*🌹یوم عرفه کی گراں مایہ انمول ساعتیں🌹*
کسی بھائی کا کہنا ہے کہ جب ذى الحجة کے پہلے دس دن اور خاص طور پر یوم عرفہ قریب ہوتے ہیں تو مجھے *سباستیان* یاد آ جاتا ہے.
*یہ کون ہے؟ اور اس کا ان دنوں سے کیا تعلق ہے؟*
وہ شخص بتاتا ہے کہ *سباستیان ایک جرمن نوجوان ہے*.
اکتوبر 2012ء میں saturn نامی ایک کمپنی نے ایک مسابقے کا اعلان کیا اور اس مسابقے میں جیتنے والوں کو اس کمپنی نے اجازت دی کہ *وہ* 150 *سیکنڈ میں اس مارکیٹ میں داخل ہوں گے اور جو جو سامان اٹھا لیں گے وہ ہی ان کا انعام ہو گا اور اس کی قیمت ادا نہیں کرنا ہو گی.*
مقررہ دن ڈھائی منٹ کے لیے وہ سب جو مسابقے میں جیتے تھے، مارکیٹ میں داخل ہوئے اور جلدی جلدی سامان سمیٹنے لگے اور دکان سے باہر پھینک کر دوسرا اٹھا لیتے. جو بھی سامنے نظر آیا فوراً اٹھا لیا. جو ان کو چاہیے تھا یا نہ چاہیے تھا، قیمتی تھا یا سستا تھا، ان کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی. ان کو بس ڈھائی منٹ میں سامان سمیٹنا تھا.
*لیکن سب سے انوکھا کام سباستیان کا تھا.* اس نے جلدی سے *طےشدہ پروگرام کے تحت* ترکیب اور ترتیب کے ساتھ سامان سمیٹا جیسے کہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے. قیمتی ترین موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور اچھی برانڈ کا سامان وہ اوپر نیچے رکھتا ہؤا باہر نکلتا، پھر دوبارہ داخل ہوتا. باقی لوگ اس کی پرفارمنس اور سلیکشن اور ہمت دیکھ کر بہت حیران تھے. بالآخر ڈھائی منٹ کے بعد وہ تھکاوٹ سے زمین پر گر گیا اور آپ اندازہ کر لیں کہ اس نے *صرف ڈھائی منٹ میں* 29 *ہزار یورو کا قیمتی سامان اٹھا لیا تھا.*
اور سب سے پہلا جملہ باہر نکلتے ہی جو اس جوان کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا کہ *میں اپنی تکنیک میں کامیاب ہو گیا.*
اب اس کا انٹرویو کیا گیا کہ آپ نے یہ جملہ کیسے کہا؟ تو اس نے بتایا کہ جس دن میں نے اس مسابقے کا سنا تو روز اس مارکیٹ جاتا اور اپنے ذہن میں ترتیب کرتا کہ مہنگا سامان کہاں پڑا ہے؟ اور اپنی ترجیحات کو سب سے اوپر رکھتا اور طریقہ سوچتا کہ مجھے جب ڈھائی منٹ کے لئے اس مارکیٹ میں جانے کا موقع ملے گا تو میں *کیسے قیمتی سامان لوں گا؟* چونکہ میں دماغی طور پر پلاننگ کر چکا تھا اس لیے باہر نکلتے ہی اپنی جیت کا تصوّر الفاظ کی صورت میں میرے منہ سے نکلا.
جو بھائی یہ سارا قصہ سنا رہا تھا، کہتا ہے اس قصے میں *مجھے اپنے لیے عبرت نظر آئی* کہ مجھے ان دس دنوں میں اسی جرمن نوجوان کی طرح اوّل آنا ہے.
اس نے تو 29 ہزار یورو صرف دو منٹ میں حاصل کر لئے. *مجھے ان دس دنوں میں* بہت کچھ حاصل کرنا ہے. عرفہ جیسے عظیم دن میں اللّٰہ سے بہت دعائیں مانگنی ہیں.
امام اوزاعی رحمہ اللّه فرماتے ہیں:
*”میں ایسی قوموں کو جانتا ہوں جو یوم عرفہ کے لئے اپنی حاجات سنبھال لیتے* (*اپنی دعاؤں کی فہرست تیار کرتے*) *تاکہ اس دن اللّه سے مانگیں”*
ہم کیسے جانیں گے ان دنوں کی عظمت اور فضل کو اگر ہمارے پاس پہلے سے کوئی پروگرام نہ طے ہو کہ ان دنوں میں کیسے فائدہ لینا ہے؟
*کیسے جانیں گے کہ عرفہ کے دن سب سے زیادہ گردنیں اللّه تعالی جہنم سے آزاد کرتے ہیں.* اس دن اللّه کی رحمت بہت جوش میں ہوتی ہے. *اس دن کا روزہ پچھلے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کی معافی کا پیغام لاتا ہے* اور پھر اس کے لیے کوئی تیاری نہ کریں.
اگر یہ سب جان لیا تو پھر کیا پلاننگ کی ہم نے؟
اللّه کی قسم! اس دن بہت سے لوگوں کو دعا مانگنے کے سبب وہ کچھ مل گیا جس کا وہ تصوّر بھی نہ کر سکتے تھے. اس لئے *ہم سب کو دنیا اور آخرت میں جو جو کچھ چاہیے اس کی فہرست بنالیں.*
پھر عرفہ والے دن ہر کام کو بھول کر ظہر سے مغرب تک اپنے اللّه سے مانگ لیں.
کسی پر قرض ہے،
رشتہ نہیں ہو رہا،
اولاد نہیں ہو رہی،
کوئی مریض ہے،
فقر و فاقہ ہے،
روزگار نہیں ہے،
گناہ بہت ہیں،
تو پھر کس چیز کا انتظار ہے؟
*ہم خوبصورت ترین دنوں میں ہیں.* مانگ لیں اپنے رب سے اور اللّه کا شکر ادا کریں کہ ایک بار پھر زندگی میں عرفہ کا دن آ رہا ہے.
عبداللّه بن مبارک رحمہ اللّه کہتے ہیں کہ میں عرفہ کے دن عصر کے بعد سفیان ثوری رحمہ اللّه کے پاس گیا تو دیکھا وہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہیں.
انہوں نے مجھے دیکھا تو *میں نے ان سے پوچھا کہ اس میدان میں سب سے برے حال میں کون ہے؟*
*کون آج کے دن سب سے بدنصیب انسان ہے؟*
*انہوں نے جواب دیا کہ جو آج یہ سوچ لے کہ اللّه مجھے معاف نہیں کرے گا۔*
اے مسلمانو! اپنے گناہوں کو اس دن بڑا نہ سمجھنا بلکہ اللّہ سے امید رکھنا، وہ سب معاف کر دے گا. اور *اس دن اپنی کسی حاجت کو بڑا یا ناممکن نہ سمجھ لینا. جو دل چاہے اپنے رب سے مانگ لینا.*
اللّه تعالیٰ ہم سب کے ہر طرح کے گناہ معاف کر دے. ہمیں جہنم سے آزاد کر دے. ہماری سب کی دعائیں قبول فرما لے اور ہمارے روزے، ہماری نمازیں اور باقی نیکیاں قبول فرما لے.
اور اے کریم رب! اپنی رحمت کے سائے میں ہم سب کو لے لیں۔
آمین یا رب العالمین
