روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سال سے کم جانور ذبح نہ کرو مگر جب کہ دشوار ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ ذبح کرو ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ معنی بہت موزوں ہیں کیونکہ بکری ایک سال سے کم،گائے دو سال سےکم اور اونٹ پانچ سال سےکم کا جائزنہیں ان عمروں میں ان سب جانوروں کا نام مسنہ ہوتاہے۔بھیڑ کا چھ۶ماہ کابچہ اگرموٹا تازہ ہوجو ایک سال کی بکریوں سےمل جائےتو قربانی جائز ہے۔خیال رہے کہمعز بکری،بھیڑ،دنبہ سب کو شامل ہے،غنم صرف بکری کا نام ہے اور ضان بھیڑ اور دنبہ کا۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ ایک سال کی بکری کی قربانی چھ۶ مہینہ کی بھیڑ کی قربانی سے افضل ہے۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ افضل قربانی اونٹ کی ہے،پھر گائے کی،پھر بکری کی،پھربھیڑ کی۔