۳۲- باب أحب الدين إلى الله أدومہ
اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے، جس میں زیادہ دوام ہو
اس باب کی سابق باب کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں کسی شخص کے اسلام کا حسن بیان فرمایا تھا اور وہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور اس باب میں نیک اعمال پر دوام مطلوب ہے اور جب بندہ نیک اعمال پر دوام کرے گا تو اس سے اللہ تعالی کی محبت زیادہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالی کو خود دوام ہے، اس لیے وہ دوام کو پسند فرماتا ہے ۔اس عنوان میں ’’ دین ‘‘ کا لفظ ہے اور اس سے مراد نیک اعمال اور عبادت ہے امام بخاری کا مطلوب یہ ہے کہ یہاں ایمان کا اطلاق نیک اعمال پر ہے، لیکن یہ مطلوب اس وقت ثابت ہوتا، جب دین سے مراد ایمان ہوتا، لیکن یہاں دین سے مراد نیک اعمال اور عبادت ہے ۔اس باب کے عنوان اور حدیث میں’ ادوم‘‘ کا لفظ ہے اور یہ دوام کا اسم تفضیل ہے اس کا معنی ہے: زیادہ دوام، اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ دوام کا معنی ہے: جو چیز ہمیشہ ہو اور تمام زمانوں میں ہو، پس جو چیز تمام زمانوں میں ہو، اس پر زیادتی کیسے ہوسکتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد دوام حقیقی نہیں ہے، دوام عرفی ہے اور اس میں کمی اور زیادتی ہوسکتی ہے ۔
٤٣- حدثنا محمد بن المثنى حدثنا يحيى بن هشام قال أخبرني أبي، عن عائشة أن النبی صلی الله عليه وسلم دخل عليها وعندها إمرأة قال من هذه؟ قالت فلانة، تذكر من صلاتها، قال مہ، عليكم بما تطيقون، فوالله لا يمل الله حتى تملوا وكان أحب الدين إليه ما داوم عليه صاحبه۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن مثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از ہشام،انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاۓ اس وقت ان کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی، آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: یہ فلاں عورت ہے اس کی نماز کا بہت چرچا ہے، آپ نے فرمایا: چپ کرو، تم ان عبادات کو لازم رکھو جن کی تم طاقت رکھتے ہو پس اللہ کی قسم! اللہ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے جس پر عبادت کرنے والا دوام کرے۔
(صحیح مسلم :۷۸۵ سنن ترمذی:2856، شمائل ترمذی: 304، سنن نسائی:۵۰۵۰- ۱۶۴ مسند اسحاق بن راھویہ:۶ ۶۲ شرح السنۃ : ۹۳۳ صحیح ابن خزیمه: 1282، مسند ابویعلی :۶۵۱ ۴ سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۷ حلیة الاولیاء ج ۲ ص ۲۶ – 65 مسند ابوعواند ج ۲ ص ۲۹۸، مسند احمد ج۶ ص۵۱-46 طبع قدیم، مسند احمد :۲۴۲۴۵-۲۴۱۸۹۔ ج۴۰ ص۲۲۲۔ ج۴۰ ص ۲۹۰ مؤسسة الرسالة بیروت )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) ابوموسی محمد بن مثنی البصری ،ان کا تعارف’’باب حلاوۃ الایمان ‘‘ میں گزر چکا ہے.
(۲) یحیی بن سعید القطان، ان کا تعارفاس باب میں گزر چکا ہے: جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے.
( ۳) ہشام بن عروہ .
(۴) ہشام کے والد عروہ بن الزبیر ان کا تعارف بھی الحدیث : ۲ میں گزر چکا ہے.
(۵) حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا تعارف الحدیث : ٢ میں ہوچکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص۴۰۰)
حدیث مذکور کے مشکل الفاظ کے معانی اور اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عائشہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔حولاء کے منہ پر اس کی تعریف کی حالانکہ منہ پر تعریف کرنا منع ہے
اس حدیث میں ہے، حضرت عائشہ نے کہا: اس وقت ان کے پاس ایک عورت تھی اس عورت کا نام الحولاء تھا یا کوئی اور تھی، امام بخاری نے کہا ہے: یہ عورت بنوا سد سے تھی اور یہ عورت الحولاء بنت تویت تھی، حضرت الحولا ء بہت نیک اور عابدہ مہاجرہ خاتون تھیں ۔
اس حدیث میں ’’مہ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : چپ کرو یا بس کرو، اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت عائشہ نے اس خاتون کے سامنے کہا کہ اس عورت کی عبادت کا بہت چرچا ہے، حالانکہ کسی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا ممنوع ہے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا، اس وقت منع ہے جب اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو، اور جب یہ خدشہ نہ ہو تو پھر منہ پر تعریف کرنا جائز ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے سامنے ان کی تعریف کی، جیسے آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق فرمایا بے شک تمام لوگوں میں اپنی جان اور مال سے، میرے ساتھ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں ۔( صحیح البخاری: 466 ) اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو علم تھا کہ یہ خاتون فتنہ میں مبتلا نہیں ہوگی، دوسرا جواب یہ ہے کہ ایک اور روایت میں ہے کہ اس خاتون کے جانے کے بعد حضرت عائشہ نے اس خاتون کے متعلق کہا تھا: یہ اہل مدینہ میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہے ۔( عمدة القاری ج۱ ص ۴۰۲)
نیز اس حدیث میں ہے: پس اللہ کی قسم ! اللہ تعالی اس وقت تک نہیں اکتاتا جب تک تم نہ اکتا جاؤ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :اللہ تعالی کو اس وقت تک ملال نہیں ہوتا جب تک کہ تم کو ملال نہ ہو۔ ملال کا معنی ہے : کسی چیز کو بوجھ سمجھ کر اس کو ترک کردینا اور اس کو ناپسند کرنا ملال کا اطلاق اللہ تعالی پر جائز نہیں، یہ مخلوق کی صفات میں سے ہے اللہ تعالی کی صفات سے نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ملال کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی عمل پر ثواب عطا کرنے کو ترک کر دے، سواللہ تعالی ایسا نہیں کرتا، اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب تک تم عبادت کرنے کو ترک نہ کرو، اللہ تعالی تمہیں ثواب عطا کر نے کو ترک نہیں کرتا ۔
امت پر شفقت کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشکل اور دشوار عبادات سے منع فرمانا
اس حدیث میں نفلی عبادت کو دوام کے ساتھ کرنے کی فضیلت کا ذکر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت کا بیان ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق عمل کریں اور اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر طاقت سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش نہ کریں، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص مسلسل روزے رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا، وہ نہیں مانے اور کہا: میں اس کی طاقت رکھتا ہوں، بڑھاپے میں ان کی صحت اس سے متاثر ہوگئی تو وہ اس پر افسوس کرتے تھے کہ کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرلیتا ۔ اس حدیث کامتن درج ذیل ہے:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو( نماز میں) قیام کرتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ! یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: تم ایسا مت کرو ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن روزہ نہ رکھو اور رات کو قیام بھی کرو اور نیند بھی کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم برحق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پرحق ہے اور تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم مہینہ میں تین روزے رکھ لو، کیونکہ تمہیں ہر نیکی کا دس گنا اجر ملے گا اور اس طرح تمہارے دائمی روزے ہو جائیں گے میں نے مسلسل روزے رکھنے پر اصرار کیا، آپ نے اصرار سے منع کیا میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس کی قوت پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تم اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو، اور اس سے زیادہ نہ رکھو میں نے پوچھا: اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح روزے رکھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: نصف الدھر ( ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا ) ( دوسری روایت میں ہے: یہ سب سے افضل روزے ہیں، میں نے کہا: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کوئی افضل نہیں ہے ۔صحیح البخاری :۱۹۷۶ ) بوڑھے ہونے کے بعد حضرت عبداللہ یہ کہتے تھے: کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی رخصت کو قبول کر لیتا ۔
( صحیح البخاری: ۱۹۷۵ صحیح مسلم :۱۱۵۹ سنن ابوداؤد : 2448، سنن نسائی :۱۶۲۹ سنن ابن ماجہ : 1712، )
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۷۳۰ ۔ ج۱ ص ۷ ۵۳ پر ہے اور اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
اکتانے اور استہزاء وغیرہ کا اللہ تعالی پر اطلاق
2 نفلی عبادات پر دوام کا معنی
(۳) نفلی عبادات اور بدعات کے درمیان حد فاصل
(4) جس فعل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ترک کیا ہو وہ علی الاطلاق بدعت نہیں ہے
(5) رسول اللہ کے کسی کام کو ترک کرنے کی وجہ سے بدعت کا ضابطہ
(6) نفلی عبادات کے ساتھ فرض یا واجب کا معاملہ کرنے کی ممانعت
(7) بدعت سیئہ کی تعریف
(۸) بدعت کا شرعی معنی اور اقسام
(۹) بدعت حسنہ اور مصالح مرسلہ
(10) بدعت حسنہ کی وجہ اختراع اور بدعت سیئہ کا مصداق
(11) ایک شبہ کا ازالہ
(۱۲) قرون ثلاثہ پر سنت و بدعت کا مدار ۔
