روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں راوی کہ فجرکی نماز حاضری کا وقت ہے فرمایا اس میں رات اوردن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی۔حدیث کامقصدیہ ہے کہ قرآن کریم میں”قرآن الفجر”سے مرادنماز فجر ہے، “مشہود”سے مراد دن رات کے فرشتوں کی حاضری کا وقت،یعنی چونکہ فجرکے وقت دوقسم کے فرشتے جمع ہوتے ہیں،لہذا اس کی زیادہ پابندی کرو۔معلوم ہوا کہ جس نماز میں اﷲ کے مقبول ہوں وہ نماز زیادہ قبول ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ بزرگوں کے مزارکے پاس نماززیادہ افضل ہے اسی لئے بزرگوں کے آستانوں پر مسجدیں بناتے ہیں،ان کا ماخذ یہ آیت ہے۔