Site icon اردو محفل

حضرت علامہ مولانا شیخ الاسلام والمسلمین حافظ سلطان محمود

حضرت علامہ مولانا شیخ الاسلام والمسلمین حافظ سلطان محمود صاحب رحمة اللہ علیہ

(حیات و خدمات)

از قلم: مفتی بلال احمد شاہ ہاشمی

ابتدائی معلومات:-

شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ مولانا حافظ سلطان محمود صاحب رحمة اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت دریائے رحمت شریف، تحصیل حضرو ضلع اٹک کے اُس علمی و روحانی خانوادے میں ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے علم، عمل، زہد، تقویٰ اور رشد و ہدایت کا مرکز بنایا تھا۔ آپ سلطان الفقراء خواجہ حافظ عبد الغفور نقشبندی رحمة اللہ علیہ کے دولت کدہ پر جلوہ گر ہوئے۔ یہ وہ خانوادہ تھا جس کے فیوض و برکات سے نہ صرف گرد و نواح بلکہ دور دراز علاقوں کے طالبانِ علم، سالکانِ راہِ طریقت اور تشنگانِ معرفت سیراب ہوتے رہے۔

بقول شاعر:

یہ خاندانِ علم و عمل تھا عجب وقار

ہر فرد تھا مثالِ چراغِ سرِ مزار

آپ رحمة اللہ علیہ اپنے اسلاف کے علوم و معارف کے حقیقی امین اور اپنے اکابر کی روحانی و علمی روایات کے روشن ترجمان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علومِ ظاہری و باطنی کا ایسا حسین امتزاج عطا فرمایا تھا کہ آپ کی ذاتِ گرامی علم و عمل، شریعت و طریقت اور زہد و تقویٰ کا جامع مرقع بن گئی تھی۔چناں چہ عربی کا معروف مقولہ آپ کی ذات پر صادق آتا تھا:

“اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ”

“علما انبیاے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔”

سنِ ولادت:-

آپ کے سنِ ولادت کے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں۔ بعض کتب میں آپ کا سنِ پیدائش 1915ء مذکور ہے، تاہم یہ قول محلِّ نظر محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہی کتب میں آپ کے والدِ گرامی، قبلہ بابا جی دریوی رحمة اللہ علیہ، کا سنِ ولادت 1895ء تحریر کیا گیا ہے، اگرچہ اس تاریخ پر بھی کامل اتفاق نہیں۔ بفرضِ اتفاق سنِ ولادت 1915ء کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ قبلہ بابا جی دریوی رحمة اللہ علیہ تقریباً بیس برس کی عمر میں چار صاحبزادگان کے والد بن چکے تھے، کیوں کہ حضرت سلطان محمود صاحب رحمة اللہ علیہ بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ یہ امر دو جہتوں سے خلافِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔

اوّل یہ کہ ہمارے معاشرتی اور علاقائی عرف کے اعتبار سے بیس برس کی عمر میں دو شادیاں اور چار بچوں کا والد ہونا خلافِ معمول معلوم ہوتا ہے۔

ثانیاً خود حضرت سلطان محمود صاحب رحمة اللہ علیہ نے اپنی معروف تصنیف لمعاتِ نور میں تحریر فرمایا:

“بابا جی کے وصال کے وقت میری عمر تقریباً چالیس برس تھی۔”

اس تصریح کی روشنی میں اندازہ کیا جائے تو آپ کا سنِ پیدائش تقریباً 1936ء کے قریب بنتا ہے۔ تاہم صاحبزادہ محمود احمد صاحب نے راقم کو بتایا کہ حضور والا کا سنِ ولادت غالباً 1926ء ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بحقیقة الحال۔

حقیقتِ قطعیہ تو اللہ رب العزت ہی بہتر جانتا ہے، تاہم قرائن و شواہد کی روشنی میں 1926ء والا قول زیادہ قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ آپ کے چھوٹے بھائی، صاحبزادہ حافظ محمد عبد الغفور صاحب رحمة اللہ علیہ، کا سنِ ولادت 1935ء بیان کیا جاتا ہے۔

حق یہ ہے کہ تحقیق و احتیاط کا دامن تھامنا اہلِ علم کا شیوہ رہا ہے۔

نوٹ:-یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر نزاع، تعصب یا شدتِ بحث اختیار کی جائے، کیوں کہ اکابر کی عظمت کا مدار محض تواریخ و سنین پر نہیں بلکہ ان کے علم، عمل، اخلاص اور فیضان پر ہوتا ہے۔ اس تفصیل کے ذکر کا مقصد صرف یہ ہے کہ مختلف افراد اور مآخذ میں سنِ ولادت کے متعلق متنوع اقوال پائے جاتے ہیں، لہٰذا مناسب سمجھا گیا کہ تمام معروف روایات کو یکجا کر دیا جائے تاکہ قارئین کے سامنے مکمل صورتِ حال آجائے، پھر جس قول پر قلب مطمئن ہو، اسے اختیار کر لیا جائے۔

ابتدائی تعلیم:-

آپ رحمة اللہ علیہ نے حفظ و ناظرہ کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی بابا جی صاحب رحمة اللہ علیہ اور اپنے بڑے بھائی حافظ محمد صدیق رحمة اللہ علیہ سے حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے آپ کو غیر معمولی ذہانت، قوتِ حافظہ اور شغفِ قرآن سے نواز رکھا تھا۔ چناں چہ آپ کی عمرِ مبارک ابھی آٹھ یا نو برس ہی تھی کہ آپ حفظِ قرآنِ مجید کی دولتِ عظمیٰ سے سرفراز ہو چکے تھے۔

آپ نہایت مضبوط حافظِ قرآن تھے۔ کئی دہائیوں تک مسلسل نمازِ تراویح میں قرآنِ کریم سناتے رہے۔ حفظ کی روانی اور پختگی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ایک ہی رکعت میں مکمل قرآنِ پاک کی تلاوت فرما دی۔ یہ امر محض قوتِ حافظہ ہی نہیں بلکہ قرآنِ مجید سے قلبی تعلق، روحانی انہماک اور غیر معمولی شغف کی روشن دلیل ہے۔

بقول شاعر:

وہ حافظِ قرآن بھی، قرآن کا پیکر بھی

لب پر تھی تلاوت اور دل میں تھا نورِ حق

ابتدائی درسی کتب اپنے والدِ گرامی بابا جی دریوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ بعد ازاں علمِ صرف و نحو کے امام، حضرت علامہ محمد حسین المعروف کامروی بابا رحمة اللہ علیہ (المتوفی 1957ء) کی خدمت میں تقریباً چھ برس حاضر رہے اور علم صرف اور نحو میں مہارت حاصل کی۔

پھر عبدالحکیم (ملتان) کا سفر اختیار فرمایا، جہاں اپنے ماموں مولانا محمد امین صاحب اور دیگر اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے اور اکتسابِ فیض کیا۔ یہاں آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ علمِ تجوید و قرأت میں بھی خصوصی مہارت حاصل کی۔ عبدالحکیم میں آپ کا زمانۂ تعلیم تقریباً پانچ چھ برس پر محیط رہا۔

علمِ قرأت و تجوید میں آپ کے کمال کا اندازہ درجِ ذیل واقعات سے بخوبی ہوتا ہے۔

صاحبزادہ حافظ محمود احمد صاحب بیان کرتے ہیں:

“قبلہ والدِ گرامی کو علمِ تجوید اور اس کے قواعد پر اس قدر دسترس حاصل تھی کہ جب کبھی کیسٹوں میں کسی قاری کی تلاوت سنتے اور وہ معروف روایت سے ہٹ کر قرأت کرتا تو حضور فوراً بتا دیتے کہ یہاں فلاں قاعدہ جاری ہے اور یہاں فلاں وجہِ قرأت ہے۔”

اسی طرح آپ علیہ الرحمہ کے ایک شاگرد نے مجھے بیان کیا کہ:

“استاذ صاحب کو تجوید و قرأت پر کامل مہارت حاصل تھی۔ اس فن کے آپ شہسوار تھے، حتیٰ کہ علمِ تجوید کی اہم ترین کتاب “المقدمۃ الجزریہ “آپ کو زبانی یاد تھی۔”

یہ واقعات اس حقیقت پر روشن دلیل ہیں کہ آپ صرف حافظِ قرآن نہ تھے بلکہ فنِ قرأت کے ماہر، دقائقِ تجوید کے شناور اور علومِ قرآنیہ کے صاحبِ ذوق امام تھے۔

عربی کا مقولہ ہے:

“خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ”

“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔”

یہ حدیثِ مبارکہ آپ کی پوری زندگی کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

تدریس، زہد و عبادت:-

درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں دریائے رحمت شریف واپس تشریف لائے اور اپنے والدِ گرامی بابا جی علیہ الرحمہ کے حکم پر بڑی مسجد میں تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسی استقامت عطا فرمائی کہ وصالِ مبارک تک اسی مسجد شریف میں خدمتِ دین انجام دیتے رہے۔آپ کی درس گاہ سے بے شمار علما، حفاظ، ائمہ، خطبا اور داعیانِ دین نے فیض حاصل کیا اور پھر اطراف و اکنافِ عالم میں پھیل کر اشاعتِ اسلام کا فریضہ سر انجام دیا۔

آپ بلاشبہ علم و عمل کے تاجدار تھے۔ علم ایسا کہ بڑے بڑے علما کسی دقیق مسئلہ میں اشکال محسوس کرتے تو آپ کی طرف رجوع فرماتے، اور عمل ایسا کہ فرض نماز تو درکنار، سنتِ غیر مؤکدہ اور نمازِ تہجد تک کبھی قضا نہ ہوئی۔

آپ کے رفقا اور طویل عرصہ صحبت میں رہنے والے افراد بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی آپ کی تہجد قضا ہوتے نہیں دیکھی۔ بلکہ معمول یہ تھا کہ تہجد کے لیے باقاعدہ اذان دی جاتی اور نمازِ تہجد جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی۔ آپ عموماً تہجد میں چار پانچ پارے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

کیا خوب کہا گیا ہے:

؎

وہ شب زندہ دار ایسا تھا، سحر اس کی غلام تھی

جب اہلِ خواب سوتے تھے، وہ محوِ قیام تھا

آپ عموماً اسفار سے اجتناب فرماتے تھے تاکہ عبادات اور معمولات میں خلل نہ آئے۔ آپ کے ایک شاگرد بیان کرتے ہیں کہ:

“حضرت رات کے مختصر حصے میں گھر تشریف لے جاتے، اہلِ خانہ کا حال دریافت فرماتے اور پھر مسجد شریف واپس آجاتے تھے۔”

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی مسجد، محراب، قرآن اور ذکرِ الٰہی کے گرد گھومتی تھی۔

آپ شریعتِ مطہرہ کے ایسے پابند تھے کہ ہر حال میں حدودِ شرع کی رعایت فرماتے۔ حق گوئی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آپ کا نمایاں وصف تھا۔ نہ صرف خود شریعت پر مضبوطی سے قائم رہے بلکہ اپنے متعلقین، مریدین اور تلامذہ کو بھی عقائدِ صحیحہ اور اعمالِ صالحہ کی تلقین فرماتے رہتے۔

فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

علم را بر تن زنی مارے بود

علم را بر دل زنی یارے بود

یعنی علم اگر صرف ظاہر تک محدود رہے تو بوجھ بن جاتا ہے، اور جب دل میں اتر جائے تو انسان کا رفیق اور رہبر بن جاتا ہے۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کا علم ایسا ہی زندہ اور باعمل علم تھا۔

علم دوستی و شغفِ علم:-

آپ علیہ الرحمہ علم و عرفان کے ایسے شیدائی تھے کہ جب کبھی کوئی طالب علم، فاضل یا عالمِ دین آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا تو مجلسِ گفتگو لازماً علمی رنگ اختیار کرلیتی۔ آپ کے ہاں علم محض معلومات کا نام نہ تھا بلکہ وہ دل کی روشنی، روح کی غذا اور فکر کی بالیدگی کا سرچشمہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی گفتگو میں علم کی چاشنی، تحقیق کی پختگی اور استدلال کی قوت نمایاں نظر آتی تھی۔

آپ کی جلالتِ علمی اور رعبِ علمی کا یہ عالم تھا کہ بعض لوگ بے تکلفی سے آپ کے سامنے آنے سے بھی جھجکتے تھے۔ بعض احباب سے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ ہم صرف اس وجہ سے ملاقات کی سعادت حاصل نہ کرسکے کہ آپ کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی سختی اور جلال پایا جاتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جوہر شناس ہی ہیرے کی قیمت پہچانتا ہے۔ اہلِ علم جب آپ کے تبحرِ علمی، وسعتِ مطالعہ اور دقتِ نظر کو دیکھتے تو حیرت زدہ رہ جاتے کہ اس پایہ کا عالمِ کبیر ایک دور افتادہ دیہات میں گوشہ نشین ہے۔

اسی حقیقت کو کسی شاعر نے یوں بیان کیا ہے:

؎

قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری

ہر کسے را کی رسد ادراکِ درّ دری

جب علامہ اشرف سیالوی رحمة اللہ علیہ دریائے رحمت شریف تشریف لائے اور آپ کی شخصیتِ علمی کا مشاہدہ کیا تو بے ساختہ فرمایا کہ:“ایسی عظیم علمی شخصیت کو کسی بڑے شہر میں ہونا چاہیے تھا۔”

یہ جملہ دراصل آپ کے مقامِ علم و فضل کا ایک روشن اعتراف تھا۔

اسی طرح علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمة اللہ علیہ بھی آپ کی بے حد تعظیم و تکریم فرمایا کرتے تھے۔ صاحبزادہ حافظ محمود احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ بعض اوقات فون پر عرض کرتے:“حضرت! مجھے دم فرما دیجیے۔”

آپ کے ایک شاگرد نے مجھے ایک واقعہ بیان کیا کہ:

“ایک مرتبہ ہم سلطان الاولیاء کے ہمراہ لاہور حاضر ہوئے۔ داتا دربار کے قریب علامہ عبد الحکیم شرف قادری صاحب اپنے مکتبے پر موجود تھے۔ جونہی سلطان الاولیاء پر نظر پڑی، فوراً ادب و احترام سے کھڑے ہوگئے اور عرض کرنے لگے:

‘حضرت! ان دنوں بد مذہبوں نے جادو کروا رکھا ہے، زبان پر بڑا اثر ہے، بولا نہیں جاتا، آپ دم فرما دیں۔’”

ان واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اکابر علما آپ کے علم، روحانیت اور تقویٰ کے کس قدر معترف تھے۔

؎

وہ علم ہی کیا جو دلوں میں اُتر نہ جائے

وہ فیض ہی کیا جو زمانے کو سنور نہ دے

تقویٰ و پرہیزگاری:-

آپ علیہ الرحمہ زہد و تقویٰ کے اُس مقام پر فائز تھے جہاں پہنچنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ آپ کی زندگی اتباعِ سنت، خوفِ خدا اور احتیاطِ نفس کا مرقع تھی۔ دنیاوی بے احتیاطیوں سے اس درجہ اجتناب فرماتے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔ موجودہ دور میں ایسی مثالیں بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔

حضرت کا حال یہ تھا کہ:

جیب میں نوٹ رکھ کر نماز ادا نہ فرماتے، اس لیے کہ ان پر جاندار کی تصویر موجود ہوتی تھی۔

زکوٰۃ کی رقم مسجد یا مدرسہ پر صرف نہ فرماتے کہ یہ مصرفِ زکوٰۃ نہیں، بلکہ اگر کوئی شرعی فقیر آجاتا تو اسے دے دیتے۔

دن کے اوقات میں اکثر مسجد سے باہر تشریف نہ لاتے تاکہ کسی غیر محرم عورت پر اچانک نظر نہ پڑ جائے۔

آخری عمر تک باوجود ضعف و نقاہت کے کھڑے ہوکر نماز ادا فرماتے رہے۔

مسجد شریف کی صفائی بھی اپنے دستِ مبارک سے فرمایا کرتے تھے۔

یہ وہ اوصاف ہیں جو اکابر و اسلاف کی یاد تازہ کردیتے ہیں۔

؎

متاعِ بے بہا ہے دردِ دل، سوزِ یقیں پیدا

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ سکندری

اور فارسی کا یہ شعر آپ ہی جیسے مردانِ خدا پر صادق آتا ہے:

؎

زاہد بہ تماشائے بہشت است و بہ حوراں

عارف صفتِ رویِ خدا می نگرد باز

اخلاقِ حسنہ:-

آپ اخلاقِ حسنہ، مروّت، شفقت اور حلم و بردباری کا ایسا پیکر تھے کہ آپ کی مجلس میں آنے والا ہر شخص اپنائیت اور محبت کی خوشبو محسوس کرتا۔ بلاشبہ اس دورِ پُرفتن میں، جہاں معمولی شہرت اور وقتی مقبولیت انسان کو غرور و تکبر کے تخت پر بٹھا دیتی ہے، وہاں قبلہ سلطان الاولیاء رحمة اللہ علیہ کا طرزِ عمل نہایت منفرد اور قابلِ رشک تھا۔ آج کے زمانے میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جیسے ہی کسی شخص کو کچھ شہرت، مسند یا مریدین حاصل ہوجائیں تو وہ اپنے گرد پروٹوکول، خدام اور رسمی پردوں کی ایسی دیواریں کھڑی کر لیتا ہے کہ ایک غریب، مسکین اور عام آدمی اس تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا؛ مگر آپ رحمة اللہ علیہ علم و عمل کے آفتاب ہونے کے باوجود نہایت سادہ مزاج، منکسر المزاج اور عامة الناس کے لیے سراپا شفقت تھے۔

نہ کوئی ہٹو بچو کا شور، نہ لمبی قطاروں میں انتظار کی اذیت، نہ ملاقات کے لیے رسمی اجازت نامے؛ بلکہ جو بھی حاضر ہوتا، بڑی سہولت اور محبت کے ساتھ بارگاہِ شفقت میں رسائی پالیتا۔ آپ خود آنے والوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات فرماتے، ان کی دلجوئی کرتے اور ان کے احوال دریافت فرماتے۔ آپ کی خانقاہ میں آنے والا شخص یوں محسوس کرتا گویا کسی روحانی باپ کی آغوشِ محبت میں آگیا ہو۔

آپ کا معمول تھا کہ سائل یا مہمان کے آنے پر پہلے لنگر سے اس کی تواضع فرمائی جاتی، پھر نہایت تحمل اور توجہ کے ساتھ اس کا مسئلہ سنا جاتا اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی رہنمائی فرمائی جاتی۔ یہی وہ خانقاہی روایت تھی جس نے ہزاروں دلوں کو آپ کا گرویدہ بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے مادّی اور خود غرض ماحول میں ایسا کردار، ایسی شفقت اور ایسی بے نفسی خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔

حضرت سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے:

؎

خلق خوشتر ز حسنِ صورت نیست

ہر کہ او خوش خُلق تر، نیکوتر

اور یہی حال آپ علیہ الرحمہ کا تھا کہ آپ کی اصل عظمت صرف علم میں نہیں بلکہ حسنِ اخلاق میں بھی نمایاں تھی۔

بقول شاعر:

؎

مٹی میں بھی خوشبو بھر دی سیرت کے اجالوں نے

وہ لوگ فرشتوں جیسے تھے، جو خاک نشیں ٹھہرے

حق گوئی:-

آپ علیہ الرحمہ حق گوئی، جرأتِ اظہار اور علمی غیرت کے بلند مینار تھے۔ حق بات کہنے میں کبھی مداہنت، مصلحت یا تعلقات کی رعایت نہ فرماتے۔ جہاں محسوس کرتے کہ کسی نے عقائد و نظریات میں غلط بات کہی یا تحریر کی ہے تو فوراً اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے۔ آپ کے نزدیک حق، حق تھا؛ خواہ کہنے والا اپنا ہو یا پرایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی “لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ” کی عملی تفسیر دکھائی دیتی ہے۔

حضرت پیر کرم شاہ صاحب نے جب “تحذیر الناس میری نظر میں” کے عنوان سے کتاب تحریر فرمائی تو متعدد اہلِ علم نے محسوس کیا کہ اس میں بعض مقامات اصلاح و توضیح کے متقاضی ہیں۔ چنانچہ قبلہ سلطان الاولیاء رحمة اللہ علیہ نے نہایت مدلل، واضح اور خیرخواہانہ انداز میں پیر صاحب کو خط تحریر فرمایا اور علمی انداز سے اپنی گزارشات پیش کیں۔ یہی نہیں بلکہ جب محمود شاہ محدث ہزاروی نے بعض اعتقادی مسائل میں لوگوں کو اشتباہ اور گمراہی میں ڈالنے کی کوشش کی تو آپ نے اس کے رد اور اصلاح کے لیے بھی قلم اٹھایا اور اسے مکتوب ارسال فرمایا۔

اسی طرح لال مسجد کے خطیب عبد اللہ نامی شخص نے جب دعا بعد از نمازِ جنازہ کو بدعت قرار دیا تو آپ نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مدلل جواب تحریر فرمایا۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ذمہ داران کو بھی مختلف مواقع پر متعدد خطوط ارسال کیے اور علمی نکات کی وضاحت فرمائی۔ قاضی زاہد الحسینی کو بھی بارہا خطوط لکھے ،افہام و تفہیم کی کوشش کی ۔ اسی طرح مولوی غلام اللہ خان کے بیٹوں، جو دریائے رحمت شریف کے قرب و جوار میں فتنہ و انتشار کا سبب بن رہے تھے، ان کو بھی بارہا خطوط لکھے، مناظرے اور علمی مکالمے کی دعوت دی؛ مگر کسی کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ آپ کے سامنے علمی میدان میں ٹھہر سکے یا آپ کے سوالات و اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے سکے۔

آپ کی علمی بصیرت اور قوتِ استدلال کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ پروفیسر طالب الرحمن اور زبیر علی زئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کئی گھنٹوں تک مسلسل اعتراضات اور شبہات کی بوچھاڑ کرتے رہے؛ مگر آپ علیہ الرحمہ نے نہایت سکون، وقار اور علمی متانت کے ساتھ ان کے ایک ایک اعتراض کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ حالاں کہ آپ ان کے مخصوص اندازِ استدلال اور ہیر پھیر سے پہلے سے واقف بھی نہ تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو وسعتِ علم، حاضر جوابی اور فہمِ دین عطا فرمایا تھا، اس کے سامنے وہ سب لاجواب ہوکر رہ گئے۔

عربی کا مشہور مقولہ ہے:

«الحقُّ أبلجُ والباطلُ لجلج»

یعنی حق روشن اور واضح ہوتا ہے، جب کہ باطل ہمیشہ متزلزل اور مضطرب رہتا ہے۔

آپ رحمة اللہ علیہ کی پوری زندگی اسی حق گوئی، علمی استقامت اور دفاعِ اہلِ سنت سے عبارت تھی۔

بقول علامہ اقبال:

؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

واقعی آپ علیہ الرحمہ محبت و شفقت میں نرم ریشم تھے، مگر حق و صداقت کے میدان میں آہنی عزم رکھنے والے مردِ مجاہد تھے۔

سفر حرمین:-

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے حرمین شریفین کی زیارت و حاضری کا شرف حاصل کیا ہے۔ سن 1982 ء میں آپ حج بیت اللہ شریف کی سعادت سے مشرف ہوئے تھے۔

اولاد:-

اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک فرزندِ ارجمند عطا فرمایا جن کا نام “محمود احمد” رکھا گیا۔ صاحبزادہ حافظ محمود احمد صاحب اپنے عظیم والدِ گرامی کے علمی و روحانی مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ تدریس و تربیتِ طلبہ میں مصروف ہیں، خلقِ خدا کی خدمت اور دلجوئی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں اور اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ متین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی عمر، علم، عمل اور اخلاص میں برکتیں عطا فرمائے اور اُنھیں استقامت علی الدین نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

؎

یہ فیضِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

تلامذہ:-

یوں تو آپ کے تلامذہ کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ آپ کے متعدد بھائی بھی آپ ہی کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حتیٰ کہ پروردۂ آغوش ولایت بابا جی عبد الحق نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ نے بھی آپ سے اکتسابِ علم فرمایا۔ بدقسمتی سے ہمیں تمام تلامذہ کا مکمل ریکارڈ میسر نہیں، تاہم چند معروف تلامذہ کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

مولانا ضیاء الرحمن سلطانی ( میانوالی)

مولانا احسان قادری ( واہ کینٹ)

مولانا عرفان القادری ( فتح جنگ)

مولانا داؤد قادری ( واہ کینٹ)

مولانا حامد رضا ( کامرہ)

مولانا عارف قادری ( ملاں منصور)

مولانا محمد احمد ( فیصل آباد)

سید عطاء اللہ شاہ گیلانی ( ڈھیر شریف)

سید نادر شاہ صاحب ( خراخیل)

یہ حضرات آج بھی مختلف علاقوں میں دینِ اسلام کی خدمت، تدریس و تبلیغ، اور اشاعتِ علومِ اہلِ سنت میں مصروف ہیں، اور اپنے استاذِ گرامی کے فیوض و برکات کو آگے منتقل کررہے ہیں۔

؎

نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

تصانیف و تالیفات:-

اگرچہ آپ کی پوری حیاتِ مبارکہ تدریسی انہماک، دینی خدمات، رشد و ہدایت، اصلاحِ خلق اور خانقاہی مصروفیات میں بسر ہوئی، اس لیے آپ کو تصنیف و تالیف کے لیے وہ یکسوئی میسر نہ آسکی جو عموماً اربابِ قلم کو درکار ہوتی ہے، تاہم اس کے باوجود آپ نے علمی دنیا کو ایسے گراں قدر علمی و تحقیقی شہ پارے عطا فرمائے ہیں جو آپ کے وسعتِ مطالعہ، ژرف نگاہی، علمی بصیرت اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روشن مظاہر ہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جس شخصیت کی زندگی درس و تدریس، تربیتِ طالبانِ علم، اصلاحِ عوام، ذکر و فکر اور خدمتِ دین میں بسر ہو، اُس کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ محض تحریر نہیں بلکہ عمر بھر کے مشاہدات، مجاہدات اور علمی ریاضتوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔ چناں چہ آپ کی تصانیف بھی اسی اخلاص، تحقیق اور سوزِ دروں کا حسین امتزاج ہیں۔

بقول شاعر:

؎

قلم گوید کہ من شاہِ جہاںم

قلمکش را بہ دولت می‌رسانم

اور اردو شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

؎

وہ علم ہی کیا جس میں عمل کی نہ ہو خوشبو

وہ فکر ہی کیا جس میں تپشِ دلِ مومن نہ ہو

آپ کی تصانیف میں عقائدِ اہلِ سنت، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ردِّ باطل، اثباتِ حق، فقہی و اعتقادی مسائل اور اصلاحی موضوعات نہایت مدلل انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ خصوصاً فتنۂ وہابیت، بدعت کے مغالطوں، علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تعظیمِ شعائرِ دین اور اولیاے کرام کے فضائل کے باب میں آپ کی تحریریں اہلِ سنت کے لیے مضبوط علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آپ کی معروف تصانیف درج ذیل ہیں:

1. لمعات نور

2. نضرة النواظر فی مسئلة الحاضر والناظر

3. یارسول اللہ کہنا منع کیوں؟

4. حیلة الاسقاط اور نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت

5. نماز دریائے رحمت

6. دفع الشکوک والشبہات فی تحقیق الشرک والبدعات

7. تنویر القلوب والابصار بدلائل ثبوت علم الغیب للنبی المختار

8. اذان کے ساتھ درود شریف اور بعد نماز ذکر بالجہر کا احادیث سے ثبوت

9. شرک و بدعت

10. تحقیق الحقیقت

11. ولی کی پہچان

12. کشف الغطا من علم المصطفیٰ

13. توضیح البیان

14. نظرِ انصاف ادھر بھی

15. خلاصة الحقائق

16. از خدا خواہم توفیقِ ادب

17. وہابیوں کی توحید

18. تبلیغی جماعت سے اہلِ سنت کا اختلاف

19. دم، تعویذ اور تبرکات کی شرعی حیثیت

20. دعوتِ فکر

21. روائع کنز الایمان

22. فرقہ ناجیہ

یہ امر بھی نہایت حیرت انگیز اور قابلِ غور ہے کہ آپ نے اپنی عمرِ مبارک کی ابتدائی نصف صدی سے بھی زائد عرصہ مسلسل تدریسی، روحانی اور خانقاہی مصروفیات میں گزار دیا تھا، جس کے باعث باقاعدہ تصنیفی میدان میں زیادہ کام نہ کرسکے۔ مگر جب قلم اٹھایا تو ایسے موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی جو اُس دور کے فکری و اعتقادی فتنوں کا مؤثر جواب ثابت ہوئی۔ گویا آپ کی تحریریں محض کتابیں نہیں بلکہ اہلِ سنت کے عقائد و نظریات کے محافظ قلعے ہیں۔

؎

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف “لمعات نور” اور چند دیگر رسائل مستقل طور پر شائع ہوئے، جبکہ اکثر علمی و تحقیقی رسائل کو بعد ازاں “مقالاتِ سلطانیہ” میں شامل کردیا گیا، تاکہ اہلِ علم ایک ہی مجموعے میں آپ کے افکار و تحقیقات سے استفادہ کرسکیں۔

بلاشبہ آپ کی یہ تصانیف آنے والی نسلوں کے لیے علمی چراغ، فکری رہنما اور مسلکِ اہلِ سنت کے مضبوط دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں، اور جب تک علم و تحقیق کی محفلیں سجتی رہیں گی، آپ کے قلم کی روشنیاں اہلِ حق کے قلوب کو منور کرتی رہیں گی۔

وصال:-

19 جنوری 2020ء بروز اتوار علم و معرفت، زہد و عبادت، رشد و ہدایت کا یہ درخشندہ آفتاب اپنے ہزاروں شاگردوں، مریدوں، متعلقین اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دریائے رحمت شریف کی فضا پر ایک سکوتِ غم طاری ہو گیا ہو، مسجد کے در و دیوار اشک بار ہوں اور اہلِ علم ایک عظیم سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے ہوں۔

بروز پیر صبح 10 بجے دریائے رحمت شریف میں شمس الاولیاء صاحبزادہ حافظ پیر عبد الحق نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ کی امامت میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں عوام و خواص کا ایک عظیم اجتماع شریک ہوا، اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔

بقول شاعر:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اللہ تعالیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کے مزارِ انور کو مرجعِ خلائق بنائے، اور ہمیں ان کے علم، عمل، اخلاص اور اتباعِ سنت کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

Exit mobile version