روایت ہے حضرت ابوذرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت سے بالشت بھربچھڑا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتاردی ۱؎ (احمدوابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی جو ایک ساعت کے لیئے اہل سنت والجماعت کے عقیدے سے الگ ہوا یا کسی معمولی عقیدے میں بھی ان کا مخالف ہوا تو آیندہ اس کے اسلام کا خطرہ ہے،بکری وہی محفوظ رہتی ہے جو میخ سے بندھی رہے۔مالک کی قید سے آزاد ہوجانا بکری کی ہلاکت ہے۔مسلمانوں کی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسی ہے جس میں ہر سنی بندھا ہوا ہے یہ نہ سمجھو کہ فرض کا انکار ہی خطرناک ہے،کبھی مستحبات کا انکار بھی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔سیدنا عبداﷲ ابن سلام نے صر ف اونٹ کے گوشت سے بچنا چاہا تھا کہ رب نے فرمایا:” یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوۡا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ “