Site icon اردو محفل

امام بخاری : سیرت اور کردار

امام بخاری کی سیرت اور کردار

ابوسعید بکر بن منیر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کے پاس فروخت کے لیے کچھ سامان آیا، شام کو ان کے پاس بعض تاجر آئے اور پانچ ہزار درہم کے نفع پر وہ سامان خریدنا چابا امام بخاری نے کہا: میں تمہیں کل بتاؤں گا۔ دوسرے دن تاجروں کا دوسرا گروہ آیا انہوں نے دس ہزار درہم کے نفع سے خریدنے کی پیش کش کی امام بخاری نے کہا:کل جو تاجر آئے تھے میں نے دل میں ان کو فروختنکرنے کی نیت کرلی تھی اب میں پانچ ہزار درہم کے نفع کی خاطر اپنی نیت بدلنانہیں چاہتا۔ (تاریخ بغداد ج ۲ ص 12 تاریخ دمشق ج ۵۵ ص۲۰-۵۹)

محمد بن منصور اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے اپنی ڈاڑھی سے تنکا نکال کر مسجد کے فرش پر ڈال دیا امام محمد بن اسماعیل اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور لوگوں کی طرف بھی دیکھ رہے تھے جب لوگ غافل ہوئے تو امام بخاری نے وہ تنکا اٹھا کر اپنی آستین میں رکھ لیا اور جب امام بخاری مسجد سے نکلے تو وہ تنکا مسجد سے باہر پھینک دیا۔ (تاریخ بغداد ج ۲ ص 13 تاریخ دمشق 55 ص 59)

بکر بن منیر بیان کرتے ہیں کہ امام محمد بن اسماعیل کہتے تھے۔ مجھے امید ہے کہ میں الله تعالی سے اس حال میں ملاقات کروں گا کہ الله عز وجل مجھ سے یہ حساب نہیں کرے گا کہ میں نے کسی کی غیبت کی ہو۔ (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۱۳ تاریخ دمشق ج 55 ص۲۰ تہذیب الکمال ج16 ص 94)

ابوحاتم وراق بیان کرتے ہیں کہ جب امام بخاری کسی سفر پر جاتے تو میں اور وہ ایک کمرے میں ہوتے تھے ایک مرتبہ میں نے ان کو دیکھا وہ رات میں پندرہ بیس مرتبہ اٹھے ہر مرتبہ اٹھ کر چراغ جلایا احادیث نکالیں ان پر نشان لگائے پھر سر رکھ کر لیٹ گئے پھر سحری کے وقت تیرہ رکعت نماز تہجد پڑھی جس میں ایک رکعت وتر بھی شامل تھی (یعنی آخری دوگانہ کے ساتھ ایک رکعت ملا کر سب رکعتوں کو وتر کردیا) – امام بخاری جتنی بار بھی اٹھے انہوں نے مجھے نہیں جگایا میں نے ان سے کہا: آپ اپنے اوپر اتنی مشقت برداشت کرتے ہیں اور مجھے نہیں اٹھاتے امام بخاری نے کہا: تم نوجوان آدمی ہو میں تمہاری نیند خراب نہیں کرنا چاہتا ایک دن میں نے دیکھا کہ امام بخاری پیٹھ کے بل لیٹے ہوئے تھے اس وقت وہ فربر میں کتاب التفسیر ‘‘ تصنیف کر رہے تھے اور اس دن انہوں نے بہت زیادہ احادیث کی تخریج کر کے اپنے آپ کو تھکا لیا تھا میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد اللہ ! میں نے آپ سے ایک دن یہ سنا تھا کہ جب سے آپ نے ہوش سنبھالا ہے آپ کوئی چیز بغیر علم کے نہیں لکھتے اس وقت جو آپ لیٹے ہوئے ہیں اس میں کون سا علم ہے؟ امام بخاری نے کہا: تم آج سارا دن کام کر کے تھک چکے ہیں اور یہ دشمن کا سرحدی علاقہ ہے مجھے یہ خطرہ ہوا کہ دشمن کی طرف سے کوئی مصیبت آسکتی ہے تو میں نے چاہا آج رات آرام کر کے کل کے کام کے لیے توانائی حاصل کروں تا کہ اگر دشمن نے اچانک حمله کردیاتو ہم حرکت کرسکیں۔ (تاریخ بغداد ج 2 ص 14. تاریخ دمشق ج 55 ص 52-53 تہذيب الكمال ج 16 ص 94-95 هدی الساری ص 474-475 – مع فتح الباری ج 1 دار المعرفہ بیروت)

 

Exit mobile version