٤٢- حدثنا إسحاق بن منصور قال حدثنا عبدالرزاق قال أخبرنا معمر، عن همام، عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أحسن أحدكم إسلامه ، فكل حسنة يعملها تكتب له بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف، وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها.
صحیح مسلم:129، مسند ابوعوانہ ج 1 ص 84،صحیح ابن حبان: 228 شعب الایمان:7046، کتاب الاسماءوالصفات ص 71، مسند احمد ج ۲ ص ۱۷ ۳ طبع قدیم، مسند احمد ج ۱۳ ص۵۳۰ مؤسسة الرسالة بيروت ))
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں اسحاق بن منصور نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے خبر دی، از ھمام از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اسلام پر اچھی طرح سے عمل پیرا ہو، تو ہر وہ نیکی جس پر وہ عمل کرتا ہے، اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سو گنا لکھی جاتی ہے اور ہر وہ برائی جس پر وہ عمل کرتا ہے اس کی وہ ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) اسحاق بن منصور بن بہرام نیشاپوری، امام ابوداؤد کے سوا ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں، امام نسائی نے کہا: یہثقہ ا ور ثبت ہیں یہ ۲۵۱ھ میں نیشا پور میں فوت ہو گئے تھے۔
(۲) عبدالرزاق بن همام بن نافع الیمانی الصنعانی انہوں نے معمر ثوری اور امام مالک وغیرہ سے سماع کیا ہے معمر اور امام احمد نے ان کی توثیق کی ابواحمد بن عدی نے کہا: یہ قوی نہیں ہیں عباس بن عبد العظیم نے ان کی جھوٹ کی طرف نسبت کی اور کہا: واقدی ان سے زیادہ صادق ہیں ان کی تشیع کی طرف نسبت کی گئی ہے انہوں نے فضائل اہل بیت میں ایسی احادیث روایت کیں جن میں کسی ثقہ راوی نے ان کی موافقت نہیں کی اور سی مشکر احادیث کو روایت کرنے سے زیادہ مذموم ہے یہ ۲۱۱ ھ میں فوت ہو گئے تھے بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔
(۳) معمر بن راشد ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
( ۴ ) حمام بن منبہ بن کامل الیمانی الصنعانی یہ تابعی نہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ حضرت ابن عباس اور حضرت معاویہ سے سماع کیا یی بن معین نے ان کی توثیق کی ہے اور بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں یہ ۱۳۱ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۵) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کا تعارف گزر چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ص۳۹۸-۳۹۷)
نیک کاموں کے اجر میں اضافہ پر دلائل
اس حدیث میں فرمایا ہے: ہر وہ نیکی جس پر کوئی شخص مل کرتا ہے اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک لکھی جاتی ہے:
دس گنا کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے:
من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها . (الانعام : ١٦٠) جوشخص ایک نیکی کرے گا اسے اس کی دس مثلیں ملیں گی ۔
اور سات سو گنا اجر کی دلیل یہ آیت ہے:
مثل الذين ينفقون أموالهم في سبيل الله جولوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اس کی مثال كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبہ والله يضعف لمن يشا. (البقرہ:۲۲۱)
اس دانے کی طرح ہے جو سات خوشے اگاۓ اور ہر خوشہ میں سو‘ دانے ہوں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے دگنا کر دیتا ہے ۔
نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں:
حضرت ابن عباس بنی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ہم اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالی نے نیک کاموں کو اور برے کاموں کولکھ لیا ہے پھر ان کا بیان فرمایا: پس جس نے نیکی کا منصوبہ بنایا اور اس پرعمل نہیں کیا اللہ تعالی اس کی ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے اور جس نے نیکی کا منصوبہ بنایا’ پھر اس پر عمل کر لیا تو اللہ تعالی اپنے پاس اس کی دس نیکیاں لکھ لیتا ہے سات سو گنی چوگنی نیکیوں سے لے کر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر اور جس نے کسی برائی کا منصوبہ بنایا پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالی اپنے پاس اس کی ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر اس نے برائی کا منصوبہ بنایا اور پھر اس برائی پر عمل کرایا تو اللہ تعالی اپنے پاس اس کی صرف ایک پرائی لکھتا ہے ۔ ( صحیح البخاری :۶۴۹۱ صحیح مسلم :۱ ۱۳ سفن داری:۲۷۸۹ مسند احمد ج ۱ ص ۳۱۰۔ ج۱ ص ۲۱۹ طبع قدیم )
* یہ حدیث شرح صحیح مسلم :246۔ ج۱ ص ۵۹۲ پر ہے وہاں پر اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
ھم اور عزم کی تعریفیں اور ان کا شرعی حکم
دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ اجر عطا فرمانے کی تحقیق ۔