روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں نے جنابت سے غسل کیا اور فجر پڑھ لی۔پھر دیکھا کہ ناخن برابر جگہ کو پانی نہ پہنچا فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم اس جگہ ہاتھ پھیر لیتے تو کافی ہوتا ۱؎ (ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی اگرغسل کے وقت وہاں ہاتھ پھیرلیتے تو پانی بہہ جاتایاغسل کے بعدوضو وغیرہ کے وقت ہاتھ پھیر کر پانی بہا لیتے تو بھی کافی ہوتا،اب وہ جگہ دھوؤ اورنمازدوبارہ پڑھو۔حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس جگہ پر صرف مسح کافی تھا،پانی بہانے کی حاجت نہیں،کیونکہ غسل میں سارے جسم پر پانی بہانا فرض ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرغسل کا کوئی عضو سوکھا رہ گیا اوربہت دیر کے بعدپتا لگے تووہ دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف وہ جگہ دھودینا کافی ہے۔