Site icon اردو محفل

صحیح البخاری :ادب اور اہتمام

ادب اور اہتمام

امام بخاری نے اپنی صحیح کا چھ لاکھ احادیث میں سے انتخاب کیا ہے۔ حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلے وہ غسل کرتے اس کے بعد دو رکعت نفل پڑھتے پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اس کتاب کو سولہ سال کی مدت میں مکمل کیا میں نے اس کتاب میں صرف صحیح احادیث شامل کی ہیں اور جن صحیح احادیث کو میں نے طوالت کی وجہ سے ترک کر دیا ہے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ (هدی الساری ص 67 مع فتح الباری ج 1 دار المعرفہ بیروت)

امام بخاری نے اپنی صحیح کا مسودہ مکہ بصرہ اور بخار میں تیار کیا اور اس کی تبییض مسجد حرام میں کی اور مدینہ منورہ میں روضہ شریف کے پہلو میں بیٹھ کر تراجم ابواب لکھے۔ امام بخاری کے شاگر و محمد بن ابي حاتم وراق کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے پوچھا: کیا آپ کو وہ تمام احادیث یاد ہیں جو آپ نے اپنی” صحیح میں وارد کی ہیں؟ امام بخاری نے فرمایا: ” جامع صحیح کی کوئی حدیث مجھ سے مخفی نہیں ہے کیونکہ میں نے اس کو تین مرتبہ لکھا ہے۔ ( سیر اعلام النبلاء ، ج۱۰ص ۲۸۳” دار الفکر بیروت1417ھ)

تین مرتب تصنیف سے غالبا تسوید تبییض اور تنقیح مراد ہے اور صحیح بخاری کے نسخوں کا اختلاف بھی شاید اسی وجہ سے ہے اور بعض صوفیاء سے یہ بھی منقول ہے کہ ایک مرتبہ امام بخاری نے مسودہ لکھا دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا تیسری بار ہر حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریه حضور سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر دیا۔ (اشعة اللمعات ج 1 ص ۱۰ طبع تیج کمار لکھنو)

Exit mobile version