روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حوضوں کےمتعلق پوچھا گیاجو مکہ اورمدینہ کے درمیان ہیں جن پر درندے کتے اور گدھے سب آتے ہیں ان سے وضو کرنا کیسا فرمایا کہ وہ جو اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا جو بچا وہ ہمارا وہ ہمارے لئے پاک کن ہے ۱؎ (ابن ماجہ)روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے آپ نے فرمایا کہ دھوپ کے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو اس لئے کہ وہ کوڑھ پیداکرتا ہے ۲؎ (دارقطنی)
شرح
۱؎ یہ حدیث گزشتہ کی تفسیر ہے،یعنی جب پانی زیادہ ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا۔خیال رہے کہ ان احادیث میں ان حوضوں کی مقدار کا ذکر نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں سو۱۰۰ہاتھ مربع پانی کثیر ہے،جس کی دلیل بیر”بالوعہ” کا مسئلہ ہے۔اورحضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ایک کنوئیں کا حریم دس۱۰ہاتھ ہے کہ اس حدیث میں دوسراکنواں نہ کھوداجائے۔۲؎ یہ اگرچہ فاروق اعظم کا قول ہے،لیکن صحابہ کرام کی موجودگی میں ہے اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا جس سے یہ مسئلہ اجماعی ہوگیا۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے ہر پانی مراد ہے تھوڑا ہویازیادہ،لہذا حوض کا پانی جب دھوپ میں گرم ہوجائے تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔