اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں
sulemansubhani نے Thursday، 4 April 2019 کو شائع کیا.
حدیث نمبر :439
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں تصویرہو اور نہ اس میں جس میں کتا اورجنبی ہو ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جو بلا ضرورت حرمت و عزت سے رکھی جائے۔اورکتے سے مرادبلا ضرورت محض شوقیہ طور پر پالا ہوا کتاہے۔جنبی سے مراد وہ شخص ہے جوبلاضرورت شرعیہ بےغسل رہا کرے۔لہذا حدیث پر نہ تویہ اعتراض ہے کہ کبھی روپیہ پیسہ میں فوٹو ہوتے ہیں جو ہرگھر میں رہتے ہیں،نہ یہ کہ کھیتی یا گھر بار کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے،نہ یہ کہ رات کو جنبی وضو کرکے رات گزار سکتا ہے،نہ یہ کہ اگر ان گھروں میں فرشتے نہیں آتے تو ان لوگوں کی حفاظت یا نامۂ اعمال کی تحریر کون کرتا ہے یا ان کی جان کون نکالے گا۔
ٹیگز:-
رحمت , 'حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم , سنن نسائی , جنبی , گھر , کتا , فرشتوں , شوقیہ طور , حدیث , حضرت علی بن ابی طالب , بےغسل , حضرت علی , فوٹو , روپیہ پیسہ , رسول اﷲﷺ , بلا ضرورت , نامۂ اعمال , سنن ابوداؤد , لوگوں , حرمت , کتے , عزت , تصویر , فرشتے