اس آیت کا معنی یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کافروں کے پیٹ میں داخل ہوگی، پھر ان کے سینہ تک پہنچ جائے گی، پھر ان نے دل پر چڑھ جائے گی اور انسان کے جسم میں دل سے زیادہ لطیف اور کوئی چیز نہیں ہے اور تھوڑی سی اذیت بھی دل میں بہت تکلیف ہوتی ہے، پس اس وقت کافر کا کیا حال ہوگا جب اس کو دوزخ میں جھونکا جائے گا، پھر دوزخ کی آگ اس کے دل پر چڑھ جائے گی، دل کا ذکر خصوصیت سے اس لئے فرمایا ہے کہ شرک، کفر، تمام عقائد خبیثہ اور تمام بری نیات کافر کے دل میں ہوتی ہیں۔