*احکامِ قربانی*
از: پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
مخصوص جانوروں کومخصوص دنوں میں (یعنی دسویں ذی الحجہ سے بارھویں ذی الحجہ تک) تقرب الیٰ اللہ اور ثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی ہے یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے حضور پر نور سرکار دوعالم ﷺ کو قربانی کا حکم دیا گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
فصل لر بک والنحر (الکوثر)
”تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو“
قربانی ایک اہم مالی عبادت بھی ہے اور شعار اسلام سے ہے۔ حضور ﷺ نے بعد ہجرت دس سال تک مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فر ماتے رہے جس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ معظمہ ہی کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس شخص پر ہے جو صاحب نصاب ہو چاہے کہیں بھی رہتا ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ منکرین حدیث کا نام نہاد مسلمان ٹولہ جو اس مالی عبادت پر اعتراض کرتاہے کہ اس پر بے انتہا پیسہ خرچ ہوتا ہے لہذٰا اس کے بجائے فلاحی امور مثلاً محتاج خانے شفاخانے وغیرہ بنا دینا چاہیے۔ یہ اعتراض بالکل لغو ہے۔ پھر تو حج جیسی اہم مالی عبادت بھی جو شعائر اسلام سے ہے اس کو بھی یہ کہہ کر ختم کیا جاسکتا ہے کہ لاکھوں روپے ہر سال حج پر خرچ ہو تے ہیں لہذٰا بجائے حج کے فلاحی امور اور رفاہ عامہ پر خرچ کر د یاجائیں تو زیادہ بہتر ہو گا اور صرف یہ کہنا کہ قربانی حج کے موقع پر مکہ معظمہ ہی میں ہو سکتی ہے غلط ہے البتہ صرف حج کی قربانی بے شک مکہ معظمہ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن عید الاضحیٰ کی قربانی ہر مالک نصاب پر واجب ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو ……!
قربانی احاد یث کی روشنی میں:
۱…… حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک قبول ہوجاتا ہے لہذٰا اسے خوش دلی سے کرو۔ (ابو داؤد‘ترمذی‘ ابن ماجہ)
۲…… صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ فرمایا ہر بال کے برابر نیکی ہے عرض کی اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا! اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی نیکی ہے۔(ابن ماجہ)
۳…… حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ مدینہ شریف میں دس سال رہے اور اس عرصے میں آپ نے ہر سال قربانی فرمائی۔ (مشکوٰۃ‘ ترمذی)
۴…… حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک) ہو جا ئے گا-
۵…… رسول اکرم ﷺ نے فرمایا! کہ جس میں وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب ہر گز نہ آئے – (ابن ماجہ)
۶…… حضور ﷺ نے فرمایا! کہ جو پیسہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی پیسہ پیارا نہیں۔ (طبرانی)
۷…… حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے عشرہ ذی الحجہ (یعنی عید سے قبل کے ایام)سے بہتر کوئی زمانہ نہیں۔ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات میں عبادت کرنا شب قدر کی عبادت کے برابر ہے (ترمذی‘ ابن ماجہ)
۸…… جب تم بقر عید کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ بال منڈانے‘ ترشوانے اور ناخن کٹوانے سے رُکا رہے-! (مسلم)
۹…… حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ عید فطر کے دن جب تک رسول اللہ ﷺ کچھ کھا نہ لیتے عید کو نہ جاتے اور عید قرباں کے روز اس وقت تک کچھ نہ کھاتے جب تک نماز عید نہ پڑھ لیتے -! (ترمذی‘ابن ماجہ)
۰۱…… حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺنے رات میں قربانی کر نے سے منع فرمایا ہے – (بہار شریعت)
۱۱…… امام مسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم فرمایا کہ سینگ والا مینڈھا لایا جائے۔ جو سیاہی میں چلتا ہو۔ سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو۔(یعنی اس کے پاؤں ’پیٹ او رآنکھیں سیاہ ہوں۔ چنانچہ مینڈھا قربانی کے لئے حاضر کیا گیا حضور ﷺ نے فرمایا! عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا! اسے پتھر پر تیز کر لو پھر حضور ﷺ نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور ذبح فرمایا۔ پھر فرمایا۔(الٰہی تو اس کو محمد ﷺ) کی طرف سے اور ان کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما –
فائدہ! ہمارے آقا و مولیٰ حضور پرنور سرکار دوعالم ﷺکے کرم کو دیکھو کہ خود اس امت مرحومہ کی طرف سے قربانی کی اور اس موقع پر امت کا خیال فرمایالہذٰا جس مسلمان صاحب استطاعت سے ہو سکے کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام کی قربانی کرے تو کیسی خوش نصیبی ہے۔ (بہار شریعت‘ قانون شریعت)
قربانی کے احکام:
قربانی واجب ہونے کے چند شرائط یہ ہیں:
۱- اسلام! یعنی مسلم پر قربانی واجب ہے غیر مسلم پر نہیں۔
۲-اقامت!یعنی مقیم ہونا،مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ البتہ مسافر اگر بطور نفل قربانی کرے تو ثواب پائے گا –
۳- مالدار ہونا! یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالدار سے مراد وہی ہے جس پر صدقہ فطر واجب ہے۔ وہ مراد نہیں جس سے زکواٰۃ واجب ہوتی ہے وہ شخص ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کا مالک ہو۔ یا حاجت اصلیہ کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہو تو وہ مالدار ہے اور اس پر قربانی واجب ہے
۴-بلوغ! نابالغ پر قربانی واجب نہیں اگر کرے تو بہتر ہے۔اگرکوئی شخص بالغ لڑکوں یا بیوی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو ان سے اجازت لینا شرط ہے۔اس کے بغیر واجب ادا نہ ہوگا۔ مرد ہو نا شرط نہیں۔ مالدار عورتوں پر بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔جس طرح مرد پر واجب ہے۔
۵- وقت! وقت کا پایا جانا یعنی دس ذی الحجہ کو صبح صادق سے بارھویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن اور دو راتیں۔ ان دنوں کو قربانی کے دن یا ایام النحرکہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز عید کے بعد ہو لہذٰا نمازعید سے قبل قربانی نہیں ہو سکتی۔گاؤں میں یہ شرط نہیں۔ لہذٰ اگاؤں میں صبح صادق کے بعدسے قربانی ہو سکتی ہے کیونکہ گاؤں میں نماز عید نہیں۔
مسئلہ نمبر 2: وقت سے پہلے قربانی نہیں ہو سکتی۔اگر کسی نے وقت سے پہلے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوئی۔ لہذٰا دوبارہ قربانی کرے۔اور وقت گزرنے کے بعد بھی قربانی نہیں ہو سکتی۔ لہذٰا اب قربانی کا جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔
مسئلہ نمبر3:قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ مثلاً بجائے قربانی کے لاکھوں روپے صدقہ کردے ناکا فی ہے۔
مسئلہ نمبر 4: شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ قربانی کے لئے جو وقت مقرر ہے اس کے کسی حصے میں شرائط کا پا یا جانا وجوب کے لئے کافی ہے۔ مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت فقیر تھا اور قربانی کے دنوں میں مالدار ہوگیا۔یا مسافر تھا۔ مقیم ہوگیا ۔یا غیر مسلم تھا مسلم ہوگیا۔ نابالغ تھا بالغ ہوگیا تو اس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کے جانور اور ان کی عمریں:
قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں۔ اونٹ’گائے‘ بکری ہر قسم میں اس کی جتنی نوعیں ہیں سب شامل ہیں نر‘ مادہ‘ خصی سب کاا یک حکم ہے۔یعنی سب کی قربانی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ بھینس اور بیل گائے میں شمار ہیں۔ بھیڑاور دنبہ بکری میں شامل ہیں!
جانوروں کی عمریں!
قربانی کے جانور کی عمریں یہ ہو نی چاہییں۔
…………اونٹ …………پانچ سال
…………گائے …………دوسال
………… بکرا/ بکری…………ایک سال
اس سے کم عمر ہوتو قربانی جائز نہیں۔زیادہ ہو تو جائز ہے بلکہ افضل ہے۔البتہ دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا فربہ ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے
وہ جانور جن کی قربانی جائز نہیں:
٭……اندھا ہو ٭……کاناہو یعنی جس کا کانا پن ظاہر ہوتا ہو۔ ٭ ……تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی ہو
٭…… لاغر یعنی کمزور ہوکہ اس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ ٭……لنگڑا ہوجو قربان گاہ تک اپنے پاؤں سے چل کر نہ جا سکے۔
٭ ……بیمارکے اس کی بیماری ظاہر ہو تی ہو۔ ٭……کان‘ دم‘چکی‘ تہائی سے زیادہ کٹے ہوں۔
٭…… پیدائشی کان نہ ہوں۔ ٭……ایک کان ہو۔ ٭…… دانت نہ ہوں۔
٭……تھن کٹے ہوں یا خشک ہوں۔ ٭…… ناک کٹی ہو۔ ٭……علاج کے ذریعے دودھ خشک کر دیاگیا ہو
٭……خنثیٰ جانور جس میں نر اور مادہ دونوں کی علامتیں ہوں۔ ٭……اور وہ جانور جو صرف غلیظ کھاتا ہو
٭……ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو۔ ٭ …… اس حد تک جنون کہ وہ چرتا بھی نہ ہو۔
٭ ……سینگ مینگ (جڑ)تک ٹوٹ گیا ہو۔
ان جانوروں کی قربانی جائز ہے:
٭ ……بھینگا ہو۔ ٭ ……جس کی نظر تہائی یا تہائی سے کم جاتی رہی ہو
٭……جس میں معمولی جنون ہو یعنی چر لیتا ہو۔ ٭…… جسے خارش ہومگر فربہ ہو۔
٭……چکی‘دم‘یا کان تہائی یا اس سے کم کٹے ہوں کان چھوٹے ہوں۔ ٭…… خصی ہو۔
٭بھیڑیا یا دنبے کی اون کاٹ لی گئی ہو۔ ٭ ……داغا ہوا ہو۔ ٭……جس کا دودھ نہ اترتا ہو۔
٭گائے یا اونٹنی کا صرف ایک تھن بذریعہ علاج خشک کیا گیا ہو۔ ٭لنگڑا جانور جو چلنے میں لنگڑے پاؤں سے مدد لیتا ہو۔
٭……جس کی چکی چھوٹی ہو۔ ٭جس کا سینگ مینگ سے کم ٹوٹا ہو تو ان سب صورتوں میں قربانی جائز ہے -!
قربانی کے جانور میں شرکت:
گائے اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں لیکن شرکاء میں سے اگر کسی شریک کا حصہ ساتویں سے کم ہو تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی۔ ہاں ساتویں حصے سے زیادہ کی ہو سکتی ہے۔ مثلاً گائے یا اونٹ کی چھ یا پانچ یا چار افراد کی طرف سے قربانی ہو تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سب کے حصے برابر ہوں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو۔
گائے یا اونٹ کے شرکاء میں سے کوئی ایک بھی کافر یا بے دین یا بد مذہب ہو یا ان میں سے کسی کا مقصود قربانی نہیں بلکہ گوشت حاصل کرنا ہو تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔
قربانی کے سب شرکاء کی نیت تقرب ہو یعنی کسی کا ارادہ گوشت حاصل کرنا نہ ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی کر نا چاہتے ہوں بلکہ قربانی کے ساتھ عقیقہ کی بھی شرکت ہو سکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔
شرکت میں قربانی ہو ئی تو ضروری ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو زائد ملے یا کم یہ ناجائز ہے۔ یہ خیال کرنا کہ کم و بیش ہوگا تو ایک دوسرے کو معاف کر دیں گے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ البتہ تمام حصہ دارکسی ایک شریک کو مالک بنادیں کہ وہ جسے چاہے گوشت دے اور جسے چاہے نہ دے اور اس کے نادینے سے کوئی شریک ناراض بھی نہ ہو تو جواز کی صورت ہوسکتی ہے اور اسے تقسیم کرنے کیلئے وزن کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ (وقار الفتاوی، جلد چہارم،ص۲۷۴)
قربانی کے متفرق مسائل:
(۱) ایک شخص فقیر تھا اور اس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا
باقی تھا کہ وہ غنی ہوگیا تو اس کو پھر قربانی کرنا ہوگی کہ پہلے جو کی تھی وہ
واجب نہ تھی۔(عالمگیری)
(۲) قربانی کے وقت میں قربانی ہی کرنا لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم
مقام نہیں ہوسکتی۔ مثلاً بجائے قربانی کے اس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے قربانی میں نیابت ہو سکتی ہے یعنی خود کر نا ضروری نہیں۔ دوسرے کو اجازت دی اور اس نے کردی تو ہوجائیگی (بہار شریعت)
(۳) ایام النحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اس نے نہیں کی تو قربانی فوت
ہوگئی اب نہیں ہو سکتی۔
(۴) قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت
کو صدقہ نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی۔اب یہ چاہتاہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا ء کرے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ (عالمگیری)
(۵) جس جانور کی قربانی واجب تھی ایام النحر گزرنے کے بعد اسے بیچ ڈالا تو
اس رقم کا صدقہ کرنا واجب ہے۔(عالمگیری)
(۶) قربانی کرتے وقت جانور اچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا قربانی
ہوجائے گی۔ (درمختار ……ردالمحتار)
(۷) قربانی کا جانور مر گیا تو غنی پر لازم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے
اور فقیر کے ذمہ دوسرا جانور واجب نہیں اور اگر قربانی کا جانور گم ہوگیا یا چوری ہوگیا اور اس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا اب پہلا مل گیاتو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں میں سے جس کو چاہے اس کی قربانی کرے اور فقیر پر واجب ہے کہ دونوں کی قربانی کرے مگر غنی نے دوسرا جانور کی قربانی کی اور اس کی قیمت پہلے سے کم ہے تو جتنی کمی ہے اتنی رقم کا صدقہ کرے ہاں اگر پہلے کو بھی قربان کر دیا تو اب صدقہ واجب نہ رہا۔ (درمختار……ردالمحتار)
(۸) شرکاء نے قربانی کے لئے گائے خریدی اور ان میں سے ایک شریک کا
انتقال ہوگیا۔ مرحوم کے ورثا ء نے اگرشرکاء سے کہہ دیا کہ تم اس گائے کو اپنی طرف سے اور اس کی طرف سے قربانی کرو اور انہوں نے کرلی تو جائز ہے اور بغیر اجازت ورثاء ان شرکاء نے قربانی کی تو کسی کی نہ ہوئی۔ (ہدایہ)
(۹) ایام النحرکی دونوں راتوں میں قربانی ہو سکتی ہے مگر رات میں ذبح کر نا
مکروہ ہے۔(عالمگیری)
(۰۱) قربانی کا جانور مسلمان سے ذبح کراناچاہیے اگر کسی مجوسی ’کافر‘ مشرک‘
ہندو‘ بے دین‘ یا مرتد سے قربانی کا جانور ذبح کرایا تو قربانی نہیں ہوئی بلکہ
یہ جانور حرام اور مردار ہے۔ (بہار شریعت)
(۱۱) قربانی کا گوشت کافر‘ ہندو‘ مرتد‘ بے دین‘ اور بھنگی کو نہ دیں۔ (بہار شریعت)
(۲۱) قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے اور نہ غنی کو کھلا سکتا
ہے بلکہ اس کا صدقہ کر دینا واجب ہے اگر چہ منت ماننے والا فقیر ہو خود نہیں
کھا سکتا۔(بہار شریعت)
(۳۱) میت کی طرف سے قربانی کی تو اس کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور
دوسروں کو بھی دے سکتا ہے اور اگر میت نے وصیت کی تھی کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس صورت میں خود نہیں کھائے گا بلکہ ساراگوشت صدقہ کرے۔ (ردالمحتار)
(۴۱) قربانی کی کھال یا گوشت قصائی کو اجرت میں نہیں دے سکتے۔(ہدایہ)
(۵۱) قربانی کی اور اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے تو اسے صدقہ کردیں یا اسے
بھی ذبح کردیں اور مرا ہو ا بچہ ہے تو اسے پھینک دے کہ مردار ہے قربانی
ہو جائے گی۔ (بہار شریعت)
(۶۱) دوسرے نے جانور ذبح کروایا اور خود اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا کہ دونوں
نے مل کر ذبح کیا تو دونوں پر بسم اللہ واجب ہے ایک نے بھی قصداً چھوڑ دیا یہ خیال کر کے چھوڑ دی کہ دوسرے نے کہہ دی مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے تو دونوں صورتوں میں جانور حرام ہے۔(درمختار)
(۷۱) مالک نصاب نے قربانی کی منت مانی تو اس کے ذمہ دو قربانیاں واجب
ہوگئیں ایک وہ جو غنی پر واجب ہوتی ہے اورایک منت کی وجہ سے جتنی
قربانیوں کی منت مانی سب واجب ہیں۔ (درمختار۔ردالمحتار)
(۸۱) قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلے سے دسویں ذی الحجہ تک نہ حجامت
بنوائے نہ ناخن کٹوائے۔ (ردالمحتار)
(۹۱) مستحب یہ کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی
قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چتکبریٰ ہو حدیث میں
ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔ (عالمگیری)
(۰۲) قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ بھی لیا جاسکتا ہے۔
قربانی کا طریقہ:
قربانی کا جانور مذکورہ بالا شرائط کے موافق ہو اور ان عیوب سے پاک ہو جن کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے اور جانور عمدہ اور فربہ ہو قربانی سے پہلے اسے چارہ پانی دیں یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں اور ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کریں اور پہلے سے چھری تیز رکھیں جانور کو بائیں پہلو پراس طرح لٹائیں کہ منہ اس کا قبلہ کی طرف ہو اور اپنا داہنا پاؤں اس کے پہلو پر رکھ کر جلد ذبح کریں اور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں۔
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمُحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبْ الْعٰلَمِیْنَ۔ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَ مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ اللہ ِ وَاللہ ُ اَکْبَر۔
جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ ہاتھ پاؤں کاٹیں نہ کھا ل اتاریں قربانی اپنی طرف سے ہوتو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّ لَامُ وَ حَبِیْبِکَ سَیَّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ
اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرنا ہے تو”مِنّی“کی جگہ”مِنْ“ کہہ کر اس کا نام لیں۔
قربانی کا گوشت اور کھال کا حکم:
بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقراء کو دوسرا حصہ دوست احباب و اقارب کے لئے اور تیسرا حصہ اپنے گھر والوں کے لئے۔گوشت‘ کافر‘ مشرک‘ ہندو‘ بھنگی‘ اور بے دین مرتد کو نہ دیں اور گوشت وغیرہ قصائی کو اجرت کے عوض نہیں دے سکتا۔
اگر میت کی طرف سے قربانی کی تو اس کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے اور دوسروں کو کھلائے اور اگر میت نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے قربانی کردینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گو شت فقراء میں صدقہ کردے۔
قربانی کی کھال کو صدقہ کر دے یا کھال اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے مثلاً مصلّٰی بنا لیا جائے تو جائز ہے لیکن اگر اس کو فروخت کیا تو اس کی رقم کو صدقہ کر دے۔
مدارس دینیہ اور مساجد میں دینا جائز ہے البتہ امام مسجد کو تنخواہ کے طور پر دینا ناجائز ہے۔ اسی طرح ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے بال یا دودھ حاصل کرنا مکروہ ممنوع ہے اور جانور سے نفع حاصل کرنا بھی مثلاً سواری کرنا بوجھ لادنا یا اجرت میں دینا منع ہے اگر قربانی کے جانور کی اون کاٹ لی تو اس کو بھی صدقہ کردے۔
مدارس اسلامیہ کے نادار اور غریب طلباء کھالوں کا بہترین مصرف ہیں کہ اس میں صدقہ کا ثواب بھی ہے اور احیائے دین کی خدمت بھی،لیکن اس میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ صحیح سنی مدارس ہوں۔بے دین بد مذہب کو ہر گز نہ دیں ورنہ وبال ایمان بن جائے گا کہ وہ آپ کی قربانی کی کھال سے آپ کے ایمان کی کھال اتار دیں گے اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر نے کا ذریعہ بنائیں گے۔
حلال جانور کے اعضاء کا حکم:
حرام چیزیں:
۱- بہتا ہوا خون ۲- پتہ ۳- مثانہ ۴- پیشاب کی جگہ
۵-پاخانہ کی جگہ ۶- کپورے ۷-حرام مغز۔ یہ سب حرام ہیں
مکروہ چیزیں:
تلی اورگردہ حضور ﷺ کو ناپسند تھے۔
جن کا کھانا مسنون ہے:
کلیجی‘ بکری کا سینہ اور دست زیادہ پسند تھے۔
٭٭٭
جاری کردہ ……جما عت اھلسنّت پاکستان کراچی (شعبہ نشرو اشاعت)
021-32786215 jamatahlesunnat@gmail.com
Facebook/jamatahlesunnatkarachi
