۱۹ – باب الخروج في طلب العلم
طلب علم کے لیے نکلنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ ذکر تھا کہ حضرت ابن عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہوۓ اور وہ گدھے پر سوار ہو کر کہیں سے آرہے تھے اور ان کا آ کر نماز میں شامل ہونا بھی طلب علم کے لیے تھا اور اس باب میں بھی طلب علم کے لیے نکلنے کا ذکر ہے۔
ورحل جابر بن عبد الله مسیرة شهر إلى عبد الله بن أنيس في حديث واحد۔
امام بخاری کہتے ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث کی خاطر ایک ماہ کی مسافت کا سفر کر کے حضرت عبداللہ بن انیس کے پاس گئے ۔
اس معلق حدیث کو امام بخاری نے اس لیے وارد کیا ہے کہ اس سے حصول علم کے لیے سفر کرنے کی فضیلت ثابت ہے، خواہ اس کے لیے خشکی کا سفر کیا جاۓ یا سمندری، یہ حدیث چونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس لیے ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کر رہے ہیں
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا تعارف
حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما، یہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے نبی ﷺ سے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں، یہ خود بھی صحابی ہیں اور ان کے والد بھی صحابی ہیں، یہ عقبہ اور بدر کے حاضرین میں سے ہیں، حضرت جابر نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اکیس غزوات ہیں اور یہ ان میں سے انیس میں آپ کے ساتھ تھے۔
حضرت جابر نے کہا: جس رات اونٹ کا واقعہ ہوا۔ اس رات نبی ﷺ نے میرے لیے استغفار کیا تھا، اخیر عمر میں حضرت جابر کی بینائی چلی گئی تھی اور وہ اپنے سر اور ڈاڑھی کے کچھ بالوں پر زرد خضاب لگاتے تھے۔
حضرت جابر۹۴ سال زندہ رہے اور ۷۳ ھ میں فوت ہو گئے حجاج بن یوسف نے ان کا جنازہ پڑھا۔
(الاصابه: ۱۰۲۸ ج۱ ص 545 دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۵ ۱۴ ھ) انہوں نے نبی ﷺ سے ۱۵۴۰ احادیث روایت کی ہیں ۵۸ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور ۲۶ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ۶ ۱۲ احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں ۔
( خلاصه تذهیب تہذیب الکمال ج۱ ص۱۷۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۲ھ)
امام بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث معلق کو اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ طلب علم کی فضیلت کے لیے بحری اور بری سفر کی فضیلت ظاہر ہو۔
اس حدیث معلق میں حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے ان کا تعارف حسب ذیل ہے:
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا تعارف
ان کا نام عبداللہ بن انیس الجھنی ہے، ان کی کنیت ابو یحیی ہے، یہ انصار کے حلیف تھے، العقبۃ الثانیہ اور احد کے حاضرین میں سے ہیں، انہوں نے حضرت معاذ کے ساتھ مل کر بنوسلمہ کے بت توڑ ڈالے تھے ان سے ۲۴ احادیث مروی ہیں ایک حدیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں، حضرت جابر نے ان سے ایک حدیث روایت کرنے کے لیے مصر کا سفر کیا تھا۔ ۸۰ھ میں شام میں فوت ہو گئے تھے۔
( تہذیب الکمال ج ۱۴ ص ۱۳ ۳ تہذیب التہذیب ج ۵ ص ۱۴۹ ، تقریب التہذیب: ۳۲۲۷ خلاصة الخزرجی ج۲ص۴۹)
اس حدیث کا بیان جس کے حصول کے لیے حضرت جابر نے ایک ماہ کا سفر کیا تھا
جس حدیث کو حاصل کرنے کے لیے حضرت جابر نے حضرت عبداللہ بن انیس کی طرف سفر کیا تھا وہ حدیث یہ ہے:
امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر سے ذکر کیا جاتا ہے از عبداللہ بن انیس، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالی بندوں کو جمع کرے گا، پھر ان کو ایسی آواز کے ساتھ نداء کرے گا جس کو دور والا بھی اس طرح سنے گا جس طرح قریب والا سنے گا، فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، میں دیان ( جزا دینے والا ) ہوں ۔
( صحیح البخاری کتاب التوحید ،32 باب قول الله تعالى ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له)
امام احمد بن حنبل متوفی ۲۴۱ھ نے اس حدیث کو زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے :
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے، میں نے اونٹ خریدا اور اس پر سامان سفر باندھا پھر میں ایک ماہ کا سفر کر کے شام میں پہنچا تو وہاں حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دربان سے کہا: ان سے کہو کہ جابر دروازہ پر ہے انہوں نے پوچھا: ابن عبد اللہ ! میں نے کہا: ہاں پھر وہ اپنے تہبند کو گھسیٹتے ہوۓ آۓ اور مجھے گلے لگایا اور میں نے ان کو گلے لگایا، میں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قصاص کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے، مجھے خطرہ تھا کہ آپ سے اس حدیث کو سننے سے پہلے آپ فوت ہوجائیں گے یا میں فوت ہو جاؤں گا حضرت عبداللہ بن انیس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جاۓ گا، یا فرمایا: بندوں کو برہنہ بدن غیر مختون جمع کیا جاۓ گا ہم نے پوچھا: ان کے ساتھ کیا ہوگا؟ فرمایا: ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا پھر اللہ تعالی ان کو ایسی آواز کے ساتھ نداءفرماۓ گا جس کو دور والا بھی اس طرح سنے گا جس طرح قریب والا سنے گا فرماۓ گا: میں بادشاہ ہوں، میں بہت جزا دینے والا ہوں اور اہل دوزخ میں سے کوئی شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس پر اہل جنت میں سے کسی کا حق ہو حتی کہ میں جنتی کا حق دوزخی سے دلا دوں گا اور نہ اہل دوزخ میں سے کسی کا کسی پر حق ہو گا خواہ ایک تھپڑر ہی ہو مگر میں اس کا حق دلا دوں گا ہم نے کہا: ہم اللہ کے پاس کیسے برہنہ بدن اور غیر مختون آئیں گے؟ آپ نے فرمایا: نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ ۔
(مسند احمد ج ۳ ص ۴۹۵ مسند احمد : ٬16042 ج۲۵ ص ۴۳۲۔۴۳۱ مؤسسة الرسالۃ بیروت )
اس حدیث کی مزید تخریج حسب ذیل ہے:
المستدرک ج ۲ ص ۴۳۷ ۔ج ۴ ص ۵۷۴، کتاب الاسماء والصفات ص ۲۷۳۔۷۸ ‘الادب المفرد:٬۹۷۰ خلق افعال العبادص ۹۲ الستة لا بن ابی عاصم : ۵۱۴ الاحاد والمثانی : ۲۰۳۴ المعجم الاوسط : ٬۸۵۸۸ مسند الشامیین 156
اس حدیث کے علاوہ اور کسی حدیث میں اللہ تعالی کی آواز کا ثبوت نہیں ہے اور اللہ تعالی کی آواز اس کی شان کے لائق ہوگی اور مخلوق کی کوئی آواز اس کے مشابہ نہیں ہوگی ۔
باب مذکور کی حدیث کا متن
۷۸- حدثنا أبو القاسم خالد بن خلي قال حدثنا محمد بن حـرب قـال قال الأوزاعي أخبرنا الزهري، عن عبيدالله بن عبدالله بن عتبة بن مسعود عن ابن ابن عباس انہ تماری ھو والحر بن قيس بن حصن الفزاري في صاحب موسى، فمر بهما أبي بن كعب، فدعاه ابن عباس فقال انی تماريت أنا وصاحبي هذا في صاحب موسى الذى سال السبيل إلى لقيه هل سمعت رسول اللہ صلی الله عليه وسلّم يذكر شأنـه؟ فقال أبي نعم سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يذكر شانہ يقول بينما موسى في ملاء من بني إسرائيل ، اذجاءه رجـل فـقـال اتـعـلـم أحدا أعلم منك؟ قال موسى لا، فأوحى الله عزوجل إلى موسی بلی، عبدنا خضر، فسال السبيل إلى لقيه فجعل الله له الحوت اية وقيـل لـه إذا فقدت الحوت فارجع فإنك ستلقاه، فكان موسى صلى الله عليه وسلم یتبع اثر الحوت في البـحـر، فـقـال فتى موسی لموسى( ارايت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت ومـا أنسانيه إلا الشيطان أن اذكرہ(الکہف:63 ) قال موسى( ذلك ما كنا نبغ فارتدا علی اثارهما قصصا (الكهف:64) فوجدا خضرا، فكان من شأنهما ما قص الله في كتابه۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالقاسم خالد بن خلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن حرب نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : اوزاعی نے کہا: ہمیں الزہری نے خبر دی از عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود از ابن عباس رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی اور حر بن قیس الفزاری کی حضرت موسی علیہ السلام کے صاحب کے مصداق کے متعلق بحث ہوئی پھر ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ گزرے حضرت ابن عباس نے ان کو بلایا پھر کہا: میری اور میرے اس ساتھی کی حضرت موسی کے اس صاحب کے متعلق بحث ہوئی ہے جس سے ملاقات کا حضرت موسی نے سوال کیا تھا۔ حضرت ابی نے کہا: ہاں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوۓ سنا ہے آپ فرما رہے تھے کہ حضرت موسی بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ ان کے پاس ایک شخص نے آکر کہا: کیا آپ کو علم ہے کہ آپ سے بڑا بھی کوئی عالم ہے؟ حضرت موسی نے کہا: نہیں! تو اللہ عزوجل نے حضرت موسی کی طرف وحی کی: کیوں نہیں ! ہمارا بندہ خضر ہے پھر حضرت موسی نے ان سے ملاقات کے راستے کا سوال کیا تو اللہ تعالی نے مچھلی کو ان کے لیے نشانی بنادیا اور ان سے کہا گیا کہ جس جگہ آپ مچھلی کو گم پائیں وہیں سے لوٹ جائیں پھر عنقریب آپ کی ان سے ملاقات ہوگی پھر موی علیہ السلام سمندر میں مچھلی کے نشانات کا پیچھا کررہے تھے، پھر حضرت موسی کے شاگرد نے حضرت موسی سے کہا، اس نے کہا:” کیا آپ نے دیکھا، جب ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے تو میں وہاں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور دراصل مجھے شیطان نے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا‘‘۔ (الکہف: 63 ) حضرت موسی نے کہا: ” ہم اسی کی تلاش میں تھے پھر وہ دونوں وہیں اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوۓ لوٹے 0 ‘‘(الکہف: 64) پھر ان دونوں نے حضرت خضر کو پالیا۔ پھر ان کا وہ ماجرا ہوا، جس کا اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے ۔
اس حدیث کی تخریج اس کے اطراف اور اس کی شرح صحیح البخاری: ۷۴ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں ۔
