Site icon اردو محفل

امام بخاری: کا زہد

امام بخاری کا زہد

حافظ محمد بن احمد ذہبی متوفی 748ھ لکھتے ہیں:

محمد بن عباس فربری بیان کرتے ہیں کہ ایک دن امام بخاری نے مجھے بہت زیادہ احادیث لکھوائیں، پھر ان کو میری تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا خیال ہوا تو انہوں نے کہا تم کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ کھیل کود والے اپنے کھیل کود کے مشغلے میں خوش ہیں اور فن وحرفت والے اپنے پیشوں میں خوش ہیں اور تاجر حضرات اپنی تجارتوں میں خوش ہیں اور تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہو میں نے کہا: مجھے ملال نہیں ہے بلکہ میں حدیث لکھنے سے محظوظ ہوتا ہوں اور میں نے امام بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس میں دنیا کا ذکر ہو مگر میں اس کی ابتداء اللہ تعالی کی حمد و ثناء سے کروں گا۔

امام بخاری سے بعض اصحاب نے کہا: آپ نے فلاں شخص کو برا کہا ہے امام بخاری نے کہا: سبحان اللہ ! میں نے کسی شخص کا برائی کے ساتھ ذکر نہیں کیا الا یہ کہ میری زبان سے سھوا کوئی بات نکلی ہو اور قیامت کے دن میرے نامہ اعمال سے کسی کا نام برائی کے ساتھ نہیں نکلے گا ۔

امام بخاری کے بعض اصحاب نے امام بخاری کی ایک باغ میں دعوت کی اور ہماری بھی ان کے ساتھ دعوت کی جب ہم بیٹھ گئے تو باغ والےنے باغ کی تعریف کی اور کہا: وہ اس باغ میں مجالس منعقد کرتا رہتا ہے اور اس کی نہروں میں پانی جاری کرتا رہتا ہے پھر اس نے امام بخاری سے پوچھا: اے ابو عبد الله! آپ کو یہ کیسا لگتا ہے؟ امام بخاری نے کہا: یہ دنیا کی زندگی ہے۔

امام بخاری کا ایک شخص مقروض تھا جس نے امام بخاری سے پچیس ہزار درہم لیے ہوئے تھے۔ امام بخاری کو خبرملی کہ وہ شخص۔ آمل ( ایک مقام) میں آیا ہوا ہے ہم اس وقت فربر میں تھے ہم نے امام بخاری سے کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم اس شخص سے آپ کا مال وصول کریں امام بخاری نے کہا: ہمیں اسے ڈرانا نہیں چاہئے اس شخص کو معلوم ہوا کہ امام بخاری فربر میں ہیں تو وہ خوارزم چلا گیا ہم نے امام بخاری نے کہا: آپ عامل کے حاکم ابوسلمہ الكشانی سے کہیں کہ وہ خوارزم کے حاکم کے نام ایک مکتوب لکھ دے کہ اس شخص کو گرفتار کرکے اس سے آپ کی رقم وصول کی جائے امام بخاری نے کہا: اگر میں نے اس سے سفارشی مکتوب لکھوایا تو وہ بھی مجھ سے سفارشی مکتوب لکھوانے کی شمع رکھے گا اور کیا پتا اس کی سفارش جائز ہے یا ناجائز؟! لہذا میں دنیا کے بدلے میں اپنے دین کو نہیں فروخت کروں گا ہم نے بہت کوشش کی لیکن امام بخاری راضی نہیں ہو حتی کہ ہم نے خود آمل کے حاکم سے بات کی اور اس نے خوارزم کے حاکم کے نام مکتوب لکھ دیا جب امام بخاری کو خبرملی تو انہیں بہت سخت رنج ہوا انہوں نے کہا: تم مجھ پر میرے نفس سے زیاده . شفقت نہ کرو اور انہوں نے خوارزم میں اپنے بعض اصحاب کے نام مکتوب لکھا کہ ان کے مقروض کے ساتھ صرف نیک سلوک کیا جائے ۔یہ دونوں مکتوب ایک ساتھ خوارزم پہنچے پھر وہ مقروض آمل آیا اور مروکی طرف جانے کا ارادہ کیا پھر سلطان نے اس مقروض پر تشدد کرنے کا ارادہ کیا امام بخاری نے اس کو ناپسند کیا اور اس مقروض سے اس پر صلح کرلی کہ وہ ہر سال امام بخاری کو دس درہم کی معمولی رقم دے دیا کرے اور امام بخاری نے اس سے پچیس ہزار درہم لینے تھے اور امام بخاری کو اس سے ایک درہم بھی وصول نہیں ہوا۔

محمد بن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری فرماتے تھے کہ مسلمان پر ایسا حال نہیں آنا چاہئے کہ وہ دعا کرے تو اس کی . قبول نہ ہو میری بھابھی نے میرے سامنے امام بخاری سے پوچھا کبھی یہ چیز آپ پر بھی وارد ہوئی یا آپ نے اس کا تجربہ کیا ؟ امام بخاری نے کہا: ہاں! میں نے دو بار اپنے رب عزوجل سے دعا کی تو میرے رب نے میری دعا قبول کر لی پھر میں نہیں پسند کیا کہ میں سه باره الله تعالی سے دعا کروں، مبادا میری نیکیوں میں کمی کی جائے یا مجھے میری نیکیوں کا اجر دنیا ہی میں دے دیا جائے پھر امام بخاری نے کہا مسلمان کو جھوٹ بولنے یا بخل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

محمد بن ابی حاتم بیان کرتے ہیں امام بخاری نے کہا: ایک بار مجھے ضرورت کا خرچ نہیں ملا حتی کہ میں گھاس کھانے لگا اور میں نے کسی کو نہیں بتایا جب تین دن گزر گئے تو ایک اجنبی شخص میرے پاس آیا اس نے مجھے دیناروں سے بھری ہوئی ایک تھیلی دی اور کہا اس کو اپنے اوپر خرچ کرو۔

حسین بن محمد سمرقندی بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری میں دیگر نیک خصائل کے ساتھ خصلتیں تھیں کہ وہ کم باتیں کرتے تھے لوگوں کے اموال میں طمع نہیں کرتے تھے اور لوگوں کے معاملات میں دخل نہیں دیتے تھے علم کے علاوہ ان کا اور کوئی مشغلہ نہیں تھا۔ سلیم بن مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں نے ساٹھ سال میں امام بخاری سے زیادہ فقیہ ان سے زیاد متقی اور ان سے زیادہ زاہد نہیں دیکھا۔ (سیر اعلام النبلا ج 10 ص ۳۰۸-۳۰۶ ھدی الساری ص 476 فتح الباری ،ج1 دارالمعرفہ بیروت)

Exit mobile version