روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پرہونگے ایک وہ غلام جواﷲ کا حق اوراپنے مولا کا حق اداکرتا رہے اور ایک وہ شخص جوکسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں اورایک وہ شخص جو ہردن رات پانچ نمازوں کی اذان دے ۱؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔قیامت میں اولًا سب لوگ کھڑے ہوں گے اسی لیے اسے قیامت کہتے ہیں،پھرمختلف مقامات میں ہوں گے۔کوئی عرش اعظم کے سایہ میں،کوئی کرسیوں پر،اوریہ تین جماعتیں مشک کے پہاڑوں پرکہ سب لوگ انہیں دیکھیں بھی اوران کی خوشبوؤں سے فائدہ بھی اٹھائیں،چونکہ دنیا میں بھی لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھائے،اس لئے وہاں بھی لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں گے۔خیال رہے کہ امام سے قوم کی رضا کا مطلب یہ ہے کہ امام کے تقویٰ اخلا ق سے مسلمان راضی ہوں،بے دینوں یافاسدوں کی ناراضی کا اعتبارنہیں۔نیزسرکاری نوکرجوڈیوٹی بھی دے اورنماز کی بھی پابندی کرے وہ بھی اس غلام میں داخل ہے جو مولٰی اور رب کے حق اداکرے۔