روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے پلیدی کو روندے تو مٹی اس کے لیئے پاکی ہے ۱؎(ابوداؤد)اورابن ماجہ کی روایت میں اس کے معنی ہیں۔
شرح
۱؎ یہاں نجاست سے سوکھی ناپاکی مرادہے یعنی اگر جوتے یا چمڑے کے موزے سے سوکھی ناپاکی لگ جائے تو آئندہ چلنے کی وجہ سے وہ الگ ہوجائے گی،نیز اگر گیلی ناپاکی بھی جوتے وغیرہ میں لگ کر سوکھ جائے وہ بھی زمین سے رگڑ کھاکر پاک ہوجاتی ہے مگر تر ناپاکی جب تک کہ تر رہے رگڑ سے پاک نہیں ہوسکتی،نیز غیرول والی نجاست جیسے پیشاب یا شراب اگر جوتے یا موزے میں لگ کر سوکھ جائے تو بغیر دھوئے پاک نہیں ہوگا،یہ حدیث مجمل ہے اس کی تفصیل کتب فقہ سے معلوم کرو۔