روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشراق کی دو رکعتوں پر پابندی کرے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر جھاگ جتنے ہوں ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یہاں بھی ضحٰی سے مراد اشراق کے نفل ہیں،حفاظت سے مراد انہیں ہمیشہ پڑھنا ہے۔بحالت سفر اگر اتنی دیر مصلےٰ پر نہ بیٹھ سکے تو سفر جاری کردے اور سورج چڑھ جانے پر یہ نفل پڑھ لے اﷲ تعالٰی اس پابندی کی برکت سے گناہ بخش دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل پر ہمیشگی کرنا منع نہیں ہاں انہیں فرض و واجب سمجھ کر ہمیشگی کرنا ممنوع ہے،لہذا جو لوگ بارھویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں یا ہمیشہ گیارھویں کو فاتحہ کرتی ہیں وہ اس ہمیشگی کی وجہ سے گنہگار نہیں۔