کیا عید میلاد النبیﷺ منانا عیسائیوں کی ایجاد ہے؟
آل مصطفی مصباحی
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ سرکار دوعالمﷺ کا جشن ولادت منانا کیسا ہے؟ مسلمانوں کو عید میلاد النبیﷺ منانا چاہئے یا نہیں؟ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں ہے کہ جشن عید میلاد النبیﷺ کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث سے نہیں ملتا۔ یہ کرسچن کی ایجاد ہے۔ سرکارﷺ کے چھ سو سال بعد شروع ہوا۔ ہم کو حکم نہیں ہے کہ حضورﷺ کی ولادت (پیدائش) (Birth Day) یا وصال کا دن منائیں۔ یہ دن بھی عام دنوں کی طرح ہونا چاہئے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ فتویٰ قرآن و حدیث اور شریعت اسلامیہ کی رو سے صحیح ہے یا نہیں؟ صحیح و تحقیقی جواب سے نوازیں؟ بینوا توجروا۔
جواب: ماہ مبارک ربیع الاول شریف ہو یا کوئی دوسرا مہینہ، اس میں حضورﷺ کی ولادت مقدسہ مبارکہ کا جشن منانا، اظہار فرحت و سرور کرنا، واقعات میلاد کا تذکرہ کرنا نہ صرف جائز و مستحسن بلکہ باعث خیر وبرکت ہے۔ تذکرۂ ولادت پاک تو سنت الٰہیہ بھی ہے اور سنت نبی کریمﷺ و سنت صحابہ و تابعین و طریق جملہ مسلمین بھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدہا سال سے پوری دنیا کے عامہ مسلمین و علمائے راسخین و عارفین جنہیں قرآن کریم نے ’’اولوالامر‘‘ کہا ’’راسخون فی العلم‘‘ فرمایا، ولادت رسولﷺ کے موقع پر محفل ذکر ولادت کرتے اور خوشی و عید مناتے رہے ہیں اور مسلمانان عالم میں یہ رائج عمل مولود مقبول ہے۔
آیت کریمہ ہے:
قل بفضل اﷲ وبرحمتہ فذالک فلیفرحوا
تم فرماو& اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں
(یونس، آیت 58)
واذکرو نعمۃ اﷲ علیکم
اور اﷲ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو
(آل عمران، آیت 103)
واما بنعمۃ ربک فحدث
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو
(الضحیٰ، آیت 12)
کے تحت داخل ہے۔ حضور اقدسﷺ کی ذات اقدس سے بڑھ کر نہ کوئی نعمت خلق خدا کو ملی، نہ اس سے بڑا کوئی فضل و رحمت اﷲ تعالیٰ نے انسانوں، جنوں، فرشتوں و دیگر مخلوقات کو عطا فرمائی۔
سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے آیت کریمہ
’’الذین بدلوا انعمۃ اﷲ کفرا‘‘
(ابراہیم۔ آیت ۲۸)
(جنہوں نے اﷲ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا) کی تفسیر میں فرمایا ’’ہو محمدﷺ‘‘ (اﷲ عزوجل کی نعمت سے مراد محمدﷺ ہیں) اس عظیم و جلیل نعمت پر شکر ادا کرنا خواہ تذکرۂ میلاد کی صورت میں ہو یا جشن و جلوس وغیرہ کی صورت میں، یہ سب اسی حکم ادائے شکر کے تحت داخل ہیں۔
قرآن کریم کی صراحت کے مطابق موقع ولادت (پیدائش کا دن) ان تین موقعوں میں سے ایک ہے جن پر سلامتی کی دعا انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے خود فرمائی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی دعا قرآن کریم میں بایں کلمات وارد ہوئیں
’’وسلام علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیا‘‘
سلامتی ہو اس پر جس دن پیدا ہو اور جس دن مرے گا اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا
(مریم آیت ۱۵)
’’والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا‘‘
اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں
(مریم: آیت ۳۳)
اسی طرح سورہ قصص آیت نمبر ۷ تا ۱۳ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر ہے۔
سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۴ تا ۳۷ میں حضرت مریم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی ولادت کا ذکر ہے۔ قرآن کریم میں انبیاء کا ذکر میلاد اس بات کی دلیل ہے کہ سیدالانبیاء نبی اکرمﷺ کا ذکر میلاد ایک اچھا عمل اور باعث خیر وبرکت و قابل اجر و ثواب ہے۔ پھر انبیائے کرام کا یہ تذکرۂ میلاد اور ان کی دعائوں کا بیان ان کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ہوا۔ جو اس بات پر دلیل ہے کہ انبیائے کرام و سید الانبیاء علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کے وصال مبارک کے بعد ان کا ذکر میلاد کوئی برا عمل نہیں بلکہ قرآن کریم کی اتباع و پیروی ہے۔
قرآن کریم میں حضور اکرمﷺ کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے میلاد النبیﷺ کا تذکرہ موجود ہے۔
سورہ آل عمران میں ہے
’’ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘
پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضروراس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا
(آل عمران آیت ۸۰)
حدیث پاک میں بھی میلاد النبی کا تذکرہ موجود ہے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ’’ان رسول اﷲﷺ سئل عن صوم یوم الاثنین، فقال فیہ ولدت و فیہ انزل علی‘‘ (حضور اقدس٭ﷺ سے دوشنبہ (سوموار) کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اسی دن میں پیدا ہوا، اور اسی دن میری طرف وحی نازل کی گئی۔
(مسلم شریف، جلد ۱، ص ۳۶۸)
محدثین نے اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت فرمائی، اس حدیث سے رسول اﷲﷺ کا اپنی ولادت مبارکہ کے دن روزہ رکھنا ثابت ہے جس سے یہ بات بغیر کسی شبہ کے واضح ہے کہ حضور اقدسﷺ کی پیدائش کا دن معظم و لائق احترام ہے۔ اب اگرکوئی ولادت مبارکہ کے دن خوشی مناتا ہے، صدقات و خیرات کرتا ہے، واقعہ میلاد کے تذکرہ کے لئے جلسے کرتا ہے، جشن مناتا ہے، اس دن نبی کی یاد میں جلوس نکالتا ہے، کوئی اچھا اور نیک کام کرتا ہے تو یہ رسول اﷲﷺ کی متابعت اور پیروی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم آپﷺ کی حیات ظاہری میں بھی اور حیات ظاہری کے بعد بھی ولادت مبارکہ کے حالات و واقعات بیان فرماتے تھے۔
جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ وہ حضور اقدسﷺ کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کو ولادت مبارکہ کے حالات وواقعات بتا رہے ہیں۔
نبی کریمﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا
’’ان اﷲ تعالیٰ فتح لک ابواب الرحمۃ والملئکۃ من فعل ذالک نجح‘‘
اﷲ تعالیٰ نے تم پر رحمت اور فرشتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں جو شخص بھی یہ عمل کرے گا، نجات پائے گا
(التنویر فی مولد السراج المنیر، ص ۶۲۳)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے بارے میں منقول ہے
’’انہ کان یحدث ذات یوم فی بیتہ وقائع علیہ السلام‘‘
ایک دن وہ اپنے گھر میں نبی اکرمﷺ کی پیدائش مبارک کے حالات و واقعات بیان فرما رہے تھے
(التنویر فی مولد السراج المنیر، ص ۶۲۳)
مذکورہ بالا آیت و نصوص و آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کی ولادت مبارک کا تذکرہ کرنا جائزو مستحسن ہے۔ اور یہ کہ یہ قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی اتباع و پیروی ہے۔ میلاد النبیﷺ کے تاریخی واقعات و حالات کا بیان اور اس کے لئے مجلس کا انعقاد عہد صحابہ میں بھی ہوا اور یہی چیز میلاد کی مجلس کا مقصود اعظم اور جزو اہم ہے۔
قرون ثلاثہ کے بعد اس ہیئت کذائیہ میں اضافہ ہوا اور میلاد النبیﷺ کے دن کو عید وخوشی اور گوناگوں نیکی و مسرت اور جشن ولادت کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔ یہ تفصیلات اور ہیئت میلاد اگرچہ بعد میں رواج پذیر ہوئی مگر یہ بھی اجمالاً یا تفصیلاً ماذونات شرعیہ بلکہ مامورات شرعیہ میں داخل ہیں۔ صاحب مجمع البحار علامہ طاہر فتنی، جو ائمہ محققین واجلہ فقہاء و محدثین میں سے ہیں، اپنی مشہور و معروف کتاب ’’مجمع بحار الانوار‘‘ کے خاتمے میں تحریر فرماتے ہیں:
بحمدہ تعالیٰ اﷲ عزوجل نے جو آسانی پیدا فرمائی اس کی وجہ سے ’’مجمع بحار الانوار‘‘ کا آخری حصہ رحمت و انوار کے سرچشمے کا مظہر مسرت و رونق کا مہینہ ماہ ربیع الاول کی بارہویں شب میں پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں ہر سال ہمیں اظہار مسرت کا حکم دیا گیا ہے۔ الیٰ آخرہ)
یہی وجہ ہے کہ علماء فرماتے ہیں کہ جو چیز شریعت کے ماذونات و مامورات میں داخل ہو، وہ ہرگز ناجائز و بدعت مذمومہ نہیں ہوسکتی، ایسی چیز کو وہی شخص ممنوع وبدعت سئیہ قرار دے گا جس سے قرآن فہمی، حدیث کی سمجھ اور شرعی معلومات کی توفیق چھین لی گئی ہو، ورنہ جس کام کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہو، اصول شرع جس کے جواز کے مقتضی ہوں، اس کے جواز میں کیا کلام ہوسکتا ہے؟ چاہے تفصیلا وہ عمل قرون ثلٰثہ میں نہ رہا ہو، اس لئے علمائے اصول فرماتے ہیں جواز کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا و رسول جل و علا و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا
’’لان الاصل فی الاشیاء الاباحقہ‘‘
کمافی الاشباہ و النظاہر وغیرہا۔ کسی چیز کی ممانعت قرآن و حدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا قرآن و حدیث کی مخالفت کرا اور نئی شریعت گڑھتا ہے، الیاقوتتہ الواسطتہ میں ہےباقاعدہ اصول بینہ ذمہ مدعی ہے اور قابل جواز تممسک باصل، جسے ہرگز کسی دلیل کی حاجت نہیں، بعض حضرات جہلاً یا تجاہلاً مانع فقہی و بحثی میں فرق نہ کرکے دھوکہ کھاتے دیتے ہیں کہ تم قائل جواز اور ہم مانع و منکر، تو دلیل تم پر چاہئے۔ حالانکہ یہ سخت ذہول و غفلت یاکید وخذیعت ہے، نہ جانا یا جانا اور نہ مانا کہ قول جواز کا حاصل کتنا؟ صرف اس قدر کہ ’’لم ینہ عنہ یالم یومر بہ ولم ینہ عنہ‘‘ تو مجوز نافی امرونہی ہے اور نافی پر شرعاً و عقلاً بینہ نہیں، جو حرام و ممنوع کہے وہ نہی شرعی کا مدعی ہے، ثبوت دینا اس کے ذمے ہے کہ شرح نے کہاں منع کیا ہے؟(ص ۳۔۴)
اسی میں ہے
’’علامہ عبدالغنی نابلسی ’’رسالۃ الصلح بین الاخوان‘‘ میں فرماتے ہیں
’’ولیس الاحیتاط فی الافتراء علی اﷲ تعالیٰ باثبات الحرمۃ والکراہۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی الاباحۃ التی ہی الاصل‘‘
علامہ علی مکی رسالہ اقتدا بالمخالف میں فرماتے ہیں
’’من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ہو الصلحۃ واما القول بالفسادو والکراہۃ فیحتاج الی حجۃ‘‘
’’غرض مانع فقہی مدعی بحثی ہے اور جوا زکاقائل مثل سائل مدعا علیہ، جس سے مطالبۂ دلیل محض جنون یا تسویل، اس کے لئے یہی دلیل بس ہے کہ منع پر کوئی دلیل نہیں‘‘
نفس میلاد و تذکرہ واقعات میلاد تو ہر دور میں رہا۔ عہد رسالت و عہد صحابہ و تابعین میں بھی اپنی مخصوص شکل میں موجود تھا۔ اس لئے اس کی اصل کا جواز استحسان تو منصوص ہے۔ رہا جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کا موجودہ طریقہ تو یہ ہیئت کذائیہ بعد کی ایجاد ہے جسے اصطلاح میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں۔ مگر یہ ’’بدعت حسنہ‘‘ یعنی اچھی ایجاد ہے نہ کہ ’’بدعت سیئہ‘‘یعنی بری ایجاد۔
علامہ سخاوی علیہ الرحمہ، مسلم الثبوت محدث ہیں، وہ اس ہیئت کی ایجاد کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’میلاد النبیﷺ کا مروجہ طریقہ قرون ثلٰثہ میں کسی سلف سے منقول نہیں، اس کی بنیاد قرون ثلٰثہ کے بعد پڑی پھر پوری دنیا کے تمام شہروں اور خطوں کے مسلمان جب بھی ربیع الاول شریف کا مہینہ آتا ہے، اس میں جشن مناتے ہیں، پرتکلف کھانوں سے دستر خوان سجاتے ہیں، اس مہینے کی راتوں میں صدقات بانٹتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں، نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں اور میلاد النبیﷺ کے واقعات و حالات پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے برکات و ثمرات بھی ان پر خوب ظاہر ہوتے ہیں‘‘
(سبل الہدیٰ والرشاد، ج ۱، ص ۳۶۲)
عید میلاد النبیﷺ کے مروجہ طریقے کے تعلق سے جلیل القدر محدث حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ
میرے نزدیک مروجہ طریقے سے میلاد کرنے کی اصل اس حدیث سے ثابت ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے کہ جب حضور اکرمﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ دسویں محرم (عاشورہ) کو روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اسی دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبویا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی اس لئے ہم لوگ شکرانے کے طور پر آج کے دن روزہ رکھتے ہیں۔
حضور اقدسﷺ نے فرمایا
’’ہم تمہاری بہ نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حقدار ہیں‘‘
آپ نے خود اس دن روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی حکم دیا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ جس دن میں اﷲ تعالیٰ کسی عظیم نعمت کا فیضان فرمائے یا کسی بڑی مصیبت سے نجات دلاکر احسان فرمائے تو خاص اس انعام الٰہی کے دن میں شکرانے کے طور پر کوئی کام کرنا اور پھر اس عمل کو آنے والے ہر سال میں اسی دن کرتے رہنا جائز و مستحسن ہے۔ نبی کریمﷺ کی تشریف آوری سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں، لہذا مناسب ہے کہ اہل اسلام خاص ولادت نبوی کے دن اس کا اہتمام کریں تاکہ یہ دسویں محرم کے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے مطابق ہوجائے‘‘
(الحاوی للفتاویٰ، ج ۱، ص ۲۶۰)
یہی وجہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں حضور اقدسﷺ کی ولادت کے ذکر کی محفلوں کا انعقاد، اس کا اعلان و اظہار اور اس عظیم نعمت پر صدقات و خیرات وغیرہ کرکے ادائے شکر بجا لانے کا عمل ہمیشہ سے مسلمانوں میں رائج رہا، چنانچہ چھٹی صدی کے مشہور و معتبر محدث علامہ ابن جوزی اپنی کتاب مولد النبیﷺ میں لکھتے ہیں:
’’عرب کے شرق و غرب، مصر و شام اور تمام آبادی اہل اسلام میں بالخصوص حرمین شریفین میں مولد النبیﷺ کی مجالس منعقد ہوتی ہیں۔ ماہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے ہی خوشیاں مناتے ہیں، قیمتی کپڑے پہنتے ہیں، قسم قسم کی زیب و آرائش کرتے ہیں، خوشبو اور سرمہ لگاتے ہیں اور ان دنوں میں خوشیاں مناتے ہیں اور جو ان کو میسر ہوتا ہے، خرچ کرتے ہیں۔ میلاد النبیﷺ سننے کا بہت اہتمام کرتے ہیں اور اس کے عوض اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بڑی کامیابی اور خیروبرکت حاصل کرتے ہیں اور یہ آزمایا ہوا امر ہے کہ ان دنوں میں کثرت سے خیروبرکت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام ملک میں سلامتی و عافیت، رزق میں وسعت، مال میں زیادتی، مال و دولت میں ترقی او رامن وامان پایا جاتا ہے، اور تمام گھروں میں سکون آرام حاصل ہوتا ہے۔ یہ سب رسول اکرمﷺ کی برکت کے سبب سے ہے‘‘
اس سے ظاہر ہوا کہ سواد اعظم جمہور اہل اسلام نے یہ مبارک مجلس منعقد کی ہے اور آج تک پورے عالم اسلام میں یہ تقریب سعید منائی جارہی ہے اور اعازم دین و جمہور اہل اسلام میں سے کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا۔ مشہور محدث امام نووی شافعی استاذ شیخ ابوشامہ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ (متوفی ۶۶۵ھ) فرماتے ہیں:
’’نو ایجاد امور میں سب سے اچھا کام وہ ہے جو ہمارے زمانے میں ہورہا ہے۔ ہر سال یوم عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر اہل اسلام اظہار فرحت و سرور و صدقات و خیرات کرتے ہیں کہ اس میں غریبوں کے ساتھ حسن سلوک اور حضورﷺ کی محبت اور آپ کی تعظیم و توقیر کے ساتھ آپ کی ولادت مبارکہ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اﷲ کریم نے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو اس دن رحمتہ للعالمین بناکر بھیجا‘‘
(السیرۃ الحلبیہ، ج ۱، ص ۱۳۷)
میلاد النبیﷺ کی خوشی پر اجر و نفع کا ذکر صحیح بخاری شریف میں ہے
’’جب ابولہب مرگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے بہت بری حالت میں دیکھا پوچھا، ابولہب! تیرے ساتھ کیا معاملہ درپیش ہوا؟‘‘ اس نے جواب دیا’’مجھے تمہاری بعد صرف یہ بھلائی پہنچی کہ (محمدﷺ کی پیدائش کی خوشی میں) ثویبہ باندی کو آزاد کرنے کی وجہ سے کچھ سیراب کردیا جاتا ہوں‘‘
(بخاری، جلد ۲، ص ۳۶۳)
اس حدیث کے ذیل میں حافظ شمس الدین جزری لکھتے ہیں:
’’جب یہ کافر (ابولہب) جس کی مذمت پر قرآن اترا، نبی کریمﷺ کی شب ولادت کی خوشی میں اس کے عذاب میں تخفیف کردی گئی تو امت محمدیہ کے اس مسلمان کا کیا کہنا جو میلاد النبیﷺ کے موقع پر خوشی و جشن مناتا ہے، حضورﷺ کی محبت میں استطاعت بھر خرچ کرتا ہے، میری زندگی کی قسم اﷲ کریم کی طرف سے اس کی جزاء یہ ہے کہ اپنے فضل و کرم سے اسے جنت الفردوس میں داخل کرے گا‘‘
