روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں تصویرہو اور نہ اس میں جس میں کتا اورجنبی ہو ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جو بلا ضرورت حرمت و عزت سے رکھی جائے۔اورکتے سے مرادبلا ضرورت محض شوقیہ طور پر پالا ہوا کتاہے۔جنبی سے مراد وہ شخص ہے جوبلاضرورت شرعیہ بےغسل رہا کرے۔لہذا حدیث پر نہ تویہ اعتراض ہے کہ کبھی روپیہ پیسہ میں فوٹو ہوتے ہیں جو ہرگھر میں رہتے ہیں،نہ یہ کہ کھیتی یا گھر بار کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے،نہ یہ کہ رات کو جنبی وضو کرکے رات گزار سکتا ہے،نہ یہ کہ اگر ان گھروں میں فرشتے نہیں آتے تو ان لوگوں کی حفاظت یا نامۂ اعمال کی تحریر کون کرتا ہے یا ان کی جان کون نکالے گا۔