدر ” اثارۃ “ ہے، اس کا معنی ہے : برانگیختہ کرنا اور گرد و غبار اڑانا ” نقعا “ کا معنی ہے، تنگ، کنوئیں میں جمع شدہ پانی اور گرد و غبار۔
عکرمہ سے اس کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : گھوڑوں کے دوڑنے سے گرد و غابر اڑا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :29268، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)