۳۹- باب فضل من استبرأ لدينه
اس شخص کی فضیلت جو اپنے دین کو بچانے کے لیے مشتبہ چیزوں سے بری ہوا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس وجہ سے ہے کہ باب سابق میں ایمان کا ذکر ہے اور انسان کمال ایمان کی وجہ سے مشتبہ چیزوں سے بچتا ہے۔
٥٢- حدثنا أبو نعيم حدثنا زكريا، عن عامر قال سمعت النعمان بن بشير يقول سمعت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه و عرضه ، ومن وقع في الشبهات كراع يرعى حول الحمی یوشك أن يواقعه، الا وإن لكل ملك حمى، الا ان حمی الله في أرضه محارمة، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله الا وهي القلب۔
طرف الحدیث :۲۰۵۱
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زکریا نے حدیث بیان کی از عامر،انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچا، اس نے اپنے دین کی اور اپنی عزت کی حفاظت کر لی اور جو شخص شہبات میں ملوث ہوگیا، وہ اس چرواہے کی طرح ہے، جو شاہی چراگاہ کے گرد اپنے مویشی چراۓ، قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائیں گے،سنو! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے سنو! اس زمین میں اللہ کی مخصوص چراگاہ اس کے حرام کیے ہوۓ کام ہیں، سنو! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب اس میں فساد ہو تو پورا جسم فاسد ہوجاتا ہے سنو! وہ دل ہے۔
صحیح مسلم :۱۵۹۹، سنن ابوداؤد:٬۳۳۲۹ سنن ترمذی:۴۰۷۱-۱۲۰۵، سنن نسائی :۵۷۲۶ – ۴۰۶۵ سنن ابن ماجه: 3984، السنن الکبری للنسائی : ۵۲۱۹، صحیح ابن حبان :۷۲۱ المعجم الاوسط : ۲۴۹۳ حلیۃ الاولیاء، ج ۴ ص 336، سنن بیہقی ج ۵ ص 334، الکامل ابن عدی ج ۵ ص 1692 مسند احمد ج ۴ ص ۲۶۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۷ ۱۸۳۴ – ج۳۰ص۲۸۹ مؤسسة الرسالة بيروت
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
(۱) ابونعیم بن دکین، یہ ان کا لقب ہے ان کا نام عمرو بن حماد القرشی لطلحی ہے انہوں نے اعمش وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے امام احمد وغیرہ نے سماع کیا ہے ان کی ثقاہت پر اتفاق ہے، امام بخاری نے ان سے بلا واسطہ روایت کی ہے اور امام مسلم امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ایک واسطہ سے روایت کی ہے ۲۱۹ھ میں فوت ہو گئے تھے.
( ۲ ) زکریا بن ابی زائدہ، ان کا نام خالد بن میمون الھمدانی الکوفی ہے، انہوں نے تابعین کی ایک جماعت سے سماع کیا ہے، جس میں شعبی اور سبیعی بھی ہیں، اور ان سے شعبہ اور ثوری وغیرہ نے سماع کیا ہے، یہ ۱۴۹ ھ میں فوت ہو گئے تھے.
(۳) عامر شعبی‘ ان کا تعارف ہو چکا ہے.
(۴) حضرت نعمان بن بشیر الانصاری الخزرجی رضی اللہ عنہ ہجرت کے چودہ ماہ بعد پیدا ہوۓ ان سے ۱۱۴ احادیث مروی ہیں 65ھ میں واسط کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، یہ صحابی ابن صحابی ہیں ان کے علاوہ صحابہ میں نعمان بن بشیر کسی اور کا نام نہیں ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص۴۵۹)
مشتبہات کے معانی اور محل عقل کے مصداق میں اختلاف فقہاء
اس حدیث میں’’ مشتبهات ‘‘ کا لفظ ہے، یہ وہ چیز ہے جو ایک جہت سے حلال ہو اور دوسری جہت سے حرام ہو، جیسے کسی رشوت خور کے گھر کا کھانا، اگر اس کی تنخواہ کی آمدنی سے پکا ہوا ہو تو حلال ہے اور اگر رشوت کی آمدنی سے پکا ہو تو حرام ہے، یا جس چیز کی حلت اور حرمت میں اختلاف ہو جیسے مچھلی کے علاوہ دوسرے دریائی یا سمندری جانور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک وہ حلال ہیں اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک وہ حرام ہیں ۔
اس حدیث میں” قلب ‘‘ کا لفظ ہے، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ عقل محل دل ہے یا دماغ ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک عقل کا محل دماغ ہے کیونکہ دماغ پر چوٹ لگنے سے عقل متاثر ہوتی ہے اور دماغ کے مرض مثلا جنون سے بھی عقل فاسد ہو جاتی ہے اور دل کے امراض سے عقل کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں آتا امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں تعقل کا استاد دل کی طرف کیا گیا ہے:
لهم قلوب يعقلون بها. (الحج:46)
ان کے دل ایسے ہوتے ہیں جن سے وہ تعقل کر تے ہیں ۔
امام ابوحنیفہ کی طرف سے اس کا یہ جواب ہے کہ قرآن مجید میں یہ اطلاق مجازی ہے، یہاں ذکر قلب کا ہے اور اس سے مراد دماغ ہے ۔
شرح صحیح مسلم میں یہ حدیث : ۳۹۸۲۔ ج ۴ ص ۴۱۵۔۴۰۹ پر ہے وہاں اس کے عنوانات یہ ہیں :
(1) امور مشتبہ کی تشریح میں علماء کے اقوال
(۲) دماغ کے محل عقل ہونے پر دلائل
(۳) قرآن اور حدیث میں دل کی طرف عقل اور ادراک کی نسبت کی توجیہ
(۴) عقل کی تعریف میں علماء کے اقوال
(۵) محل عقل کے بارے میں علماء کے اقوال ۔
