٤٥- حدثنا الحسن بن الصباح، سمع جعفر بن عون حدثنا أبو العميس أخبرنا قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن عمر بن الخطاب أن رجلا من اليهود قال له يا أمير المؤمنين، اية في كتابكم تقرونها، لو علينا معشر اليهود نزلت، لاتخذنا ذلك اليوم عيداً ، قال ای اية؟ قال «اليوم اكملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دينا﴾ (المائدہ:۳)، قال عمر قد عرفنا ذلك اليوم، والـمـكـان الذي نزلت فيه على النبي صلی اللہ علیہ وسلم وهو قائم بعرفة يوم جمعة۔
اطراف الحدیث:۴۴۰۷-۴۶۰۶-۷۲۶۸
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں الحسن بن صباح نے حدیث بیان کی، انہوں نے جعفر بن عون سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالعمیس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قیس بن مسلم نے خبر دی، از طارق بن شہاب از حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ یہود میں سے ایک شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جس کی آپ لوگ تلاوت کرتے ہیں اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے، حضرت عمر نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ تو اس نے کہا: ” آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بہ طور دین پسند کرلیا‘‘(المائدہ:۳) ۔ حضرت عمر نے کہا: ہمیں وہ دن بھی معلوم ہے اور مقام بھی معلوم ہے، جہاں یہ آیت نبی ﷺ پر نازل ہوئی تھی اس وقت آپ جمعہ کے دن میدان عرفات میں کھڑے ہوۓ تھے ۔
صحیح مسلم:۱۳۰۱۷ ، سنن ترمذی: 3043 سنن نسائی: 5027۔3002
چونکہ امام بخاری نے اس باب کے عنوان میں المائدہ:3 کو ذکر کیا تھا۔ اس لیے یہاں اس حدیث کو روایت کیا ہے جس میں یہ آیت ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
(۱) حسن ابوعلی بن صباح الواسطی بغدادی، امام احمد بن حنبل نے کہا: یہ ثقہ اور عامل بالسنہ ہیں، ان سے امام بخاری، امام ابوداؤد،امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے یہ 260ھ میں بغداد میں فوت ہو گئے۔
( ۲ ) جعفر بن عون بن جعفر المخزومی، ابن معین نے کہا: یہ ثقہ ہیں امام احمد نے کہا: یہ نیک شخص ہیں، بہت بڑی جماعت نے ان سے روایت کی ہے ۔ یہ ۲۰۷ھ میں کوفہ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) ابوالعمیس عقبہ بن عبد اللہ الکوفی، یحیی اور امام احمد نے کہا: یہ ثقہ ہیں، ائمہ ستہ نے ان سے روایت کی ہے یہ 120 ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۴) قیس بن مسلم ابوعمر الجدلی انہوں نے طارق بن شہاب اور مجاہد وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے الاعمش اور مسعر وغیرہ نے سماع کیا ہے ۔ یہ 120ھ میں فوت ہوگئے تھے۔
(۵) حضرت طارق بن شہاب بن عبد شمس رضی للہ عنہ صحابی ہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، اور زمانہ جاہلیت کو بھی پایا ہے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہما کے دور خلافت میں ۴۳ مغازی اور سرایا میں جہاد کیا ہے، خلفاء اربعہ اور دیگر صحابہ سے روایت کی ہے اور کوفہ میں رہائش کی ہے، ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت نہیں ہے یہ 123ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۶) حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
( عمدة القاری ج۱ص۴۱۰-۴۰۹)
بعض الفاظ کے معانی اور اس اشکال کا جواب کہ حضرت عمر کا جواب یہود کے سوال کے مطابق نہ تھا
اس حدیث میں یہود ‘‘ کا لفظ ہے یہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کا نام ہے یہ ھادوا‘‘ سے بنا ہے اس کا معنی ہے : مائل ہوۓ یعنی یہ بچھڑے کی عبادت کی طرف مائل ہوۓ یا’ھاد‘‘ سے بنا ہے اس کا معنی ہے : رجوع کیا، یعنی انہوں نے خیر سے شر کی طرف رجوع کیا ۔
اور اس حدیث میں ’’عید ‘‘ کا لفظ ہے یہ عود ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے : لوٹنا‘ عید کو عید اس لیے کہتے ہیں یہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے قرآن مجید میں ہے:
قال عيسى ابن مريم اللهم ربنا أنزل علينا مائدة من السماء تكون لنا عيدا لأولنا واخرنا.(المائدہ:114)
عیسی بن مریم نے دعا کی: اے اللہ! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے دستر خوان نازل فرما جو ہمارے پہلے اور بعد کے لوگوں ( المائدہ: ۱۱۴) کے لیے عید ہو جاۓ ۔
اور عید اس دن کو کہتے ہیں، جس دن کوئی فرحت اور سرور حاصل ہو اور کسی عظیم نعمت ملنے کی وجہ سے خوشی ہو ۔
اس حدیث میں ہے: یہود میں سے ایک شخص نے کہا: وہ شخص کعب احبار تھے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ امام بخاری نے کتاب التفسیر میں اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہاں کہا ہے کہ یہود نے کہا: اور یہ تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت کعب احبار نے، حضرت عمر سے یہ سوال کیا تھا، ان کے ساتھ یہود کی ایک جماعت تھی، گویا انہوں نے یہود کی نمائندگی کی تھی ۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ کعب احبار کے سوال اور حضرت عمر کے جواب میں کوئی مناسبت نہیں ہے، کعب احبار نے کہا: اس آیت کے نزول کے دن کو عید منانا چاہیے تھا۔ حضرت عمر نے جواب دیا: یہ آیت جمعہ اور عرفہ کے دن نازل ہوئی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر کی مراد یہ تھی کہ یہ دونوں عید کے دن ہیں، اس لیے ہمیں الگ عید کا دن بنانے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ ان احادیث سے ظاہر ہوتا ہے:
کعب احبار بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب سے کہا: میں ایسی قوم کو پہچانتا ہوں کہ اگر ان میں یہ آیت نازل ہوتی تو وہ اس دن میں غور کرتے اور اس کو عید بنا لیتے حضرت عمر نے پوچھا: کون سی آیت ؟ انہوں نے کہا: اليوم أكملت لكم دینکم(المائدہ:۳) حضرت عمر نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ کون سے دن یہ آیت نازل ہوئی تھی وہ جمعہ کا دن تھا اور عرفہ کا دن تھا اور یہ دونوں ہمارے لیے عید ہیں ۔ (االمعجم الاوسط : ۴ ۸۳ ۔ ج۱ ص460، مکتبه المعارف ریاض ۱۴۰۵ھ )
حضرت ابن عباس نے بھی یہودی سے کہا: یہ آیت عید کے دن نازل ہوئی ہے، جمعہ اور عرفہ کے دن ۔ ( سنن ترمذی: ۳۰۴۴)
اس حدیث کی شرح میں کعب احبار کا تذکرہ آ گیا ہے اس لیے اب ہم کعب احبار کا تعارف کرانا چاہتے ہیں :
کعب احبار کا تعارف
حافظ جمال الدین ابوالحجاج یوسف المزی المتوفی ۷۴۲ ھ لکھتے ہیں :
ان کا پورا نام کعب بن مائع الحمیری ابواسحاق ہے، یہ کعب احبار کے نام سے معروف ہیں، اہل کتاب میں اسلام لانے والوں میں سے ہیں، امام بخاری امام ابوداؤد، امام ترمذی اور امام نسائی نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں اسلام لاۓ اور ایک قول ہے: یہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت میں اسلام لاۓ، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت کو پایا تھا۔ امام محمد بن سعد نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بعد اہل شام کے طبقہ اولی میں شمار کیا ہے یہ دین یہود پر تھے پھر اسلام قبول کر کے مدینہ میں آ گئے پھر شام چلے گئے پھر حمص چلے گئے پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۲ھ میں فوت ہو گئے۔
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے کعب احبار سے پوچھا: آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے عہد میں اسلام کیوں نہیں لاۓ، حتی کہ اب حضرت عمر کے عہد میں اسلام لاۓ ہیں تو انہوں نے کہا: میرے والد نے میرے لیے تو رات کی ایک کتاب لکھ کر مجھے دی اور کہا: اس پر عمل کرنا اور باقی کتابوں پر مہر لگا دی اور مجھ سے یہ عہد لیا کہ میں ان کتابوں کی مہر کو نہ توڑوں پھر جب میں نے اسلام کا غلبہ دیکھا تو میں نے سوچا شاید میرے والد نے مجھ سے کچھ علم چھپالیا ہے، میں اس کو پڑھوں, پھر میں نے مہر توڑ کر ان کو پڑھا تو ان میں سیدنا محد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفت تھی، تو اب میں مسلمان ہو گیا۔ پھران کی حضرت ابن عباس سے دوستی ہوگئی ۔
حضرت معاویہ نے کہا: سنو! ابوالدردا ، حکماء میں سے ہیں اور عمرو بن العاص حکماء میں سے ہیں اور کعب احبار علماء میں سے ہیں ۔
ابومعن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس کعب کی حضرت عبداللہ بن سلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا: اے کعب ! اہل علم کون لوگ ہیں؟ کعب نے کہا: جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں انہوں نے کہا: جب علماء علم کو حاصل کرلیں اور اس کو محفوظ کرلیں، پھر ان کے دلوں سے علوم کے نکل جانے کا کیا سبب ہے؟ کعب نے کہا: نفس کی طمع اور حرص اور لوگوں سے اپنی حاجات کو طلب کرنا، حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ کعب نے کہا: اگر میں خوف خدا سے روؤں تو وہ میرے نزدیک اپنے وزن کے برابر سونا صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
واقدی اور ابن حبان نے کہا: کعب احبار ۱۰۴ سال کی عمر گزار کر ۳۲ھ میں فوت ہو گئے ۔
( تہذیب الکمال ج ۱۵ ص ۴۰۲ ـ ۳۹۹ ملخصا دار الفکر بیروت ۱۴ ۱۴ ھـ )
یہ حدیث شرح صحیح مسلم: ۷۳۸۷۔7386 ۔ ج ۷ ص ۷ ۱۰۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
اليوم أكملت لكم دينكم‘‘ کی تفسیر
(۴) دین، شریعت اور مذہب وغیرہ کی تعریفات
(۳) آیت مذکورہ سے یوم میلاد النبی کے عرفا عید ہونے پر استدلال ۔
اس آیت کی تفسیر ہم نے تبیان القرآن ج ۳ ص ۷۱۔66میں کی ہے اور وہاں اس کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
اسلام کا کامل دین ہونا، ادیان سابقہ کے کامل ہونے کے منافی نہیں
(۲) یوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عید ہونا ۔ یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر تعطیل نہ کرنے کے خلاف سپاہ صحابہ کا مظاہرہ
(۴) عشرہ حکیم الامت منایا جاۓ گا، مفتی نعیم ۔
شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی میں اس دن کو عید منانے کا ذکر آ گیا ہے، اس
سلسلہ میں غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی متوفی ۱۳۰۷ھ کی یہ عبارت لائق مطالعہ ہے:
سو جس کو حضرت کے میلا دکا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا، حصول پر اس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں ۔( الشمامة العنمریه من مولد خیر البریہ ۱۳۰۵ھ)
