1-باب الإيمان وقول النبي صلى الله علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس وھو قول و فعل ویزید و ینقص۔
الایمان اور وہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے.اور وہ قول اور فعل ہے اور زیادہ ہوتا ہے اور کم ہوتا ہے ۔
امام بخاری نے عنوان میں حدیث کا پہلا جملہ ذکر کیا ہے : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے یہ مفصل حدیث نمبر ۸ میں آ رہی ہے
اس کے بعد امام بخاری نے فرمایا: ایمان قول اور فعل ہے اور وہ زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی ہوتا ہے ۔ (ائمہ ثلاثہ اور محدثین کا مذہب ہے ) پھر امام بخاری نے اس مذہب پر حسب ذیل آیات سے استدلال فرمایا:
قال الله تعالى( ليزدادوا إيـمـانـا مع ایمانھم)(الفتح: ۴)
اللہ تعالی فرماتا ہے: تا کہ ان کے ایمان کے ساتھ ایمان زیادہ ہو ۔ (الفتح: ۴)
وزدناهم هدی ( الکہف:۱۳)
اور ہم نے ان کی ہدایت کو زیادہ کردیا ( الکہف : ۱۳ )
ويزيد الله الذين اهتدوا هدى) ( مريم :٧٦)
اور جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ ان کی ہدایت کو زیادہ کردیتا ہے۔ (مریم 76)
والذين اهتدوا زادهـم هـدى واتـاهـم تقواهم» (محمد17):
اور جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ نے ان کی ہدایت کو زیادہ کردیا اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا ( محمد : ۱۷)
ويزداد الذين امنوا إيمانا (المدثر:۳۱)
اور ایمان والوں کا ایمان زیادہ ہو جاۓ ۔(المدثر:۳۱)
ايكم زادته هذه إيمانا فأما الذين امنوا فزادتهم إيمانا﴾ (التوبہ: ١٢٤)
ٌ(منافقین نے کہا:) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کردیا ؟ سو جو ایمان والے ہیں تو اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کر دیا ۔ (التوبہ : 124)
وقوله جل ذكرة وفاخشوهم فزادهم إيمانا (آل عمران : ۱۷۳)
اور اللہ عزوجل کا قول ہے: سوتم ان سے ڈرو پس اللہ نے ان کے ایمان کو زیادہ کر دیا ۔ (آل عمران : ۱۷۳)
وقوله تعالى (وما زادهم إلا إيمانا وتسليما( الاحزاب 22)
اور اللہ عز وجل کا قول ہے : اور اس نے صرف ان کے ایمان اور ان کے مان لینے کو زیادہ کر دیا (الاحزاب: ۲۲)
اور ایک حدیث میں ہے:
والحب في الله والبغض في الله من الإيمان .
اور اللہ کی وجہ سے محبت رکھنا اور اللہ کی وجہ سے بغض رکھنا بھی ایمان سے ہے۔
امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی ان آیات میں اللہ تعالی نے ایمان اور ہدایت کو زیادہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور کمی اور زیادتی اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ان آیات میں ایمان سے مراد ایمان کامل ہے اور ہم احناف کے نزدیک بھی ایمان کامل میں اعمال داخل ہیں اور اس میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے لہذا یہ آیات احناف کے خلاف نہیں ہیں تاہم مزید وضاحت کے لیے ہم مفسرین سے ان آیات کی تفسیر نقل کر کے پیش کر رہے ہیں:
امام بخاری کی پیش کردہ آیات کی تفسیر
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی سمرقندی حنفی متوفی ھ۳۳۳ الفتح : ۴ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں فرمایا: ” تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ ایمان زیادہ ہو
امام ماتریدی نے فرمایا: اس آیت کے دو محمل ہیں :
(۱) سیدنا محمد ﷺ اور آپ کی کتاب پر ان کا ایمان تمام رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان کے ساتھ زیادہ ہو جاۓ، جن کی وہ پہلے تصدیق کر چکے تھے یہ تو جہیہ صرف اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے ۔
(۲) پچھلی ساعتوں میں جو ان کا ایمان تھا اس کے ساتھ اس وقت لایا ہوا ایمان زیادہ ہو جاۓ ۔
( تاویلات اہل السنہ ج ۹ ص ۲۹۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۶ ھ )
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں:
اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں:
(۱) اللہ تعالی ان کو متعدد احکام کا مکلف فرماتا تھااور وہ ان میں سے ہر حکم پر ایمان لاتے تھے اور اس کی تصدیق کرتے تھے مثلا پہلے ان کو توحید کا حکم دیا تو وہ اس پر ایمان لاۓ پھر ان کو اطاعت کر نے کا حکم دیا تو وہ اس پر ایمان لاۓ پھر ان کو قتال اور حج کا حکم دیا تو وہ اس پر ایمان لاۓ پس ان کے پہلے ایمان کے ساتھ یہ ایمان زیادہ ہو گیا ۔
۲) پہلے وہ اصول اور معتقدات پر ایمان لائے تھے پھر وہ فروع اور احکام شرعیہ پر ایمان لاۓ تو اصول پر ایمان کے ساتھ فروع پر ان کا ایمان زیادہ ہو گیا، یعنی پہلے وہ اس پر ایمان لائے کہ اللہ واحد ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری رسول ہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان سے حساب لیا جاۓ گا اور ثواب اور عذاب کا مرحلہ ہو گا۔ پھر اس پر ایمان لاۓ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی فرمایا وہ حق اور صواب ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے جو بھی حکم دیا اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔
(۳) پہلے ان کا ایمان فطری تھا۔ اس کے بعد وہ غور وفکر کر کے ایمان لاۓ تو یہ ایمان فطری پر زیادہ ایمان ہو گیا ۔
الکہف : 13 میں فرمایا: ’ اور ہم نے ان کی ہدایت کو زیادہ کر دیا‘‘۔ اس کی تفسیر میں امام ابومنصور ماتریدی متوفی 333ھ فرماتے ہیں:
اس آیت کا معنی ہے: ہم نے ان کو ان کی ہدایت پر ثابت اور برقرار رکھا اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر آن میں ان کو ایک نئی ہدایت حاصل ہورہی ہے اور انہیں اللہ تعالی کی نئی شان کی ہدایت حاصل ہو رہی ہے ۔
( تاویلات اہل السنتہ ج ۷ ص ۱۴۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۶ھ )
مریم:76 میں فرمایا: اور جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ ان کی ہدایت کو زیادہ کر دیتا ہے ۔ اس کی تفسیر میں امام ابومنصور ماتریدی فرماتے ہیں:
اس کا معنی ہے : جب وہ ہدایت پالیں تو اللہ تعالی ان کو توفیق دیتا ہے اور وہ اللہ تعالی کی وحدانیت کو پہچان لیتے ہیں اور وہ ان کو اطاعت کی توفیق دیتا ہے جس وقت ان کی ہدایت کی طرف رغبت ہوتی ہے اور وہ اس کو طلب کر تے ہیں تو اللہ تعالی ان کو ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے ۔ ( تاویلات اہل السنتہ ج ۷ ص 255 دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ )
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 206ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اس کی مثال یہ ہے کہ ایمان ہدایت ہے اور ایمان میں اخلاص ہدایت میں زیادتی ہے اور اخلاص اسی وقت حاصل ہو گا جب
ایمان حاصل ہو جاۓ گا پس جس نے ایمان کی ہدایت پالی اللہ تعالی اس ہدایت میں اخلاص کو زیادہ کر دیتا ہے ۔
( تفسیر کبیر ج ۷ ص 562 دار احیاء التراث العربی بیروت 1415ھ )
محمد : ۱۷ میں فرمایا:” جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ نے ان کی ہدایت کو زیادہ کر دیا اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا‘‘۔
امام ابومنصور ماتریدی متوفی ۳۳۳ھ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اس کا معنی ہے: مؤمنین آپ کے ارشادات غور سے سنتے ہیں اور آپ سے زیادہ ہدایت طلب کر تے ہیں اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا مراد یہ ہے کہ ان کو وہ چیز عطافرمائی جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے حکم کی مخالفت کرنے سے ڈرتے ہیں، یعنی ان کو یہ توفیق عطافرمائی کہ وہ اللہ تعالی کے احکام کی مخالفت کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ۹ ص ۷۳ ۲ دارالکتب العلمیہ بیروت 1426 ھ )
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ان کی ہدایت میں زیادتی فرمائی یعنی پہلے وہ ہدایت یافتہ تھے پھر ان کو ہدایت دہندہ بنایا اور ان کو ان کا تقوی عطا فرمایا یعنی جس کام کے حلال ہونے کا انہیں یقین نہیں ہوتا اس میں وہ ہاتھ نہیں ڈالتے اور احتیاط پرعمل کرتے ہیں ۔
( تفسیر کبیر ج ۱۰ ص ۵۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۵ ۱۴ ھ )
المدثر :۳۱ میں فرمایا: ’ اور ایمان والوں کا ایمان زیادہ ہوجائے امام ابومنصور ماتریدی متوفی ۳۳۳ھ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
امام ابوحنیفہ اس قسم کی آیات میں فرماتے ہیں: ان کے ایمان پر ان کے ایمان کی تفسیر زیادہ ہو گئی کیونکہ وہ پہلے اللہ تعالی کی توحید پر ایمان لاۓ پھر انہوں نے اقرار کیا کہ اللہ ہی ہر چیز کی تخلیق کرتا ہے اور وہی ہر اطاعت کا حکم دیتا ہے اور ان کے اس اقرار میں سب رسولوں کی تصدیق ہے اور اس کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں کی تصدیق ہے ۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان کے زیادہ ہونے سے ایمان پر دوام اور ثابت قدم رہنا مراد ہو۔
( تاویلات اہل السنۃ ج ۱۰ ص 317 دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
ایمان میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ جب انسان اپنے ذہن میں اس معنی کو حاضر کر لیتا ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز کا عالم ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور وہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر قسم کے نقص اور عیب سے بری ہے تو پھر وہ اللہ تعالی کی توحید کے بہت سے دلائل پر مطلع ہو جاتا ہے اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ تمہارے نزدیک ایمان میں کمی اور زیادتی نہیں ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا توجہیہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان میں زیادتی سے مراد ہے : ایمان کے ثمرات اس کے آثار اور اس کے لوازم میں زیادتی ۔
( تفسیر کبیر ج ۱۰ص۷۱۱ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415ھ )
التوبه : 124 میں فرمایا: ( منافقین نے کہا: اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کر دیا؟ سو جو ایمان لاۓ ہیں تو اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کر دیا‘‘ ۔ امام ابو منصور ماتریدی حنفی متوفی ۳۳۳ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اہل ایمان کے سامنے جب اسلام کی حقانیت پر دلائل اور براہین آ تے تو ان کا ایمان اور قوی ہو جاتا اور ان کے ایمان کے زیادہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان پر دائم اور ثابت قدم رہتے اور جب بھی احکام اور فرائض نازل ہوتے تو وہ ان کی تصدیق کرتے اور ان کے ایمان کے زیادہ ہونے کا معنی یہ بھی ہے کہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوتیں ۔
( تاویلات اہل السنی ج ۵ ص ۵۱۴ – 513 دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ )
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
مؤمنین کے ایمان کے زیادہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو وہ اس کا اقرار کرتے اور یہ اعتراف کرتے کہ یہ اللہ کی جانب سے حق ہے ۔ ( تفسیر کبیر ج 6 ص ۱۷۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ ۱۴ ھـ )
آل عمران: ۱۷۳ میں فرمایا: ’ سوتم ان سے ڈرو پس اللہ نے ان کے ایمان کو زیادہ کر دیا۔ اس کی تفسیر میں امام ابومنصور ماتریدی حنفی متوفی ۳۳۳ھ لکھتے ہیں :
منافقین نے مسلمانوں سے کہا: لوگ تمہارے خلاف جمع ہو گئے ہیں سوتم ان سے ڈرو اللہ تعالی نے مسلمانوں کے ایمان کو زیادہ کردیا یعنی ان کی جرات قوت اور دین پر صلابت کو زیادہ کردیا اور اپنے رب پر جوان کو یقین تھا اس کو اور قوی کردیا۔
( تاویلات اہل السنتہ ج ۲ ص 533 دار الکتب العلمیہ 1426ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
مومنین کے ایمان میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ جب مومنوں نے کفار سے ڈرانے والے کی بات سنی تو انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی بلکہ ان کے دلوں میں کفار سے جہاد کرنے کا عزم اور مؤکد ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کرنے کا جذبہ اور قوی ہو گیا اور ان کا اللہ تعالی پر یہ اعتماد اور مستحکم ہوگیا کہ کفار کے خلاف جنگ میں اللہ تعالی مسلمانوں کی مددفرماۓ گا۔ (تفسیر کبیر ج ۳ ص ۴۳۴ دار احیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ )
الاحزاب: ۲۲ میں فرمایا: ’ اور اس نے صرف ان کے ایمان اور مان لینے کو زیادہ کر دیا ۔ امام ابومنصور ماتریدی متوفی 333ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مسلمانوں سے کسی چیز کا وعدہ فرماتے یا کسی چیز کے وقوع کی خبر دیتے اور وہ اس کے مطابق ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ اور خبر کے متعلق مسلمانوں کی تصدیق اور قوی ہوجاتی کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے صدق کی دلیل ہے اور اللہ تعالی نے جو چیزیں مقدر کی ہیں وہ ان کو مان لیتے اور زیادہ استحکام سے ان کو تسلیم کرتے ۔
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے جتنے وعدے کیے تھے وہ سب پورے ہو گئے مثلا فارس پر رومیوں کو فتح حاصل ہوگئی اور مکہ فتح ہو گیا تو مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق پر جو یقین تھا وہ اور پختہ ہو گیا ۔ ( تفسیر کبیر ج ۹ ص 163 داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۵ھ )
بعض احادیث اور آثار سے امام بخاری کا ایمان کے زیادہ ہونے پر استدلال اور ان کے جوابات
امام بخاری نے اس حدیث کو پیش کیا:
اللہ کے سبب سے محبت کرنا اور اللہ کے سبب سے بغض رکھنا ایمان کی علامتوں میں سے ہے ۔
اس حدیث میں’’ فی اللہ ‘‘ کا لفظ ہے اور فی ‘‘ کا معنی سبب ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے:
فذلكن الذي لمتنني فيه، (یوسف:۳۲) سو یہ وہی شخص ہیں جن کے سبب سے تم مجھے ملامت کرتی
تھیں ۔
اس فقرہ کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام اعمال میں فضل عمل اللہ کے سب سے محبت کرنا اور اللہ کے سبب سے بغض رکھنا ہے ۔ ( سنن ابوداؤد:٬۴۵۹۹ کنز العمال: 24638)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے سبب سے محبت رکھی اور اللہ کے سبب سے بغض رکھا اور اللہ کے سبب سے عطا کیا اور اللہ کے سبب سے منع کیا اس نے ایمان کو کامل کر لیا ۔ (سنن ابوداؤد :4681) امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور بغض میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ محبت میں کمی اور زیادتی سے ایمان کامل اور ناقص نہیں ہوتا بلکہ قوی اور ضعیف ہوتا ہے۔
پھر امام بخاری نے یہ اثر پیش کیا:
وكتب عمر بن عبد العزيز إلى عدي عــدى أن للإيمان فرائض وشرائع وحدودا وسننا ، فمن استكملها استكمل الإيمان، ومن لم يستكملها لم يستكمل الإيمان ، فإن أعـش فسابينها لكم حتى تعملوا بها، وإن أمت فما أنا على صحتكم بحريص .
حضرت عمر بن عبد العزیز نے عدی کی طرف مکتوب لکھا کہ ایمان کے فرائض ہیں اور شرائع ہیں اور حدود ہیں اور سنن ہیں پس جس نے ان کو کامل کر لیا اس نے ایمان کو کامل کرلیا اور جس نے ان کو کامل نہیں کیا۔ اس نے ایمان کو کامل نہیں کیا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو میں عنقریب یہ امور تمہارے لیے بیان کروں گا حتی کہ تم ان پر عمل کرو گے اور اگر میں مر گیا تو میں تمہاری صحبت پر حریص نہیں ہوں ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا تعارف
ان کا پورا نام ہے: عمر بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم بن العاص بن امیہ بن عبد شمس الاموی القرشی، یہ امام عادل تھے اور خلفاء راشدین میں سے ایک ہیں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن جعفر اور حضرت انس وغیرہ سے حدیث کا سماع کیا ہے خلیفہ بننے سے پہلے حضرت انس رضی للہ عنہ نے ان کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے اور انہوں نے کہا: میں نے اس نوجوان سے زیادہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں پایا ۹۹ ھ میں وہ خلیفہ ہوۓ اور دوسال پانچ مہینہ تک خلیفہ رہے ان کی خلافت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرح تھی انہوں نے روۓ زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دیا۔ ان کی والدہ حفصہ بنت عاصم بن عمر بن الخطاب تھیں مصر میں پیدا ہوئے اور ۲۵ رجب ۱۰۱ھ میں حمص میں فوت ہوۓ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے بال مبارک اور ناخن مبارک تھے انہوں نے کہا تھا کہ جب میں مرجاؤں تو ان کو میرے کفن میں رکھ دینا امام احمد بن حنبل نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ ہر صدی کے سرے پر اللہ اس شخص کو بھیجتا ہے جو اس امت کے لیے دین کی تجدید کرتا ہے اس حدیث کی وجہ سے حضرت عمر بن عبد العزیز کو دوسری صدی کا مجدد کہا گیا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۱۸۹)
عدی بن عدی کا تذکرہ
ان کا نام عدی بن عدی بن عمیرہ بن زرارہ بن ارقم بن عمر بن وہب بن ربیعہ بن الحارث بن عدی ہے یہ تابعی ہیں یہ اپنے والد اور چچا العرس بن عمیرہ سے روایت کرتے ہیں اور یہ دونوں صحابی ہیں اس میں اختلاف ہے کہ یہ خود صحابی ہیں یا نہیں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل احادیث روایت کی ہیں اس وجہ سے بعض لوگوں نے ان کو صحابی گمان کیا اور عدی کو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے الجزیرہ اور الموصل کا گورنر بنایا تھا یہ ۱۲۰ھ میں فوت ہو گئے امام ابو داؤد امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم نے ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۱۹۰ ۱۸۹)
فرائض شرائع حدود اورسنن کی تعریفات
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے اس مکتوب میں فرائض شرائع حدود اور سنن کے الفاظ ہیں ۔
فرائض: فریضہ کی جمع ہے فرض اس کام کو کہتے ہیں، جس کا کرنا لازم ہو اور اس کے لزوم کا ثبوت ایسی دلیل سے ثابت ہوا جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہو اس کا منکر کافر ہے اور اس کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے اور موجب عذاب ہے جیسے نماز اور زکوۃ وغیرہ
شرائع : شریعتہ کی جمع ہے جیسے نماز کی صفات رمضان کے روزوں کی تعداد تہمت لگانے والے کے کوڑوں کی تعداد طلاق کی تعداد وغیرہ
حدود : اسلام میں پانچ حرام کاموں کی سزا معین ہے ان کو حدود کہتے ہیں زنا کی حد رجم یا سوکوڑے ہیں چوری کی حد ہاتھ کو پہنچے سے کاٹ دینا ہے قذف ( زنا کی تہمت ) کی حد اسی کوڑے ہیں شراب نوشی کی حد چالیس کوڑے ہیں اور ڈاکے کی حد قتل کرنا اور سولی پر لٹکانا ہے یا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹنا ہے یا شہر بدر کرنا ہے ۔
سنن : شارع علیہ السلام نے جن چیزوں کا فضائل اعمال کی وجہ سے حکم دیا۔
امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ جب فرائض شرائع اور سنن پر عمل کرنا ایمان میں داخل ہے تو اعمال ایمان میں داخل ہو گئے اور جس کے زیادہ اعمال ہوں گے اس کا ایمان کامل ہو گا اور جس کے اعمال کم ہوں گے اس کا ایمان ناقص ہو گا۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اعمال ایمان کامل میں داخل ہیں، نفس ایمان میں داخل نہیں ہیں اور ایمان کامل میں ہم بھی اعمال کو داخل مانتے ہیں ۔
اس کے بعد امام بخاری نے یہ آیت پیش کی :
وقال إبراهيم ولكن ليطمن قلبي (البقرہ:260)
اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اور لیکن تا کہ میرا دل مطمئن ہوجائے (البقرہ:۲۶۰)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعارف
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پورا نام اس طرح ہے: ابراہیم بن تارح بن ناحور بن ساروح بن ارعو بن فالخ بن عبیر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ بن یردبن مھلاییل بن قابن بن فانوش بن شیث بن آدم علیہ السلام ۔
ابراہیم عبرانی زبان کا نام ہے الماوردی نے کہا: اس کا معنی ہے: رحیم باپ حضرت ابراہیم عراق میں کوثا کے مقام پر پیدا ہوۓ حضرت ابراہیم کپڑے کی تجارت کرتے تھے آپ نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تھی، آپ نے ۱۷۵ سال کی زندگی گزاری ایک قول ہے : دو سو سال کی اور آپ ارض مقدسہ میں مدفون ہوئے آپ کی قبر حبرون نام کی بستی میں ہے جس کو اب بلدة خلیل کہا جا تا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ا ص ۱۹۱ )
حضرت ابراہیم کے قول سے امام بخاری کا استدلال اور اس کا جواب
امام بخاری کی مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو کہا: ’ تاکہ میرا دل مطمئن ہو جاۓ‘‘ اس سے ان کی مراد تھی: تا کہ میرا یقین زیادہ ہو جاۓ ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو پہلے بھی علم تھا کہ اللہ تعالی مردوں کو زندہ کرتا ہے لیکن وہ اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ جب انسان کو کسی چیز کا ایک جہت سے علم ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کو اس چیز کا دوسری جہت سے بھی علم ہو جاۓ اور اس سے یہ فائدہ ہے کہ عین الیقین ( دیکھ کر یقین کرنا ) علم الیقین ( خبر سے یقین حاصل ہونا ) سے قوی ہوتا ہے لہذا اس سے مراد یقین کا قوی ہونا ہے نہ کہ یقین کا زیادہ ہونا ۔ ( عمدة القاری ج ا ص ۱۹۱ ) اس کے بعد امام بخاری نے یہ اثر پیش کیا:
وقال معاذ اجلس بنا نؤمن ساعة
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ بیٹھو ہم کچھ دیر ایمان لائیں ( ایمان کی باتیں کریں ) ۔
حضرت معاذ کا تعارف
ان کا پورا نام ہے : معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عايذ بن عدی بن کعب الخزرجی الانصاری انہوں نے ۱۸ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور ستر انصاریوں کے ساتھ عقبہ ثانیہ میں حاضر ہوۓ ( عقبہ سے مراد مکہ کی وہ گھاٹی ہے جہاں حج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے آنے والوں کو تبلیغ اسلام کرتے تھے پہلی بار بارہ آدمی آ کر مسلمان ہوئے ان کو اصحاب عقبہ اولی کہا جا تا ہے اور دوسری بارستر آدمی آ کر مسلمان ہوۓ ان کو اصحاب عقبہ ثانیہ کہا جا تا ہے) ، پھر حضرت معاذ بدر میں حاضر ہوۓ اور باقی مواقع میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر رہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۷۵ احادیث روایت کی ہیں ان کی دو حدیثوں پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور تین حدیثوں کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ایک حدیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں ۔ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت ابوقتادہ حضرت جابر اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہم اور دیگر صحابہ نے احادیث روایت کی ہیں یہ ۱۷ھ یا ۱۸ھ میں عمواس کے طاعون میں فوت ہو گئے تھے ( عمواس فلسطین اور بیت المقدس کے درمیان ایک جگہ ہے ) اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال تھی ۔ ( عمدة القاری ج۱ ص ۱۸۹ )
حضرت معاذ کے قول سے امام بخاری کا استدلال اور اس کا جواب
حضرت معاذ نے فرمایا: ’نؤمن ساعة ‘‘اس کا لفظی معنی ہے: ہم کچھ دیر ایمان لائیں یہ معنی تو مراد ہو نہیں سکتا کیونکہ حضرت معاذ پہلے ہی مومن تھے سو امام بخاری کے نزدیک اس سے مراد ایمان کی زیادتی ہے یعنی حضرت معاذ نے الاسود بن طلال المحاربی سے کہا: آؤ کچھ دیر ہم اپنے ایمان کو زیادہ کریں ہمارے نزدیک اس قول کا معنی یہ ہے کہ آؤ کچھ دیر ہم ایسی باتیں کر میں جن سے ہمارا ایمان قوی ہو علامہ نووی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نیکی احکام آخرت اور امور دین کی باتیں کریں ۔
اگر یہ سوال کیا جاۓ کہ حضرت معاذ نے یہ بات کس سے کہی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ۲۳۵ھ نے حضرت معاذ کے اس قول کو حسب ذیل دوسندوں کے ساتھ روایت کیا ہے :
ابواسامه از اعمش از جامع بن شداد از الاسود بن ھلال وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے اپنے بھائیوں میں سے ایک شخص سے کہا: ہمارے ساتھ بیٹھو ہم کچھ دیر ایمان لائیں ( ایمان کی باتیں کریں) پھر وہ دونوں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے ۔
( مصنف ابن ابی شیبہ:۶ ۵ ۰۳ ۳- ج ۲ ص 164 دار الکتب العلمیہ بیروت 1415ھ )
وکیع، الاعمش، از جامع بن شداد،از الاسود بن هلال المحاربی اس نے کہا کہ حضرت معاذ بن جبل نے کہا: آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو ہم کچھ دیر ایمان لائیں ( ایمان کی باتیں کریں) یعنی اللہ کا ذکر کر یں ۔
( مصنف ابن ابی شیبہ:34687 ج ۷ ص 142 دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ- )
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنے کسی بھائی سے یہ کہا اور دوسری روایت میں ہے: انہوں نے اسود بن ھلال محاربی سے یہ کہا علامہ عینی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ دو مواقع تھے ایک موقع پر انہوں نےاپنے کسی بھائی سے کہا اور دوسرے موقع پر اسود بن ھلال محاربی سے کہا ۔ (عمدۃ القاری ج ا ص ۱۹۲ ۱ د ار الکتب العلمیہ بیروت۱۳۴۱ ھ )
اس کے بعد امام بخاری نے یہ اثر پیش کیا:
وقال ابن مسعود اليقين الإيمان كله
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ نے کہا: یقین پورا کا پورا ایمان ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ کا تعارف
ان کا پورا نام ہے : عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن مخزوم ان کی کنیت ہے: ابوعبد الرحمن الھذلی یہ مکہ میں بہت پہلے اسلام لائے تھے انہوں نے دونوں ہجرتیں کی ہیں حبشہ کی طرف اور مدینہ کی طرف بدر میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام مغازی میں حاضر ر ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین اتارتے تھے اور آپ کو نعلین پہناتے تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۸۴۸ احادیث روایت کی ہیں جن میں سے 64 احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور ۲۱ احادیث میں امام بخاری منفرد میں اور ٬۳۵ احادیث میں امام مسلم منفرد میں ۳۲ھ میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر 60 سال سے زائد تھی ایک قول یہ ہے کہ کوفہ میں ان کی وفات ہوئی مگر پہلا قول صحیح ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ایک قول یہ ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اور دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اس اثر کو علقمہ نے حضرت ابن مسعود سے مکمل اس طرح روایت کیا ہے کہ صبر نصف ایمان ہے اور یقین کل ایمان ہے ۔ یقین کیفیات نفسانیہ سے ہے اور وہ باطنی ادراکm ہے اور دو تصدیق کی قسم ہے جس میں کسی اعتبار سے بھی جانب مخالف کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۱۹۳)
امام بخاری کا اس اثر کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ جب یقین کل ایمان ہے تو ایمان کے اجزاء ہو گئے اور ایمان بسیط نہ رہا ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اس اثر میں ایمان سے مراد اس کے ثمرات ہیں ۔
اس کے بعد امام بخاری نے یہ اثر پیش کیا ہے:
وقال ابن عمر لا يبلغ العبد حقيقة التقوى حتى يدع ما حاك في الصدر۔
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: کوئی بندہ تقوی کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتاحتی کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو اس کے دل میں کھٹک رہی ہو ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا تعارف
حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما القرشی العدوی المکی ہیں، ان کی ماں اور ان کی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ماں زینب بنت مظعون ہیں اور یہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ عنہ کی بہن ہیں یہ اپنے والد کے ساتھ مکہ میں بہت پہلے اسلام لائے تھے اس وقت یہ کم سن تھے انہوں نے اپنے والد کے ساتھ ہجرت کی تھی غزوہ احد میں ان کو ان کی کم عمری کی وجہ سے شامل نہیں کیا گیا غزوہ خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شامل رہے یہ ان چھ صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں اور چار العبادلہ میں سے ایک ہیں دوسرے حضرت ابن عباس ہیں اور تیسرے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ہیں اور چوتھے حضرت عبد اللہ بن الزبیر میں انہوں نے 2630 احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان میں سے ۱۷۰ احادیث پر متفق ہیں اور ا۸ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور 31 احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد میں حضرت ابو ہریرہ کے بعد سب سے زیادہ احادیث روایت کر نے والے حضرت ابن عمر ہیں مکہ کے قریب ایک جگہ فخ ہے وہاں حضرت ابن الزبیر کی شہادت کے ۳ ماہ یا چھ ماہ بعد ۷۴ھ میں ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر 86 سال تھی، یجی بن بکیر نے کہا: ان کی وفات مکہ میں حج کے بعد ہوئی اور وادی المحصب میں ان کو دفن کیا گیا۔ حجاج بن یوسف نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۱۹۳ )
امام بخاری نے جس اثر کا ذکر کیا ہے اس کو امام مسلم نے النواس بن سمعان سے مفصل روایت کیا ہے:
النواس بن سمعان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: عمدہ خلق نیکی ہے اور گناہ وہ چیز ہے جو تمہارے دل میں کھٹک رہی ہو اور تم اس کو نا پسند کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں ۔ (صحیح مسلم : ۲۵۵۳، سنن ترمذی:۲۳۸۹)
تقوی کا معنی ہے: اللہ تعالی کا ڈر اور خوف تقوی کی اصل ہے:’’ وفایة ‘‘ یعنی گناہوں سے بچنا تقوی اصل میں’’ و قوی ‘‘تھا واؤ کوتا سے بدل دیا تو تقوای ہو گیا۔ علامہ نووی نے کہا: جس کام پر شرح صدر نہ ہو اور اس میں گناہ کا خوف ہو اس کو ترک کر دینا تقوی ہے تقوی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کام پر شرح صدر ہو اور اس میں کوئی شک نہ ہو ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۱۹۴ ) امام بخاری کا اس اثر کو وارد کرنے سے یہ مقصود ہے کہ تقوی کسی آدمی میں کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تقوی کیفیات نفسانیہ سے ہے اور کیفیت میں تقسیم اور تجز ی نہیں ہوتی البتہ قوت اور ضعف ہوتا ہے ۔
اس کے بعد امام بخاری نے یہ اثر ذکر کیا ہے:
وقال مجاهد «شرع لكم» اوصيناك يا محمد وإياه دينا واحدا (الشوری:۱۳)
مجاہد نے کہا: تمہارے لیے مشروع کیا ہے ۔ ( الشوری : ۱۳ ) اے (محمد! ہم نے آپ کی طرف اور ان کی (حضرت نوح کی طرف ایک دین کی وصیت کی ہے ۔
مجاہد کا تعارف
ان کا نام ہے: مجاہد بن جبیر المخزومی،یہ عبداللہ بن سائب مخزومی کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث کا سماع کیا ہے مجاہد نے کہا: میں نے تیس مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو قرآن مجید سنایا ہے ان کی توثیق اور جلالت پر سب متفق ہیں یہ فقہ تفسیر اور حدیث کے امام تھے ۱۰۰ھ یا ۱۰۴ھ میں ۸۳ سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی، جس وقت وفات ہوئی اس وقت وہ نماز کے سجدہ میں تھے ۔( عمدة القاری ج۱ ص ۱۹۵ – ۱۹۴ )
مجاہد سے تابعین اور تبع تابعین کی ایک جماعت نے احادیث کو روایت کیا ہے اور امام بخاری نے یہاں مجاہد کے جس اثر کو روایت کیا ہے اس کو امام ابن حمید نے اپنی تفسیر میں سند صحیح کے ساتھ درج ذیل آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے ۔
شرع لكم من الذين ما وصى به نوحا والذي أوحينا إليك وما وصينا به إبراهيم وموسى وعيسیأن أقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه. (الشوری: ۱۳ )
اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کا راستہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس دین کی وحی ہم نے آپ کی طرف فرمائی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسی اور عیسی کو دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
حضرت نوح علیہ السلام نے حرام چیزوں کو حرام کیا اور حلال چیزوں کو حلال کیا اور وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے ماؤں بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا اور حضرت ادریس کے بعد جو پہلے نبی آۓ وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ ( عمدة القاری ج ۱ ص ۱۹۵ )
اس کے بعد امام بخاری نے یہ اثر ذکر کیا:
وقال ابن عباس( وشرعة و منهاجا﴾ (المائدہ:48) سبيلا وستة
اور حضرت ابن عباس اللہ نے ’’شرعة ومنهاجا ‘‘ (المائدہ۴۸) کی تفسیر میں کہا: راستہ اور سنت ۔
المائدہ:۴۸ کی تفسیر اور ایمان میں اعمال کے داخل ہونے کی قوی دلیل کا جواب
جوہری نے کہا:’’ منهاج‘‘ واضح راستہ کو کہتے ہیں اور ’الشرعۃ‘‘اور’’ الشریعۃ‘‘ کا بھی یہی معنی ہے قرآن مجید میں ہے:
لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا . (المائدہ:۴۸)
ہم نے تم میں سے ہر ایک کے عمل کے لیے الگ طریقہ اور راستہ بنایا ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے جو معین راستہ بنایا ہے اس کو شریعت کہتے ہیں امام عبدالرزاق نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ دین واحد ہے اور شریعت مختلف ہے محمد بن یزید نے کہا ہے:’’ شرعۃ‘‘ کا معنی ہے: راستہ کی ابتداء اور منھاج‘‘ کا معنی ہے: دائمی راستہ ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ الشوری: ۱۳ کا معنی ہے: تمام انبیاء کا راستہ واحد ہے اور المائدہ: ۴۸ کا معنی ہے: ہر نبی کی الگ شریعت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ الشوری: ۱۳ کا معنی ہے : اصول دین میں اتحاد ہے اور المائدہ:۴۸ کا معنی ہے: فروع میں تعدد اور اختلاف ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۱۹۵)
مجاہد اور حضرت ابن عباس کے جن آثار کا امام بخاری نے یہاں ذکر کیا ہے ان کی امام بخاری کے مطلوب پر کوئی دلالت نہیں ہے ان آیتوں سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا دین واحد ہے اور ان کی شریعتیں مختلف ہیں اور ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں یا نہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے یانہیں اور جس آیت سے واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں وہ یہ ہے:
وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا الصلوة ويؤتوا الزكوة وذلك دين القيمة( البینتہ :۵ )
ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اخلاص سے اللہ کی اطاعت کرتے ہوۓ اس کی عبادت کریں اسی کی طرف متوجہ ہوکراور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کر یں اور یہی سیدھا دین ہے ۔
حافظ ابن رجب حنبلی متوفی 795ھ اور حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ دونوں نے لکھا ہے کہ امام شافعی اور امام احمد دونوں نے کہا ہے کہ ایمان میں اعمال کے داخل ہونے کے مسئلہ میں اس سے زیادہ قوی اور کوئی حجت نہیں ہے ۔(فتح الباری لابن رجب ج 1 ص 16 فتح الباری لا بن حجر ج۱ ص 526)
میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں ایمان کا لفظ ہی نہیں ہے اور اگر کہا جائے کہ دین القيمة‘‘ سے مراد ایمان ہے اور اس آیت میں نماز اور زکوۃ کو “دین القیمۃ‘‘فرمایا ہے اور اس سے مراد ایمان ہے تو اول تو یہ صریح لفظ ایمان نہیں ہے اور ثانیا ہم کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایمان کامل ہے اور ایمان کامل میں ہمارے نزدیک بھی اعمال داخل ہیں ۔
