روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو مغرب یا فجر پڑھ لے پھر انہیں امام کے ساتھ پالے تو دوبارہ نہ پڑھے ۱؎ (مالک)
شرح
۱؎ یعنی فجر و مغرب پڑھ چکا ہو تو امام کے ساتھ دوبارہ نہ پڑھے کیونکہ فجر کے نفل ممنوع اور تین رکعت نفل نہیں ہوتے لہذا اسے دوبارہ فرض ہی پڑھنے پڑیں گے اور فرض دوبارہ ایک دن میں ہوتے نہیں لہذا نہ پڑھے۔ اس حدیث نے گزشتہ تمام ان احادیث کی شرح کردی جہاں امام کے ساتھ دوبارہ پڑھ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ وہاں صرف ظہر و عشاء مراد ہیں۔خیال رہے کہ یہ حدیث موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات قیاس سے نہیں کی جاسکتی۔