روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی پر قبلہ رو ہوجاتے پھرتکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے اب آپ کو سواری جدھربھی متوجہ کرتی ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی تکبیرتحریمہ کے وقت رو بقبلہ ہوجاتے،پھر بعدمیں رخ بدل جانے کی پرواہ نہ کرتے،اب بھی سفر میں نوافل کا یہی حکم ہے۔خیال رہے کہ سرکار اونٹنی کو قبلہ کی طرف نہ پھیرتے تھے ورنہ سفر غلط ہوجاتا بلکہ اونٹنی کا رخ جانب سفررہتا اپنا رخ جانب قبلہ۔