روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ اﷲ ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے جیسا کہ پہلے گزر گیا۔خیال رہے کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سےدو وجہ سے:ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں،نہر کا پانی جاری ہے ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے،یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے کیسا ہی گندا ہو۔دوسرے یہ کہ کنوئیں کا پانی تکلف سے حاصل ہوتا ہے،رسی ڈول کی ضرورت پڑتی ہے کمزور آدمی پانی کھینچ نہیں سکتا مگر نہر کا پانی بے تکلف حاصل ہوتا ہے،ایسے ہی نماز بے تکلف ادا ہوجاتی ہے جس میں کچھ نہیں کرنا پڑتااورجب دروازے پرنہرہوتوغسل کے لئے دور جانا بھی نہیں پڑتا۔خیال رہے کہ گناہ دل کا میل ہے اور نماز میلِ دل کے لیے پانی۔