روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم کومغرب کی اذان کے وقت دعا کا حکم دیاجاتاتھا ۱؎ (بیہقی دعوات کبیر)
شرح
۱؎ غالبًا اس سے وہی دعا مرادہے جو حضرت ام سلمہ کی روایت میں گزر چکی۔خیال رہے کہ بعض لوگ اذان کی دعا میں ہاتھ اٹھانے کو منع کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں جب تک کہ ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو کسی کو منع کرنے کا کیا حق ہے،ہردعامیں ہاتھ اٹھاناسنت سے ثابت ہے،جیسا کہ دعاؤں کے باب میں ان شاءاﷲ آئے گا،سواءنمازکی دعاؤں کے کہ وہاں نماز میں مشغولیت کی وجہ سے ہاتھ نہیں اٹھا سکتے۔ملا علی قاری نے مرقاۃ میں کھانے کے بعدکی دعا میں ہاتھ اٹھانے کومنع فرمایا مگر اسی کی وجہ یہ بتائی کہ شاید بعض لوگ ابھی کھاناکھارہے ہوں تو انہیں شرمندگی ہوگی کہ سب کھا چکے ہم ابھی تک کھارہے ہیں،یہ بھی ان کی رائے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے نہ کہ ممانعت شرعیہ۔