روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت پڑھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور چھوڑے ر ہتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ پڑھیں گے ہی نہیں ۱؎(ترمذی)
شرح
۱؎ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز چاشت کی احادیث بہت ہیں اس کی راوی صرف ام ہانی نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ سے جو منقول ہے کہ آپ چاشت نہیں پڑھتے تھے اس سے مراد ہے کہ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے کبھی کبھی پڑھتے تھے یا مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ ہم کو نوافل پر ہمیشگی چاہیے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نوافل پر ہمیشگی نہ فرماتے تھے تاکہ امت اسے واجب نہ سمجھ لے یا امت کےلیئے سنت مؤکدہ نہ بن جائے،آپ کے اور احکام ہیں ہمارے کچھ اور۔مرقاۃ نے فرمایا کہ چاشت کی نماز آپ پر واجب تھی مگر ہر دن نہیں کبھی کبھی۔واﷲ اعلم!