Site icon اردو محفل

کتاب الایمان باب 36 حدیث نمبر 49

٤٩- أخبرنا قتيبة بن سعيد حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن أنس قال أخبرني عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يخبر بليلة القدر، فتلاحي رجلان من المسلمين فقال إني خرجت لأخبركم بليلة القدر وانه تلاحى فلان و فلان ، فرفعت، وعسى أن يكون خيرا لكم ، التمسوها في السبع والتسع والخمس.

اطراف الحدیث: ۲۰۲۳- 6049

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں، ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے خبر دی از حمید از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، وہ کہتے ہیں: مجھے حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے باہر نکلے پس دو مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے، سو آپ نے فرمایا: میں تم کولیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلا تھا، بے شک فلاں اور فلاں نے جھگڑا کیا، پس لیلۃ القدر کی تعین کا علم اٹھالیا گیا، اور ہوسکتا ہے کہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہو (اب ) تم لیلۃ القدر کو ستائیسویں انتیسویں اور پچیسویں شب میں تلاش کرو ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) قتیبہ بن سعید ان کا تعارف باب السلام من الاسلام‘‘ میں ہو چکا ہے ۔

(۲) اسماعیل بن جعفر ان کا تعارف ’’باب علامات المنافق ‘‘میں ہو چکا ہے۔

(۳) حمید بن ابی حمید الخزاعی البصری یہ پست قامت تھے ۱۴۳ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۴) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ۔

( ۵ ) حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ ان کا تعارف’’ باب علامت الایمان حب الانصار ‘‘ میں ہو چکا ہے ۔

( عمدة القاری ج۱ ص۴۳۵)

بعض الفاظ کے معانی اور اس اعتراض کا جواب کہ دو صحابہ کے لڑنے کی وجہ سے ہم لیلۃ القدر کی تعیین کے علم سے محروم ہوگئے

اس حدیث میں’’ فتلاحی‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ایک دوسرے سے لڑے اور جھگڑے ۔

’’التمسوها ‘‘ لیلۃ القدرکوطلب کرو یا تلاش کرو۔

جو دو مسلمان لڑ رہے تھے وہ حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہما تھے حضرت عبداللہ نے حضرت کعب کا قرض دینا تھا۔ رسول اللہ ﷺ لیلۃ القدر کی معین شب کی خبر دینے آۓ ان کے جھگڑے کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھالی گئی۔ اس حدیث میں مسلمانوں کے لڑنے کی مذمت ہے کیونکہ ان کے لڑنے کی وجہ سے مسلمان لیلۃ القدر کی تعیین کی خبر سے محروم ہو گئے مگر اس وجہ سے ان صحابہ کو ملامت کرنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس تعین کا علم نہ ہونا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے کیونکہ اب تم لیلتہ القدر کی تلاش میں کئی راتوں میں جاگ کر عبادت کرو گے اور لیلۃ القدر کو تلاش کرو گئے، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر علم ہوتا کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے، پھر اس رات کوئی شخص گناہ کرتا تو وہ زیادہ عذاب کا مستحق ہوتا ایک اس گناہ کی وجہ سے دوسرے لیلۃ القدر کا احترام پامال کرنے کی وجہ سے اور جب یہ پتا نہ ہو کہ کون کی شب لیلۃ القدر ہے تو پھر وہ شخص صرف ایک عذاب کا مستحق ہوگا ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان کا لڑنا کیوں مذموم ہے جب کہ حضرت کعب حضرت عبداللہ سے اپنا قرض طلب کر رہے تھے اور اپنا حق طلب کرنا مذموم نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو وہ مسجد میں لڑ رہے تھے دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لڑ رہے تھے اور خصوصاً اس لیے کہ وہ رمضان کا مہینہ تھا، جس میں اللہ کے ذکر اور عبادت کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ دنیاوی معاملات میں مسجد میں آواز میں بلند کرنی چاہئیں البتہ متوسط بلند آواز سے مسجد میں اللہ کا ذکر کرنا جائز ہے لیکن گلا پھاڑ کر اور چلا چلا کر ذکر کرنا بھی مذموم ہے اگر اعتدال کے ساتھ مسجد میں اپنا حق طلب کیا جاۓ تو وہ بھی جائز ہے مگر ان کی آواز میں اعتدال سے زائد تھیں تاہم اس وجہ سے صحابہ کومطعون کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام کی خطائیں بھی تکمیل دین کا سبب ہیں، جن بعض صحابہ سے کبھی کبھار شراب نوشی چوری یا زنا کے افعال سرزد ہوۓ اور انہوں نے ان افعال پر توبہ کر لی اور ان پر حد جاری ہوئی تو اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حد جاری کرنے کا اسوہ اور نمونہ متحقق ہوا سو اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس لیے یہ نہ کہا جائے کہ ان صحابہ کے لڑنے کی وجہ سے ہم لیلۃ القدر کی برکت سے محروم ہو گئے بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کی برکت کی وجہ سے ہمیں جاگ کر عبادت کر نے کے لیے کئی راتیں مل گئیں ۔

Exit mobile version