Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 18 حدیث نمبر 77

۷۷- حدثنا محمد بن يوسف قال حدثنا أبو  مسهر قال حدثني محمد بن حرب قال حدثنی الزبيدي عن الزهري، عن محمود بن الربيع قال عقلت من النبي صلى الله عليه وسلم مجة مجھا في وجهي ، وأنا ابن خمس سنين، من دلو ۔اطراف الحدیث :۱۸۹- ۸۳۹ – 1185- 6354 – 6422

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابومسہر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے محمد بن حرب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے الزبیدی نے حدیث بیان کی ازالزہری از حضرت محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ڈول کے پانی سے کلی کی تھی، اس وقت میں پانچ سال کا تھا۔

مصنف عبدالرزاق: 19600، مسند احمد ج ۵ ص ۴۲۹ طبع قدیم، مسند احمد :23638،  ج 39 ص 46 مؤسسة الرسالة بیروت 

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ علماء نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ کسی مصلحت کی وجہ سے چہرے پر کلی کرنا جائز ہے اور منہ کا لعاب پاک ہوتا ہے اور اس کی دلیل صرف حضرت محمود بن الربیع کی یہ حدیث ہے جس کو انہوں نے پانچ سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔  

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن یوسف البیکندی ابواحمد’ کیونکہ محمد بن یوسف الفریابی کی ابومسہر سے کوئی روایت نہیں ہے.

(۲) ابومسہر عبدالاعلی الغسانی الدمشقی، یہ جب مسجد سے نکلتے تھے تو لوگ ان کو سلام کرتے اور ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے تھے، آزمائش کے ایام میں مامون نے ان کو دربار میں بلایا اور تلوارسونت کر کہا: قرآن مجید کو خلوق کہو ورنہ میں تم کوقتل کر دوں گا اور جب انہوں نے اس کی بات نہیں مانی تو اس نے ان کو قید میں ڈال دیا، ۲۱۸ھ میں وہ بغداد میں فوت ہو گئے امام بخاری نے ان سے ملاقات کی ہے اور ان سے بہت سی احادیث سنی ہیں.

(۳) محمد بن حرب الخولانی الحمصی، انہوں نے امام اوزاعی سے سماع کیا ہے یہ ثقہ تھے ۱۷۴ھ میں دمشق میں فوت ہوگئے.

(۴) ابوالھزیل  محمد بن الولید الزبیدی الشامی الحمصی ،یہ بہت ثقہ اور بہت بڑے مفتی تھے، مکحول اور زہری وغیرہ سے روایت کرتے تھے اور ان سے محمد بن حرب اور یحیی بن حمزہ نے روایت کی ہے ۱۴۸ ھ میں فوت ہوگئے امام ترمذی کے علاوہ ایک جماعت نے ان سے روایت کی ہے.

(۵) محمد بن مسلم ابن شہاب الزہری.

(۲ ) حضرت محمود بن الربيع بن سراقہ الانصاری الخزرجی ۹۹ھ میں بیت المقدس میں فوت ہوگئے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۰۷ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کی برکتیں

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برکت پہنچانے کا ذکر ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کو چبا کر نومولود بچے کے منہ میں ڈال کر گھٹی دیتے تھے اور صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اپنے بچوں کے لیے حاصل کرنے کی حرص میں اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر تے تھے کیونکہ انہوں نے بہت مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کی برکتوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ آپ نے حدیبیہ کے کنویں میں کلی کی تو اس کا پانی زیادہ ہو گیا۔ (صحیح البخاری:۴۱۵۱) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پکتی ہوئی ہنڈیا میں لعاب دہن ڈالا تو وہ کھانا تمام لشکر کے لیے کافی ہو گیا۔ (صحیح ابخاری: ۴۱۰۲) غزوہ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی دکھتی ہوئی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئیں اور پھر کبھی خراب نہیں ہوئیں ۔ (صحیح البخاری:۴۲۱۰) حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی پر لعاب دہن چھڑکا تو وہ جڑ گئی ۔ (صحیح البخاری:4206)

اس وجہ سے صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کے متمنی رہا کرتے تھے اور جن کے چہرے پر آپ نے کلی فرمائی،  وہ اس پر فخر کرتے تھے۔

آج کل کے جعلی پیر اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ظاہر اور ثابت کر نے کے لیے کھانا کھا کر برتن میں کلی کرتے ہیں اور ان کے غالی مرید اس کو عقیدت سے پیتے ہیں حالانکہ ان کا منہ انواع و اقسام کے جراثیم سے آلودہ رہتا ہے اللہ تعالی اس کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے ۔(آمین)

Exit mobile version