أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَثَرۡنَ بِهٖ نَقۡعًا ۞

ترجمہ:

پھر اس وقت وہ گرد و غبار اڑاتے ہیں

” فاثرن بہ نقعا “ کا معنی

” اثرن “ جمع مئونث، غائب کا صیغہ ہے، اس کا مصدر ” اثارۃ “ ہے، اس کا معنی ہے : برانگیختہ کرنا اور گرد و غبار اڑانا ” نقعا “ کا معنی ہے، تنگ، کنوئیں میں جمع شدہ پانی اور گرد و غبار۔

عکرمہ سے اس کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : گھوڑوں کے دوڑنے سے گرد و غابر اڑا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :29268، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 4