٦- باب ما جاء في العلم وقوله تعالى وقل رب زدنی علماء (طہ:114)
علم کے متعلق جو احادیث وارد ہیں اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ اور آپ کہیے: اے میرے رب! میرے علم کو زیادہ کر ‘‘ (طہ : 114)
اس باب کی پہلے ابواب کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ ان ابواب میں شیخ کے پڑھنے کا ذکر تھا اور اس باب میں شیخ کے سامنے پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس عنوان میں قراءت اور عرض کا لفظ ہے اور عرض کے دو معنی ہیں: (۱) طالب شیخ کے سامنے حدیث پڑھ کر پیش کرے، اس کو عرض قراءت کہتے ہیں (۴) طالب شیخ کے سامنے اپنی لکھی ہوئی حدیثیں پیش کرے، پھر شیخ اس کا اپنی اصل کے ساتھ مقابلہ کرے، پھر وہ درست ہو تو اس کو واپس دے کر کہے: میں ان حدیثوں پر مطلع ہو گیا اور میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ تم ان حدیثوں کو مجھ سے روایت کرو، اس کو عرض مناولہ کہتے ہیں، اسی طرح شیخ کے سامنے قراءت کے بھی دو معنی ہیں، کیونکہ قراءت کا ایک معنی ہے: طالب کا شیخ کے سامنے شیخ کی لکھائی ہوئی حدیث کو پڑھنا، خواہ طالب پڑھے یا کوئی اور پڑھے اور شیخ اپنی اصل کو ہاتھ میں لے کر سنے اور طالب کے پڑھے ہوۓ کا اپنی اصل سے مقابلہ کرے، اس قراءت علی الشیخ کو بعض محدثین عرض بھی کہتے ہیں ۔
قراءت علی العالم پر دلائل
امام بخاری فرماتے ہیں:
القراءة والعرض على المحدث۔. ورأى الحسن وسفيان الثوري ومالك القراءة جائزة۔
محدث کے سامنے پڑھنا اور حدیث پیش کرنا ۔اور حسن، سفیان ثوری اور مالک کی راۓ میں قراءت جائز ہے۔
یعنی حسن بصری، سفیان ثوری اور امام مالک کے رائے میں محدث کے سامنے اس کی لکھائی ہوئی حدیثیں پڑھنا جائز ہے تاکہمعلوم ہو جاۓ کہ طالب نے اپنے شیخ سے صحیح نقل کیا ہے یا نہیں، پھر امام بخاری فرماتے ہیں:
قال أبو عبد الله سمعت أبا عاصم يذكر عن سفيان الثوري ومالك أنهما كانا يريان القراءة والسماع جائزا..
امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا: میں نے ابو عاصم سے سنا وہ سفیان ثوری اور امام مالک سے نقل کرتے ہیں کہ وہ دونوں قراءت اور سماع کو جائز کہتے تھے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى عن سفيان قال إذا قرى عـلـى الـمـحـدث فلا بأس أن يقول حدثنی وسمعت واحتج بعضهم في القراءة على العالم بحديث ضمام بن ثعلبة ، قال للنبي صلى اللہ علیہ وسلم الله أمرك أن تقيم (نصلي) الصلوات؟ قال نعم قال فهـذه قراءة على النبي صلى اللہ علیہ وسلم أخبر ضمام قومه بذلك فأجازوه۔
ہمیں عبید اللہ بن موسی نے حدیث بیان کی از سفیان، انہوں نے کہا: جب محدث کے سامنے حدیث پڑھی جاۓ تو ’’حدثنی ‘‘ اور سمعت ‘‘ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور بعض علماء نے عالم کے سامنے پڑھنے پر حضرت ضمام بن ثعلبہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم نماز میں پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! یہ نبی ﷺ کے سامنے قراءت ہے، حضرت ضمام نے اپنی قوم کو اس کی خبر دی اور ان کی قوم نے اس خبر کو قبول کرلیا ۔
امام بخاری نے فرمایا: جو بعض علماء نے کہا ہے: اس سے ان کی مراد ان کے شیخ حمیدی ہیں، کیونکہ انہوں نے تصحیح نقل کے لیے محدث کے سامنے حدیث پڑھنے پر حضرت ضمام بن ثعلبہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے، کیونکہ حضرت ضمام، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور آپ سے اسلام کے متعلق سوال کیا، پھر آپ نے جو جواب دیا، اس کو آپ کے سامنے دہرایا اور یہی قراءت علی الشیخ کی مثال ہے، پھر امام بخاری فرماتے ہیں:
واحتـج مـالك بـالـصک يـقـرا عـلـى الـقـوم، فيقولون أشهدنا فلان، ويقرأ ذلك قراءة عليهم ويقرأ على المقرىء فيقول القارىء أقرانی فلان ۔
امام مالک نے اس سے صك ‘‘ ( یہ لفظ چیک کا معرب ہے جس کو فارسی میں قبالہ یا اقرار نامہ کہا جاتا ہے اس سے مراد دستاویز ہے) پر استدلال کیا ہے جس کو قوم کے سامنے پڑھا جا تا ہے اور پڑھنے والے پر پڑھا جاتا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو فلاں شخص نے اس دستاویز (اسٹامپ پیپر، وثیقہ ) پر گواہ بنایا، پس پڑھنے والا کہتا ہے کہ مجھ کو فلاں شخص نے پڑھایا۔
اس کے بعد امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثنا محمد بن سلام حدثنا محمد بن الـحـسـن الـواسـطى ، عن عوف، عن الحسن قال لاباس بالقراءتہ و على العالم۔.
ہم سے محمد بن سلام نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن الحسن الواسطی نے حدیث بیان کی، از عوف از الحسن، انہوں نے کہا: عالم کے سامنے قراءت میں کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا عبيد الله وأخبرنا محمد بن يوسف الفربري وحدثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال حدثنا عبيدالله بن موسى عن سفيان قال إذا قرئ عـلـى الـمـحـدث فـلا بأس أن تقول حدثنی، قال وسمعت أبا عاصم يقول عن مالك و سفيان القراءة على العالم و قراءته سواء۔
ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی اور ہمیں محمد بن یوسف الفربری نے خبر دی اور ہمیں محمد بن اسماعیل بخاری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سے عبید اللہ بن موسی نے حدیث بیان کی از سفیان، انہوں نے کہا: جب محدث کے سامنے حدیث پڑھی جاۓ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم کہو: اس نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عاصم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : از مالک وسفیان کہ عالم کے سامنے پڑھنا اور عالم کا پڑھنا دونوں برابر ہیں ۔
یعنی طالب کا محدث کے سامنے حدیث پڑھنا اور محدث کا خود حدیث پڑھنا، دونوں برابر ہیں اور دونوں صورتوں میں طالب اس حدیث کو” حدثنا‘‘ کے صیغہ کے ساتھ روایت کر سکتا ہے، اس وضاحت کے بعد امام بخاری باب کے عنوان پر درج ذیل حدیث روایت کر کے استدلال کرتے ہیں :
63- حدثنا عبد الله بن يوسف قال حدثنا الليث عن سعيد هو المقبري عن شريك بن عبد الله بن ابی نمر انه سمع أنس بن مالك يقول بينما نحن جلوس مع النبي صلى الله عليه وسلم في الـمـسـجـد، دخـل رجل على جـمـل، فـانـاخـه في المسجد، ثم عقله، ثم قال لهم أيكم محمد؟ والنبي صلى الله عليه وسلم متكىء بين ظهرانيهم، فقلنا هذا الرجل الأبيض المتكيء، فقال له الرجل ابن عبد المطلب؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم قد أجبتك، فقال الرجل للنبي صلى الله عليه وسلم إلى سائلك فمشدد عليك في المسألة، فلا تجد على في نفسك ، فقال سل عما بدا لك. فقال أسالك بربك ورب من قبلك، الله أرسلك الى الناس كلهم؟ فقال اللهم نعم. قال انشدك بالله ، الله أمرك أن نـصـلى الصلوات الخمس في اليوم والليلة؟ قال اللهم نعم . قال أنشدك بالله، الله أمرك أن تـصـوم هذا الشهر من السنة؟ قال اللهم نعم قال أنشدك بالله ،الله أمرك أن تأخذ هـذه الـصـدقـة مـن أغنيائنا فتقسمها على فقرائنا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم اللهم نعم. فقال الرجل امنت بما جئت به وانا رسول من ورائي من قومي وانا ضمام بن ثعلبة أخو بني سعد بن بكر۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از سعید جو مقبری سے از شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر بیٹھا ہوا آیا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا، پھر اس کو باندھ دیا پھر صحابہ سے کہا: تم میں سے کون شخص ( سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوۓ تھے ہم نے کہا: یہ سفید رو شخص جو ٹیک لگاۓ ہوۓ ہیں، پھر آپ سے اس شخص نے کہا: عبد المطلب کے بیٹے ہو؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جواب دے چکا ہوں پس اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے سوال کر نے والا ہوں اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا، آپ اپنے دل میں مجھ پر غصہ نہ کریں، آپ نے فرمایا: جو دل میں آۓ سوال کرو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دے کر اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں : کیا واقعی اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! ہاں ! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں : کیا واقعی اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! ہاں! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا واقعی اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال کے اس مہینہ میں روزے رکھا کریں؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! ہاں ! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا واقعی آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے دولت مند لوگوں سے صدقہ لے کر اس کو ہمارے فقراء میں تقسیم کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! ہاں! اس شخص نے کہا: آپ جو کچھ لے کر آۓ ہیں میں اس پر ایمان لے آیا اور میں اپنے پیچھے اپنی قوم کا رسول ( نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثغلبہ ہوں، جو بنو سعد بن ابی بکر کا بھائی ہے۔
رواه موسی و علي بن عبدالحميد ، عن سليمان عن ثابت ، عن أنس، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم بهذا۔
امام بخاری فرماتے ہیں: اس حدیث کو موسی اور علی بن عبدالحمید نے روایت کیا ہے از سلیمان از ثابت از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
( سنن ابوداؤد: 486، سنن ابن ماجه: ۱۴۰۲، سنن نسائی :۳۰۱۹ مسند الشافعی ج۱ ص۲۱۹ صحیح ابن خزیمہ:۲۳۵۸’ صحیح ابن حبان: ۱۵۴ مسند احمد ج ۳ ص 168طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹ ۷ ۱۲۔ ج 20 ص 138)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس باب کا عنوان ہے: محدث کے سامنے حدیث کو پڑھنا
اور حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سن کر آپ کے سامنے اس حدیث کو پڑھا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبدالله بن یوسف التنیسی۔
(۲)لیث بن سعد المصری۔
(۳) سعید بن ابی سعید المقبری، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۴) شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر المدنی القرشی ،ابی نمر پہلے احد میں مشرکین کے ساتھ مل کرلڑنے کے لیے آۓ تھے، پھر اللہ تعالی نے ان کو اسلام کی ہدایت دے دی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ اور سعید بن مسیب وغیرہ سے کام کیا ہے، اور ان سے امام مالک اور سعید مقبری وغیرہ نے سماع کیا ہے ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے یحییٰ بن معین نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، امام ترمذی کے علاوہ محدثین کی بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ان کی وفات ۱۴۰ھ میں ہوئی ہے۔
(۵) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۸)
حضرت ضمام بن ثعلبہ کا تذکرہ
اس حدیث میں حضرت ضمام بن ثعلبہ کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کا ذکر ہے، اس میں اختلاف ہے کہ جب حضرت ضمام بن ثعلبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ تھے اس وقت وہ مسلمان ہو چکے تھے یا نہیں، ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ وہ آپ کے پاس آنے سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے، اور امام بخاری نے بھی یہی سمجھا ہے اور وہ اس لیے آئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیث پیش کریں، اس لیے امام بخاری نے اس باب کا عنوان’’ قراءت والعرض على المحدث ‘‘ قائم کیا ہے نیز اس حدیث میں ہے: انہوں نے کہا: آپ جو کچھ لاۓ ہیں، میں اس پر ایمان لایا اور میرے پیچھے جو قوم ہے میں اس کا نمائندہ ہوں، اور قاضی عیاض اور دیگر محدثین نے کہا: وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہ اس کے بعد اسلام لائے تھے اور اس وقت محض تفتیش کے لیے آۓ تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ بنوسعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو بھیجا تھا، حتی کہ جب وہ مکالمہ سے فارغ ہوئے تو پھر انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا، اور اس حدیث میں جو مذکور ہے:’’ آپ جو کچھ لاۓ ہیں میں اس پر ایمان لایا‘‘اس سے مراد ان کا اسی وقت ایمان لانا ہے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ اپنے پہلے ایمان کی خبر دے رہے ہیں علامہ قرطبی نے بھی قاضی عیاض کے قول کو ترجیح دی ہے نیز امام ابوداؤد نے اس حدیث کا یہ عنوان قائم کیا ہے باب : مشرک کا مسجد میں داخل ہونا، اور امام بخاری نے جو” قراءت والعرض على المحدث ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے اس وقت ضمام بن ثعلبہ کو مسلمان سمجھا ہو، امام ابن اسحاق نے کہا: ضمام بن ثعلبہ 9ھ میں آۓ تھے، الواقدی نے کہا: وہ ۵ ھ میں آۓ تھے لیکن پہلا قول صحیح ہے کیونکہ صحیح مسلم : ۱۲ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت آۓ تھے، جب قرآن مجید میں مسلمانوں کو سوالات کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور یہ ممانعت (المائدہ:۱۰۱ ) میں ہوئی ہے اور سورہ مائدہ آخر میں نازل ہوئی ہے ثانی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دینے والوں کو زیادہ تر فتح مکہ کے بعد بھیجا تھا ثالث اس لیے کہ بنو سعد بن بکر غزوہ حنین کے بعد اسلام میں داخل ہوۓ ہیں ۔
نیز اس حدیث میں بنوسعد بن بکر کا ذکر ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ننھیال ہے۔
( عمدة القاری ج ۱ ص ۳۳، فتح الباری ج 1 ص 111،المفہم ج ۱ ص ،164،162،ملخصاً )
مقلد کے ایمان کا صحیح ہونا اور ماکول اللحم کا پیشاب اور گوبر حرام ہونا
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت ضمام بن ثعلبہ کے ایمان لانے کا ذکر ہے، اور یہ ذکر نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی معجزہ طلب کیا تھا یا ازخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی معجزہ دکھایا تھا یا کوئی دلیل پیش کی تھی اس سے معلوم ہوا کہ دلائل میں غور وفکر کیے بغیر بھی مقلد کا ایمان صحیح ہوتا ہے ۔
نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ خبر واحد کا قبول کرنا صحیح ہے، کیونکہ یہ منقول نہیں ہے کہ حضرت ضمام بن ثعلبہ کی قوم نے یہ کہا ہو کہ ہم تمہارے پیغام کو اس وقت تک قبول نہیں کریں گے حتی کہ کسی اور ذریعہ سے تمہاری بات کی تصدیق ہو جاۓ ۔
اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت ضمام بن ثعلبہ نے اپنا اونٹ مسجد میں باندھ دیا اور جانوروں سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی پیشاب یا لید کردیں گے اس سے امام احمد نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب اور ان کی لید پاک ہے۔
اسی طرح حافظ عبداللہ روپڑی (غیر مقلد عالم ) لکھتے ہیں:
’’ قضیب گاؤ‘‘( بیل کا آلہ تناسل ) حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے مگر یہ مذہب میں نہیں بلکہ “ماکول اللحم‘‘ ( جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ) کا گوبر پیشاب تک پاک اور حلال ہے ۔( فتاوی اہل حدیث ج ۲ ص٬566 اداره احیاء السنة النبویه سرگودها )
ہمارے نزدیک محض مسجد میں اونٹ باندھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا پیشاب اور گوبر پاک اور حلال ہوجاۓ کیونکہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ انہوں نے مسجد کے احاطہ میں اونٹ باندھ دیا اور محض احتمال سے ان کا پیشاب اور گوبر کیسے پاک ہوسکتا ہے جب کہ ان کی تحریم اور نجاست کے متعلق صریح احادیث موجود ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ عام طور پر اس کی وجہ سے عذاب قبر ہوتا ہے ۔(سنن دارقطنی : ۴۵۷)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اکثر قبر کا عذاب پیشاب ( سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
( سنن ابن ماجہ :٬۳۴۸ مسند احمد ج ۲ ص٬۳۲۶ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۲۱ المستدرک ج ۱ ص ۱۸۳ سنن بیہقی ج ۲ ص 412، سنن دارقطنی : ۴۵۸)
گوبر اور لید کی نجاست کے متعلق یہ حدیث ہے:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے گئے اور مجھے فرمایا کہ میں آپ کے لیے تین پتھر لے کر آؤں، مجھے دو پتھر ملے میں نے تیسرا پتھر تلاش کیا تو وہ مجھے نہیں مل،ا پس میں نے گوبر اٹھا لیا اور اس کو آپ کے پاس لے گیا۔ آپ نے وہ دو پتھر لے لیے اور گوہر پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے ۔ ( صحیح البخاری: 156، سنن ترمذی:17، مسند احمد ج 1ص ۳۸۸)
ادنی کے لیے اعلی کا نام لینا اور یامحمد کہنے کا جواز اور بعض اعتراضات کے جوابات
اس حدیث میں ہے کہ حضرت ضمام بن ثعلبہ نے کہا: تم میں سے کون محمد ہے؟ اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے انکار نہیں کیا، اس سے معلوم ہوا کہ ادنی کے لیے اعلی کا نام لینا جائز ہے لیکن آپ کا نام لے کر آپ کو بلانا جائز نہیں ہے قرآن مجید میں ہے: لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضكم بعضا۔ (النور: 63)
تم رسول کو اس طرح نہ بلاؤ، جس طرح ایک دوسرے کو بلاتے ہو ۔
البتہ یامحمد کہنا جائز ہے کیونکہ اس میں آپ کو نداء ہے اور آپ کو پکارنا ہے آپ کو نام لے کر بلانا نہیں ہے، اور متعدد احادیث صحیحہ سے صحابہ کا آپ کو یامحمد کہنا ثابت ہے ۔ ( صحیح مسلم :۲۰۰۹)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ضمام بن ثعلبہ نے آپ کو یا نبی اللہ یا یارسول اللہ کیوں نہیں کہا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت تک وہ ایمان نہیں لائے تھے، نیز انہوں نے دیہاتیوں کے طریقہ سے آپ کا نام لیا اور اس پر انکار نہیں کیا گیا۔
حضرت ضمام بن ثعلبہ 9 ہجری میں اسلام لائے تھے اس وقت تک حج فرض ہو چکا تھا حالانکہ اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح مسلم : ۱۲ میں بھی ہے اس میں حج کا ذکر ہے ۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں اور اس حدیث میں صرف ہمارے فقراء کو زکوۃ دینے کا ذکر ہے اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہ مصرف زیادہ مشہور ہے اس لیے صرف اس کا ذکر کیا گیا۔
