روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت پرمشقت ڈال دوں گا تو انہیں حکم دیتا کہ عشاءکوتہائی یا آدھی رات تک پیچھے کریں ۱؎ (احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ اَوْنِصْفِہٖ میں راوی کو شک ہے کہ حضورنے یا تہائی فرمایا یا آدھا،یہ حدیث ان احادیث کی شرح ہے جن میں اول وقت نماز پڑھنے کی ترغیب ہے،اس حدیث نے بتایا کہ وہاں اول وقت سے اول وقتِ مستحب مرادتھا۔مطلب یہ ہے کہ اگر امت پرگرانی کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی اتنی تاخیر کو فرض قراردے دیتا کہ اس سے پہلے عشاءجائز ہی نہ ہوتی،اب یہ تاخیرسنت تو ہے فرض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باذنِ الٰہی احکام شرعیہ کے مالک ومختارہیں کہ بحکمِ پروردگار جوچاہیں فرض کریں جو چاہیں فرض نہ کریں۔اس کے لئے ہماری کتاب “سلطنت مصطفےٰ”دیکھو۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور امت پر ایسے رحیم وکریم ہیں کہ عبادات میں بھی امت کی راحت کا خیال رکھتے ہیں۔