سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور انہوں نے ایک دور سے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی ؏
العصر : ٣ میں فرمایا : سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دور سے کو صبر کی نصیحت کی۔
اس آیت کا معنی ہے : سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق کی اور اس کی اطاعت اور عبادت کا اقرار کیا اور نیک اعمال کئے یعنی فرائض اور واجبات کو ادا کیا اور سنن اور مستحباب پر کار بند رہے اور معاصی کا ارتکاب نہیں کیا اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے مجتنب رہے اور دوسروں کو بھی کتاب اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیتے رہے اور صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے۔
” وتواصوا بالحق “ کی تفسیر میں تین قول ہیں : یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ دوسروں کو بھی توحید پر ایمان لانے کی تلقین کرتے رہے، قتادہ نے کہا : وہ قران کے احکام پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے رہے، سدی نے کہا : وہ اللہ کی اطاعت اور عبادت کی تلقین کرتے رہے۔
” وتواصوا بالصبر “ کی تفسیر میں بھی تین قول ہیں : قتادہ نے کہا : وہ اللہ کی فرماں برداری کی نصیحت کرتے رہے، ہشام بن حسان نے کہا : وہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے فرائض پر عمل کرنے کی تایید کرتے رہے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ حرام کام کرنے کی خواہش پر صبر کرنے اور شہوت اور غضب کے تقاضوں پر صبر کرنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کی مشقت پر صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ (النکت و العیون ج ٦ ص ٣٣٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
افعال میں حسن اور قبح عقلی ہے یا شرعی ؟
اللہ تعالیٰ نے اس استثناء میں تین چیزیں ذکر فرمائی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرنے میں جو انسان کی عمر اور جوانی خرچ ہوتی ہے، انسان اس پر ملال نہ کرے کیونکہ اللہ کی عبادت میں عمر کا تھوڑا سا حصہ اس کا دائمی اور ابدی جنت تک پہنچا دیتا ہے اور دوزخ کے دائمی عذاب سے بچا لیتا ہے۔
(٢) ہر وہ شخص جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے وہ اس کا خیر خواہ ہے اور وہ شخص جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی معصیت کی دعوت دے، وہ اس کا بدخواہ ہے۔
(٣) ماترید یہ کہتے ہیں : اعمال میں فی نفسہ حسن یاقبح ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حسین کاموں کا حکم دیا ہے اور قبیح کاموں سے منع فرمایا ہے، مثلاً نماز پڑھنا فی نفسہ حسین کام ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور زنا کرنا فی نفسہ قبیح کام ہے کیونکہ اس سے نسبت محفوظ نہیں رہتا، اس لئے اس سے منع فرمایا ہے، سو اللہ تعالیٰ نے نیک کاموں کا حکم دیا ہے اور برے کاموں سے روکا ہے اور اشاعرہ کہتے ہیں کہ فی نفسہ کسی کام میں حسن یا قبح نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کام کا حکم دیا ہے وہ حسین ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے، اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس لئے وہ حسین ہے اور زنا کرنے سے منع کیا ہے، اس لئے وہ قبیح ہے، اگر اللہ تعالیٰ نماز سے منع کرتا تو نماز پڑھنا قبیح ہوتا اور اگر زنا کرنے کا حکم دیتا تو زنا کرنا حسین کام ہوتا۔
انسان کا خود نیک ہونا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ وہ دوسروں کو بھی نیک بنائے
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو خود نیک کام کرنے کے علاوہ یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی نیک بنائے، انہیں دین حق پر عمل کرنے کی وصیت کرے اور مشکلات اور مصائب میں صبر کرنے کی وصیت کرے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
(التحریم : ٦) اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔
اسی طرح حدیث میں ہے :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے، پس ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال کیا جائے گا، ملک کا سربراہ اپنی رعایا کا نگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، گھر کا سربراہ اپنے گھر والوں کا محافظ ہے، اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا، نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا، تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٥٤ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٢٩ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧٠٥)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : تمام لوگ خسارے میں ہیں، سو ان کے جو چار چیزوں سے متصف ہوں : ایمان اعمال صالحہ، لوگوں کو اطاعت اور عبادت کی وصیت کرنا اور لوگوں کو صبر کی تلقین کرنا، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے بلکہ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دے اور ان کو برائی سے روکے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :
(آل عمران : ١١٠) تم بہترین امت ہو، ان سب امتوں ہے جن کو لوگوں کے لئے ظاہر کیا گیا ہے، تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔