روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفرسے واپس ہوتے تو دن میں چاشت کے وقت ہی تشریف لاتے پھرجب آتے تو مسجد سے ابتدا کرتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے پھروہاں ہی کچھ دیر بیٹھتے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ سفرسے گھرکوواپس دن میں آنا چاہیئے مگر یہ اس زمانے کے لیےتھا جب کہ مسافر اپنی آمدکی اطلاع پہلے سے نہیں دے سکتا تھا۔اب چونکہ تار و خط کے ذریعے اطلاع پہلے دی جاسکتی ہے اس لئےرات میں آنے میں کوئی حرج نہیں،گھر والے اس کے منتظر اوراس کے لئےتیار رہیں گے۔دوسرے یہ کہ گھرپہنچ کر پہلے مسجد میں آئے اور وہاں نفل قدوم پڑھے اگر وقت کراہت نہ ہو،ورنہ وہاں صرف کچھ بیٹھ لے۔تیسرے یہ کہ گھر میں آنے سے پہلے مسجد میں کچھ بیٹھے اورلوگوں سے وہاں ہی ملاقات کرلے۔