Site icon اردو محفل

کتاب الایمان باب 40 حدیث نمبر 53

٤٠- باب اداء الخمس من الإيمان

خمس کا ادا کرنا امورایمان سے ہے

’’خمس ‘‘ کا معنی ہے: کفار کے خلاف جہاد کرنے سے فتح کے بعد جو مال غنیمت حاصل ہو اس کے چار حصے تو مجاہدین میں تقسیم کر دیے جاتے ہیں اور پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جا تا ہے اور آپ کی وفات کے بعد اس کو مسلمانوں کے بیت المال کے لیے بھیج دیا جاتا ہے اور اس کے مصارف فقراء مسلمین اور قومی ضروریات ہیں، قرآن مجید میں ہے:

واعلموا أنما غنمتم من شيء فان لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتمى والمسكين وابن السبيل. (الانفال :۴۱)

یا درکھو کہ تم غنیمت میں جو مال حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ہے اور قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں گا ۔

اور اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں حلال اور حرام کا بیان فرمایا تھا اور اس باب میں مال غنیمت کے پانچویں حصہ کا ذکر ہے اور اس کو اپنے مصارف میں خرچ کرنا حلال ہے اور مصارف کے خلاف خرچ کرنا حرام ہے اور اس باب کی عنوان باب کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اس باب کی حدیث میں خمس ادا کرنے کا ذکر ہے۔

 

53- حدثنا علي بن الجعد قال أخبرنا شعبة ، عن أبي جمرة قال كنت أقعد مع ابن عباس، يجلسنى سريره، فقال أقم عندى حتى أجعل لك سهما مـن مـالي ، فاقمت معه شهرين ثم قال إن وفد عبدالقيس لما أتوا النبي صلى الله عليه وسلم قال من القوم ؟ أو من الوفد؟ قالوا ربيعة قال مرحبا بالقوم أو بالوفد، غير خـزايا ولا ندامى فقالوا يا رسول الله إنا لا نستطيع ان ناتيك إلا في الشهر الحرام وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، فمرنا بامر فصل نخيـر بـه مـن وراءنا وندخل به الجنة وسألوه عن الأشربة ، فامرهم باربع، ونهاهم عن أربع أمرهم بالإيمان بالله وحده قال أتدرون ما الإيمان بالله وحده؟ قالوا الله ورسوله أعلم، قال شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله وإقام الصلوة وإيتاء الزكوة، وصيام رمضان، وأن تعطوا من المغنم الخمس، ونهاهم عن اربع عن الحنتم والدباء والنقير، والمزفت، وربما قال المقير وقال إحفظوهن وأخبروا بهن من وراءكم۔

اطراف الحديث : ۸۷ – ۵۲۳ – ۱۳۹۸ – ۳۰۹۵۔۳۵۱۰۔4368، ۴۳۶۹ 6176،۔7256۔7266

صحیح مسلم:۱۷ ابوداؤد : ٬۳۶۹۲ ترمذی:2611-۱۵۹۹ نسائی :۵۰۴۶-۵۷۰۸

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی بن جعد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی از ابی جمرہ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھتا تھا وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھاتے تھے، انہوں نے کہا: تم میرے ساتھ قیام کرو حتی کہ میں اپنے مال سے کچھ حصہ تمہیں دوں، میں ان کے ساتھ دو مہینہ رہا، پھر انہوں نے کہا کہ جب عبد القیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا: یہ کون سی قوم ہے؟ یا یہ کون سا وفد ہے؟ انہوں نے کہا: ربیعہ آپ نے فرمایا: اس قوم کو یا اس وفد کو خوش آمدید ! تم لوگ شرمندہ ہو گے نہ نادم ! انہوں نے کہا:یارسول اللہ ! ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں ہمارے اور آپ کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر ہے آپ ہمیں کوئی فیصلہ کن حکم بتائیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو دیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں انہوں نے آپ سے مشروبات کے برتنوں کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے انہیں چار برتنوں میں پینے کی اجازت دی اور چار برتنوں میں پینے سے منع فرمایا آپ نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا، آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا: تم یہ گواہی دو کہ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور ( سیدنا ) محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت کے پانچویں حصہ کو ادا کرنے کا حکم دیا اور ان کو چارقسم کے برتنوں میں پینے سے منع فرمایا: سبز رنگ کے گھڑے کھوکھلا کدو کھوکھلی لکڑی اور تارکول ملا ہوا برتن اور فرمایا: تم ان کو یاد کر لو اور اپنے پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو ان کی خبر دو ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابوالحسین علی بن الجعد الہاشمی البغدادی، انہوں نے ثوری اور امام مالک وغیرہ سے سماع کیا ہے، اور ان سے امام احمد، امام بخاری، امام ابوداؤد اور دیگر نے سماع کیا ہے، موسی بن داؤد نے کہا: میں نے ان سے زیادہ حافظہ والا نہیں دیکھا، یہ ۲۳۰ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) شعبہ بن حجاج، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

(۳) ابو جمرہ ان کا نام نصر بن عمران ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم اور دیگر سے سماع کیا ہے، اور ان سے ایوب اور بہت تابعین نے سماع کیا ہے، ان کی ثقاہت پر اتفاق ہے ۱۲۸ھ میں بصرہ میں ان کی وفات ہوگئی۔

( ۴ ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص۴۷۱-۴۷۰)

بعض مشکل الفاظ کے معانی

’’ وفد ‘‘ان لوگوں کو کہتے ہیں جو کسی عظیم شخصیت سے ملاقات کے لیے سوار ہو کر جائیں قرآن مجید میں ہے:

يوم نحشر المتقين إلى الرحمن وفدا0

جس دن متقین کو رحمان کی طرف ( به طور مہمان ) لے جایا جاۓ گا۔ (مریم:85)

مضر ‘‘یہ مضر بن عدنان کا قبیلہ ہے مضر اور ربیعہ دو بھائیوں کی اولاد ہیں، حرمت والے مہینوں یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالجہ، اور محرم کے علاوہ باقی مہینوں میں ان کے درمیان جنگ رہتی تھی ۔

’’الحنتم‘‘سبز رنگ کے گھڑے یا مٹکے، ان میں نبیذ بنایا جاتا تھا۔

“الدباء”کدو کوخشک کر کے کھوکھلا کر کے برتن بنایا جاتا تھا۔ یہ بھی نبیذ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔

’’النقير ‘‘ کھجور کے تنے کو اندر سے کھوکھلا کر کے برتن بنایا جاتا تھا ۔ یہ بھی نبیذ رکھنے کے کام آ تا تھا اس کو ’ المقير ‘‘ بھی کہتے ہیں۔

’’ المزفت ‘‘ لکڑی کا پیالہ بنا کر اس پر تارکول کی لپائی کر دیتے تھے یہ بھی نبیذ کے ظروف میں سے ہے ۔

اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں لیکن بیان پانچ چیزیں فرمائیں

 

اس حدیث میں فرمایا ہے: ان کو چار چیزوں کا حکم دیا لیکن جو مذکور ہیں وہ پانچ ہیں: (۱) کلمہ شہادت (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوۃ دینا( ۴ ) رمضان کے روزے رکھنا ( ۵ ) مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا ۔ اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ جن چار چیزوں کا حکم دیا تھا ان میں سے ایک چیز ایمان ہے، اس کے بعد جن چیزوں کا ذکر ہے وہ ایمان لانے کی تفسیر ہیں، اور بقیہ تین چیزوں کا ذکر کرنا راوی بھول گیا دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز، زکوۃ روزے اور خمس ان چار چیزوں کا حکم دینا مقصود تھا اور اس سے پہلے اللہ اور رسول کی شہادت کا ذکر بہ طور تبرک ہے ۔

دینی خدمات کا معاوضہ لینا صحابہ میں مروج تھا

اس حدیث میں ذکر ہے کہ ابوجمرہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم میرے پاس ٹہرو، حتی کہ میں اپنے مال سے تمہیں حصہ دوں ۔البخاری: ۸۷ میں مذکور ہے کہ ابو جمرہ سائلین کے عجمی زبان کے سوالات کا ترجمہ کر کے حضرت ابن عباس کو عربی میں سناتے تھے، پھر ان کے جوابات کا عجمی میں ترجمہ کر کے سائلین کو سناتے، حضرت ابن عباس ان کی اس خدمت کا ان کو معاوضہ دیتے تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دینی خدمات کا معاوضہ لینا اور دینا صحابہ میں رائج اور معمول تھا۔

ابتداء میں چار قسم کے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع فرمانا، پھر اس کی اجازت دینا

ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مذکورہ چار برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں اس حکم کو منسوخ فرمادیا اور تمام برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی حدیث میں ہے::

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو مشک کے سوا نبیذ بنانے سے منع کیا تھا اب تم ہر مشک سے نبیذ پیو اور نشہ آور مشروب کو نہ پیو۔

( صحیح مسلم رقم بلا تکرار : ۹۷۷ الرقم مسلسل :۵۱۰۹ سنن ابوداؤد: ۳۷۰۲)

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو کچھ برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اور بے شک برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔ ( صحیح مسلم الرقم مسلسل : ۵۱۱۰ )

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ برتنوں میں (نبیذ) پینے سے منع فرمایا تھا۔ پھر انصار نے کہا: ہمارے لیے ان برتنوں سے پینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے آپ نے فرمایا: پھر کوئی حرج نہیں ہے آپ نے فرمایا: حلال مشروب کو پیو۔ (صحیح البخاری: ۵۵۹۲ سنن ابوداؤد : 3700، سنن نسائی :5666)

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین چیزوں سے منع کیا تھا اب میں تم کو ان کی اجازت دیتا ہوں، میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ سواب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ قبروں کی زیارت آخرت کو یاد دلاتی ہے اور میں نے تم کو چند برتنوں میں ( نبیذ ) پینے سے منع کیا تھا’ ما سوا چمڑے کے برتنوں کے، اب تم ہر برتن میں ( نبیذ ) پیا کرو سوا اس کے کہ تم نشہ آور مشروب نہ پیو، اور میں نے تم کو قربانی کے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب تم اس کو کھایا کرو اور اپنے سفروں میں اس سے استفادہ کرو ۔ ( سنن ابوداؤد : ۳۲۹۸، صحیح مسلم : ۷ ۹۷ سنن نسائی:۲۰۳۱)

ایک اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہیں ہوا تھا۔

نبیذ کا فقہی معنی اور اس کے متعلق احادیث اور آثار

کھجوروں کو پانی میں ڈال کر معمولی سا جوش دیا جاۓ تو اس کو نبیذ کہتے ہیں امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس کا پینا جائز ہے بہ شرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو اور امام محمد اور امام شافعی کے نزدیک اس کا پینا جائز نہیں ہے، امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف نے اس پر احادیث اور آثار سے استدلال کیا ہے ۔ ( بدائع الصنائع ج۶ ص ۴۷۳ – 458 ملخصا دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۸ ۱۴ ھ ) ان احادیث اور آثار میں سے بعض یہ ہیں:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ لایا گیا، آپ نے اس کو سونگھا، پھر اس کی تیزی کی وجہ سے تیوری پر بل ڈالے پھر پانی منگا کر اس میں ڈالا، پھر اس کو پی لیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ تیز نبیذ پیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اونٹوں کو نحر کر تے ہیں اور ان کے گوشت کی شدت کو نبیذ کی شدت ہی کاٹ سکتی ہے۔

اور جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبیذ کو حلال قرار دیا ہے تو اس کے حرام کہنے سے صحابہ کو فاسق قرار دینا لازم آئے گا اور یہ بدعت ہے، اس لیے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ نبیذ کو حلال قرار دینا اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے ۔

( بدائع الصنائع ج۶ ص ۷۳ ۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )

اگر کھجوریں زیادہ دن پانی میں پڑی رہیں یا ان کو زیادہ جوش دیا جاۓ تو پھر ان کا پانی نشہ آور ہو جا تا ہے اور اس نبیذ کو پینا حرام ہے۔

Exit mobile version