٨٦- حدثنا موسى بن إسماعيل قال حدثنا وهيـب قـال حدثنا هشام ، عن فاطمة ، عن أسماء قالت أتيت عائشة وهي تصلي، فقلت ما شان الناس؟ فأشارت إلى السماء، فإذا النّاس قيام،فقالت سبحان الله ، قلت ايه؟ فأشارت برأسها ای نعم، فقمت حتى تجلاني الغشي ، فجعلت أصبُ على رأس الماء ، فحمد الله عزوجل النبی صلی الله عليه وسلم وأثنى عليه، ثم قال ما من شيء لم اكن اريته إلا رايته في مقامي حتى الجنة والنار، فأوحى إلـى انـكـم تـفتـنـون في قبورکم مثل او قريب، لا أدرى أى ذلك قـالـت أسـمـاء من فتنہ المسيح الدجال، يقال ما علمك بهذا الرجل؟ فاما المؤمن أو الموقن لا أدرى بايهما قالت اسماء فيقول هو محمد رسول الله جاءنا بالبينات والهدى، فأجبنا واتبعنا ، هو محمد ثلاثا، فیقال نم صالحا قد علمنا إن كنت لموقنا به واما المنافق أو المرتاب. لا أدرى أى ذلك قالت أسماء فيقول لا أدري، سمعت الناس يقولون شيئا فقلته۔
اطراف الحدیث: ۱۸۴ – ۹۲۲- ۱۰۵۳۔ ۱۰۵۴-1061۔ 1235۔ 1373۔2519۔2520۔7287
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسی بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از فاطمه از اسماء انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ پس اس وقت سب لوگ نماز کے قیام میں تھے حضرت عائشہ نے کہا: سبحان اللہ ! میں نے پوچھا: یہ کوئی نشانی ہے؟ حضرت عائشہ نے سر کے اشارہ سے جواب دیا: ہاں! پھر میں بھی کھڑی ہوگئی، حتی کہ مجھ پر بے ہوشی چھانے لگی تو میں اپنے سر کے اوپر پانی ڈالنے گئی پھر نبی ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد اور ثناء کی پھر فرمایا: جس چیز کو بھی میں نے ( پہلے ) نہیں دیکھا تھا، اس چیز کو میں نے اس جگہ میں دیکھ لیا ہے حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی، پس میری طرف یہ وحی کی گئی ہے: بے شک تمہاری قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی جو المسیح الدجال کی آزمائش کی مثل ہوگی یا اس کے قریب ہوگی ( راوی کہتا ہے: ) مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا۔ کہا جاۓ گا: اس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے؟ رہا ایمان لانے والا یا یقین کر نے والا ( راوی کہتا ہے )مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا تو وہ کہے گا: یہ محمد رسول اللہ ہیں، ہمارے پاس معجزات اور دلائل لے کر آۓ تھے سو ہم نے ان کے پیغام پر لبیک کہا اور ان کی پیروی کی اور تین دفعہ کہا یہ محمد ہیں پھر اس سے کہا جاۓ گا : تم (اپنے اعمال سے ) نفع اٹھاتے ہوۓ سوجاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم بے شک ان پر یقین کرنے والے ہو اور رہا منافق یا شک زدہ ( راوی کہتا ہے : ) مجھے معلوم نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا سو وہ کہے گا: مجھے نہیں معلوم! میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوۓ سنا سو وہ میں نے کہہ دیا ۔
صحیح مسلم :905، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 469۔468 کراچی المعجم الکبیر: 42، 316، سنن بیہقی ج ۳ ص 338 شرح السنۃ:138 مسند ابوعوانہ ج۲ ص 370، صحیح ابن حبان: 3114، السنن الکبری للنسائی:۲۱۸۹’ مسند احمد 345،346 طبع قدیم مشد مسند احمد: 36925۔ج 44 ص 493 مؤسسہ الرسالہ بیروت
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو سر کے اشارہ سے جواب دیا اور اس سے پہلی دو حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ سے جواب دینے کا ذکر ہے اور مطابقت نفس اشارہ میں ہے ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) موسی بن اسماعیل.
( ۲ ) و ہیب بن خالد.
( ۳ ) ہشام بن عروہ بن الزبیر بن العوام ان سب کا تعارف ہوچکا ہے.
( ۴ ) فاطمہ بنت المنذر بن الزبير بن العوام، یہ ہشام بن عروہ کی زوجہ اور عم زاد تھیں یا اپنی دادی حضرت اسما رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرتی ہیں، ان سے ان کے خاوند ہشام اور محمد بن اسحاق روایت کرتے ہیں یہ تابعیہ ثقہ ہیں اور ان سے محدثین کی بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں .
(۵) حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہما حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں انہوں نے اپنے ازار بند کے دوٹکڑے کیے تھے، ایک ٹکڑے سے اپنا ازار باندھا تھا اور دوسرے ٹکڑے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لایا ہوا کھانا باندھا تھا اس وجہ سے ان کو ذات النطاقین کہا جاتا ہے، یہ ہجرت سے پہلے پیدا ہوئی تھیں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۷ ۲ سال تھی اور سترہ لوگوں کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام لائی تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 56 احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان میں سے ۱۴ احادیث پر متفق ہیں اور چار چار کے ساتھ ہر دومنفرد ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۴۰ )
’’المسیح الدجال ‘‘ کا معنی اور مسیح دجال اور جھوٹے نبی کے نکلنے کے متعلق احادیث صحیحہ
اس حدیث میں’’المسيح الدجال ‘ کا ذکر ہے، اس کو مسیح اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ بہت سرعت کے ساتھ مسافت طے کرے گا اور اس لیے کہ مسیح بہ معنی ممسوح ہے، اس کی ایک آنکھ رگڑی ہوئی ہوگی یعنی کانی ہوگی، حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی المسیح کہا جاتا ہے اور یہ مسیح بہ معنی ماسح ہے یعنی وہ مادرزاد اندھوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے بینا ہوجاتے اور کوڑھیوں اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے تندرست ہوجاتے اور دجال، دجل سے بنا ہے اس کا معنی ہے حق کو باطل کے ساتھ ملانے والا بہت جھوٹ بولنے والا اور جھوٹ کو خوش نما بنانے والا، تیل لگے ہوۓ اونٹ کو اور سونے کے پانی کو بھی دجال کہتے ہیں دجل کے معنی ڈھانپنا بھی ہیں، دریاۓ دجلہ کو اس لیے دجلہ کہتے ہیں کہ اس نے زمین کے بہت بڑے حصہ کو ڈھانپ لیا ہے جھوٹے نبی کو بھی حدیث میں دجال کہا گیا ہے:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وانه سيكون في امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنـه نبـي وانـا خـاتم النبيين لانبی بعدی الحديث
عنقریب میری امت میں تیس بہت جھوٹے ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا یہ زعم ہو گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
( سنن ابوداؤد : ۴۲۵۲، صحیح مسلم :٬2889 سنن ترمذی:۲۲۱۹ سنن ابن ماجه : ۳۹۵۲ مسند احمد ج ۵ ص ۲۷۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كلهم يزعم أنه رسول الله.
اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی حتی کہ تیس دجال نکلیں گے ہر ایک کا یہ زعم ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔
( سنن ابوداؤد : ۴۳۳۳، سنن ترمذی: ۲۲۱۸، مسند احمد ج ۲ ص ۳۱۳)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے اپنے طویل خطبہ میں یہ حدیث ذکر کی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلثون كذابا اخرهم الاعور الدجال ممسوح العين اليسرى. الحدیث
اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گئی حتی کہ تیس کذاب نکلیں گے ان کا آخری کانا دجال ہو گا اس کی بائیں آنکھ رگڑی ہوئی ( کانی ) ہو گی ۔
(سنن ابوداؤد : ۱۱۸۴ سنن نسائی ج ۳ ص ۱۴۱۔ ۱۴۰ بیروت، خلق افعال العباد للبخاری:۱۰ ۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 469 کراچی، صحیح ابن خزیمہ :۱۳۹۷ ، صحیح ابن حبان : 2852، المعجم الکبیر : 6799، المستدرک ج۱ص۳۳۱-۳۲۹ سنن بیہقی ج ۳ ص ۳۳۹ مسند احمد : ۸ ۲۰۱۷ ایضا: ۲۰۱۹۱۔۲۰۱۸۰-۲۰۱۹۰ ۔20160 ج ۵ ص 16 مؤسسة الرسالة بیروت )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
ليكونن قبل المسيح الدجال كذابون ثلثون او اكثر .
مسیح دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب ہوں گے ۔
( سنن سعید بن منصور : ۸۵۱ مسند ابویعلی :۵۷۰۶ سنن بیہقی ج ۷ ص ۲۰۲، مسند احمد ج ۲ ص ۹۴ طبع قدیم، مسند احمد : 5694 ایضا:5695-۵۸۰۸۔ ٬۵۹۸۵ ج ۹ ص ۵۰۴ مؤسسة الرسالۃ بیروت)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله.
اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی حتی کہ تیس کے قریب کذاب دجال بھیج دیئے جائیں ہر ایک یہ زعم کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔( صحیح البخاری:۳۶۰۹، صحیح مسلم : 2888 مسند احمد ج ۲ ص 261)
سورج گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم اور اس کی شرعی توجیہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جو لوگوں کو خلاف معمول نماز میں کھڑے ہوۓ دیکھا تو حیران ہوکر پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( اور یہی عنوان باب سے مطابقت ہے ) یعنی سورج کو گہن لگ گیا ہے اور لوگ سورج گرہن کی نماز پڑھ رہے ہیں حضرت اسماء نے پوچھا: کیا یہ ( عذاب کی) نشانی ہے؟ حضرت عائشہ نے سر کے اشارہ سے فرمایا: ہاں ! قرآن مجید میں ہے: وما نرسل بالايت إلا تخويفا ( بنی اسرائیل:۵۹) اور ہم اپنی نشانیوں کو صرف (اپنے عذاب سے ) ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں
سورج کو گہن لگنا اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، کیونکہ سورج اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اللہ تعالی جب چاہتا ہے اس کے نور کو کم یا ختم کر دیتا ہے اور اس دنیا میں سب سے عظیم اور قوی چیز سورج ہے اور جب اللہ تعالی اس کے نور کو زائل کر دیتا ہے تو وہ ہمارے دلوں سے ایمان کے نور کو اور ہماری آنکھوں سے بصارت کے نور کو زائل کر نے پر بہ طریق اولی قادر ہے سو یہ اللہ کے جلال اور غضب کی نشانی ہے سو اس وقت نماز پڑھ کر اور صدقہ و خیرات کر کے اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنڈا کرنا چاہیے کہ کہیں ہم پر بھی اللہ تعالی کا غضب نازل نہ ہو اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھنے کا حکم دیا اور صدقہ اور خیرات کر نے کا حکم دیا۔
حدیث میں ہے:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جب آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم فوت ہوگئے اس دن سورج کو گہن لگ گیا لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج کو گہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے نہ حیات کی وجہ سے پس جب تم اس کو دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو ایک اور روایت میں ہے : لیکن یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں ۔
( صحیح البخاری: ۱۰۴۳-۱۰۴۱ صحیح مسلم : ۹۱۵ -۹۱۱ سنن نسائی : ۱۴۵۸، سنن ابن ماجہ: 1261 مسند احمد : ۱۷۱۰ دار الفکر بیروت )
سورج گرہن اور چاند گرہن کی سائنسی توجیہ اور اس سے زمین کی حرکت پر استدلال
موجودہ سائنسی تحقیق کے مطابق سورج اور زمین کے درمیان چاند کا جتنا حصہ حائل ہوجاتا ہے، اتنے حصہ پر سورج کو گرہن لگ جاتا ہے اور اگر ان کے درمیان پورا چاند حائل ہو جاۓ تو پورے سورج کو گرہن لگ جاتا ہے چند سال پہلے پورے سورج کو گہن لگ گیا تھا اور ہم نے کراچی میں عصر کے بعد اس کا مشاہدہ کیا پورا شہر تاریک ہو گیا تھا اور ابھی ۲۹ مارچ 2006ء کو سورج کو جزوی گرہن لگا
روز نامه جنگ ۲۸ مارچ 2006ء کی یہ خبر ملاحظہ کریں:
سورج گرہن کل پاکستان میں جزوی طور پر نظر آۓ گا
کراچی میں آغاز 3 بج کر 53 منٹ پر ہوگا سورج کو براہ راست نہ دیکھنے کا مشورہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) کراچی میں بدھ 29 مارچ کو جزوی سورج گرہن ہوگا جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ 26 منٹ ہوگا تاہم یہ سورج گرہن سہ پہر 3 بج کر 53 منٹ پر شروع ہوکر 5 بج کر 19 منٹ پر ختم ہوگا۔ ماہرین نے سورج گرہن کو براہ راست نہ دیکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ رواں سال میں 2 سورج گرہن ہوں گے۔ ایک سورج گرہن 29 مارچ کو اور دوسرا22 ستمبر کو ہو گا 29 مارچ کو ہونے والا سورج گرہن پاکستان میں جزوی طور پر جب کہ مکمل سورج گرہن برازیل کے مشرقی ساحلی علاقوں سے نظر آۓ گا ۔ جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری اسٹروفزکس (ISPA ) کے سربراہ پروفیسر محمد شاہد قریشی کے مطابق سال 2006 ء میں دو سورج گرہن ہوں گے جن میں پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہو گا جو پاکستان میں جزوی طور پر دکھائی دے گا جب کہ دوسرا 22 ستمبر کو ہوگا جو پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا، کراچی میں اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ 26 منٹ ہوگا یعنی 24 فیصد گرہن ہوگا 29 مارچ کو ہونے والا سورج گرہن مشرقی برازیل، افریقہ، یورپ، مشرق وسطی، پاکستان اور بھارت میں جزوی طور پر دیکھا جا سکے گا۔ پروفیسرمحمد شاہدقریشی کے مطابق 29 مارچ کو پاکستان کے مختلف شہروں سے جزوی سورج گرہن اس شیڈول کے مطابق نظر آۓ گا۔ گوادر میں سہ پہر 3:38 سے شروع ہو کر 5:19 منٹ پر ختم ہو گا ۔ کوئٹہ میں 3:44 منٹ پر شروع ہو کر 5:31 منٹ پر ختم ہوگا۔ پشاور میں 3:47 بجے شروع ہو کر 5:38 منٹ پر ختم ہو گا ۔ اسلام آباد میں 3:50 بجے شروع ہو کر 5:38 بجے تک کراچی میں 3:53 بجے سے 5:19 بجے تک، لاہور میں 3:54 بجے سے 5:36 منٹ تک جب کہ حیدرآباد میں 3:55 بجے سے 5:22 بجے تک دیکھا جا سکے گا ۔ پروفیسر شاہد قریشی نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اپیس کی جانب سے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، انسٹی ٹیوٹ کے تمام طلبہ اور اساتذہ سورج گرہن کا مشاہدہ کریں گے، تصاویر اور اصل وقت ریکارڈ کریں گے ۔ پروفیسر شاہدقریشی نے کہا کہ سورج گرہن کو براہ راست دیکھنے سے پرہیز کیا جاۓ اس سے آنکھوں کو نقصان ہوسکتا ہے تاہم سیاہ ایکسرے فلم کو دوہرا کرکے دیکھا جا سکتا ہے ۔
سائنس دان اور ماہر فلکیات سورج کی حرکت، چاند کی حرکت اور زمین کی حرکت کا پورا پورا حساب رکھتے ہیں اور اس حساب سے ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان چاند کب حائل ہو گا اور اس سے سورج کا کتنا حصہ گہناۓ گا اور دنیا میں کس کس ملک میں سورج کا گہن کتنے بج کر کتنے منٹ پر نظر آۓ گا اور ان کا یہ حساب اتنا قطعی ہے کہ آج تک ان کی پیش گوئی غلط نہیں ہوئی ۔
اسی طرح جب چاند اور سورج کے درمیان زمین حائل ہو جاۓ تو چاند کو گہن لگ جاتا ہے اور سائنس دان اور ماہر فلکیات اس کی بھی اسی تفصیل کے ساتھ پیش گوئی کرتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انہیں زمین کی حرکت چاند کی حرکت اور سورج کی حرکت کا حساب معلوم اور مشاہد ہو، تب ہی انہیں معلوم ہوگا کہ زمین اس رفتار سے حرکت کرتے ہوۓ کب سورج اور چاند کے درمیان حائل ہو جائے گی اور چونکہ برسوں سے سورج گرہن اور چاند گرہن کی پیش گوئیوں کا صدق ظاہر ہورہا ہے اس لیے یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے سو جو قدیم علماء زمین کی حرکت کا انکار کرتے ہیں وہ اس کی کیا توجیہ کریں گے کہ ان سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات کو سورج گرہن اور چاند گرہن لگنے اور تمام دنیا میں ان کے نظام الاوقات کا کیسے پتا چل جاتا ہے کیا وہ غیب دان ہیں !
آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کو حقیقۂ دیکھا تھا یا آپ کو ان کی مثال دکھائی گئی تھی ؟
نیز اس حدیث میں فرمایا: جس چیز کو بھی میں نے ( پہلے) نہیں دیکھا ہے اس چیز کو میں نے اس جگہ میں دیکھ لیا ہے، حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی ۔
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
علماء نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے آپ نے اپنی آنکھ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہو، بایں طور کہ اللہ تعالی نے جنت اور دوزخ کو آپ کے لیے منکشف کر دیا ہو اور آپ کے اور جنت کے درمیان جو حجابات ہیں، ان کو زائل کر دیا ہو، جیسا کہ جب مشرکین مکہ نے آپ سے بیت المقدس کی نشانیاں پوچھیں تو اللہ تعالی نے بیت المقدس کو آپ کے لیے منکشف کردیا حدیث میں ہے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ جب قریش نے میری تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا۔ پس اللہ تعالی نے میرے لیے بیت المقدس کو منکشف کردیا، میں بیت المقدس کی طرف دیکھ دیکھ کر قریش کو اس کی نشانیاں بتانے لگا ۔ ( صحیح البخاری:3887، صحیح مسلم : ٬۱۷۰ سنن ترمذی: 3133، السنن الکبری للنسائی : 11282 مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۱۳۱ دلائل النبوة للبیہقی ج ۲ ص ۳۵۹، صحیح ابن حبان : ۵۵ شرح السنه :3762، مسند احمد ج ۳ ص ۷۷ ۳ طبع قدیم مسند احمد ۱۵۰۳۴ ج 32 ص 280 مؤسسة الرسالة بيروت )
علم کلام میں میں ثابت کیا جاچکا ہے کہ دیکھنا ایک ایسی صفت ہے، جس کو اللہ تعالی دیکھنے والے میں پیدا کرتا ہے اور اس میں شرط نہیں ہے کہ جس چیز کو دیکھا جاۓ وہ دیکھنے والے کے سامنے ہو اور اس کی شعاع بصری اس چیز کا احاطہ کرے بلکہ یہ امور عادة شرط ہیں اور عقلاً ان کے بغیر بھی دیکھا جاسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو جنت اور دوزخ کا علم عطا کیا ہو اور وحی کے ذریعہ آپ کو جنت اور دوزخ کی تمام تفاصیل پر مطلع کردیا، جن پر اس سے پہلے مطلع نہیں فرمایا تھا۔( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۴۵ دارالکتب العلمیہ1421ھ)
علامہ احمد بن عمر مالکی قرطبی متوفی 656 ھ نے فرمایا ہے: اس قول کے مطابق یہ جائز ہے کہ اللہ تعالی نے جنت اور دوزخ کی مثالوں اور صورتوں کو دیوار میں ثبت کردیا ہو جیسے شفاف اجسام آئینہ میں ثبت ہوتے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جب میں نے تم کو نماز پڑھائی ہے تو میں نے جنت اور دوزخ کی صورتوں کو قبلہ کی اس دیوار میں دیکھا۔ (صحیح بخاری: ۷۴۹ ) دوسری حدیث میں ہے: ابھی میرے سامنے اس دیوار کے عرض میں جنت اور دوزخ مجھ پر پیش کی گئیں اور اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ( صحیح البخاری : ۰ ۵۴ ) اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے لیے جنت اور دوزخ کی تصویر بنائی گئی اور میں نے اس دیوار میں ان دونوں کو دیکھا ۔ ( صحیح مسلم :۲۳۵۹)
اور اس کو اس وجہ سے بعید نہ سمجھا جاۓ کہ آئینہ میں صرف شفاف اجسام ثبت ہوتے ہیں، کیونکہ یہ شرط عادی ہے، عقلی نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہو اور اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ شروط عقلی ہیں، تو ہوسکتا ہے کہ یہ صورتیں دیوار میں پہلے سے موجود ہوں اور اس کا ادراک کرنا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ممکن ہو ۔ (المفہم ج 2 ص ۵۵۴ دار ابن کثیر بیروت ۱۴۲۰ھ )
مصنف کے نزدیک سورج گہن کی نماز میں جنت اور دوزخ کو دیکھنے کا واقعہ کئی بار ہوا بعض اوقات آپ نے جنت اور دوزخ کی صورتوں اور مثالوں کو دیکھا جیسا کہ ان احادیث میں ہے اور بعض مرتبہ آپ نے حقیقی جنت اور دوزخ کو دیکھا جیسا کہ اس
حدیث میں ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنے کھڑے ہونے کی جگہ میں کسی چیز کو پکڑ رہے تھے پھر ہم نے آپ کو پیچھے ہٹتے ہوۓ دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے انگور کے خوشہ کو پکڑا اور اگر میں اس کو لے لیتا تو تم اس کو اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی ۔
( صحیح البخاری: ۱۰۵۲ صحیح مسلم : ۹۰۷، سنن ابوداؤد :۱۱۸۱، سنن ترمذی:٬560سنن نسائی : ج ۳ ص ۱۲۹ بیروت )
ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف کے موقع پر اگر جنت کی صرف مثال اور تصویر ہی دیکھی ہو تو مثال اور تصویر سے تو انگور کے خوشے نہیں توڑے جاتے اس سے معلوم ہوا کہ نماز کسوف پڑھانے کا واقعہ متعدد دفعہ ہوا، ایک موقع پر آپ کو صرف جنت کی مثال اور تصویر دکھائی گئی اور دوسرے موقع پر خود جنت اور دوزخ کو آپ کے لیے منکشف کر دیا گیا۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے جنت آپ کی ملک کردی ہے کیونکہ اگر جنت آپ کی ملک نہ ہوتی تو غیر کی ملک میں تصرف کرنا تو گناہ کبیرہ ہے اور آپ گناہوں سے معصوم ہیں، پھر آپ جنت سے انگور کے خوشے کیسے توڑتے ! اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے آپ کو یہ طاقت دی ہے کہ آپ سات آسمانوں کے پار جنت کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ جنت میں تصرف کر کے اس کے خوشے بھی توڑسکتے ہیں اور جب آپ کو جنت کا مالک بنادیا گیا ہے تو آپ جس کو چاہیں مستحق سمجھیں، جنت عطا بھی فرما سکتےہیں۔
جنت اور دوزخ کا پیدا ہوچکا ہونا اور وہ کہاں ہیں، اور عمل قلیل کا مفسد نماز نہ ہونا
نیز اس حدیث میں فرمایا ہے : اس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے؟ تو وہ کہے گا: یہ محمد رسول اللہ ہیں، ہمارے پاس دلائل اور معجزات لے کر آئے تھے سو ہم نے ان کے پیغام پر لبیک کہا اور ان کی پیروی کی اور تین دفعہ یہ کہا کہ محمد ہیں، پھر اس سے کہا جاۓ گا کہ تم اپنے (اعمال سے) نفع اٹھاتے ہوۓ سوجاؤ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قبر میں اشارہ کر کے فرشتے قبر میں مدفون شخص سے پوچھیں گے تمہیں اس شخص کے متعلق کیا علم ہے اور یہ فرشتے منکر نکیر ہیں ۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ جنت اور دوزخ پیدا کی جاچکی ہیں اس کے برخلاف معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ ابھی جنت اور دوزخ نہیں پیدا کی گئیں، کیونکہ ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے، قیامت کے بعد جزاء اور سزا کا معاملہ پیش آۓ گا تو اسی وقت جنت اور دوزخ کو پیدا کر دیا جاۓ گا ہم اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث سے ثابت ہے کہ جنت پیدا کی جا چکی ہے ان میں سے یہ آیتیں ہیں:
وطفقا يخصفن عليهما من ورق الجنة (الاعراف: ۲۲ :۱۲۱)
اور آدم اور اس کی زوجہ دونوں اپنے گرد جنت کے درخت کے پتے لپیٹنے لگے۔
عند سدرة المنتهى0 عندها جنة المأوى0
سدرۃ المنتہی کے پاس0 اس کے پاس جنت الماوئی ہے(النجم:۱۵۔ ۱۴)
اور بہت احادیث میں یہ تصریح ہے کہ جنت اور دوزخ پیدا کی جا چکی ہے، ان میں سے ایک باب مذکور کی یہ حدیث ہے۔
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں جس جنت کا ذکر ہے، وہ زمین کا کوئی باغ ہے، ہم کہتے ہیں کہ یہ تاویل قرآن اور حدیث سے کھیلنے کے مترادف ہے اور جنت اور دوزخ کے سوا ہر مخلوق فنا ہوجاۓ گی ۔حدیث میں ہے : جنت الفردوس اوسط الجنت ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے ۔ ( صحیح البخاری:۲۷۹۰) جنت سات آسمانوں کے اوپر اور عرش کے نیچے ہے اور دوزخ کہاں ہے اس کی قرآن اور حدیث میں کوئی واضح تصریح نہیں ہے ۔
نیز اس حدیث میں قبر میں مردے کو زندہ کرنے اور اس سے سوال کرنے اور اس کے جواب دینے کا ثبوت ہے، اور یہ اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اور اس پر بہت دلائل ہیں ۔
نیز اس حدیث میں دجال کے نکلنے کا ثبوت ہے اور منکر اور نکیر کا ثبوت ہے اور حضرت اسماء اور حضرت عائشہ کے درمیان جو مکالمہ ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب نماز میں کلام سے منع نہیں کیا گیا تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بے ہوش ہونے کے باوجود اگر عقل قائم ہوتو وضو نہیں ٹوٹتا اورعمل قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ نماز میں حضرت اسما اپنے سر پر پانی ڈالتی رہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلی علم غیب پر دلائل
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں آپ نے فرمایا: جس چیز کو بھی میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا اس چیز کو میں نے اس جگہ دیکھ لیا ہے حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی ۔
اس حدیث میں’’ مـا مـن شئی‘‘ کے الفاظ ہیں اور یہ سب عام سے بڑھ کر عام ہے اور نکرہ حیز نفی میں ہے، وہ بھی عموم کا مفید ہے اس کا معنی ہے : ہر وہ چیز جو دیکھی جاسکتی تھی اس کو نبی ﷺ نے اس مقام پر دیکھ لیا، یہ عقلی مخصص ہے اور عرفی مخصص یہ ہے کہ آپ نے ان چیزوں کو دیکھا جن کا تعلق دین اور جزاء وغیرہ کے ساتھ ہے ۔
مصنف کہتا ہے کہ جب علامہ عینی کے قول کے مطابق یہ الفاظ اعم العام ہیں اور نکرہ کا حیز نفی میں ہونا بھی اس کے عموم کا مؤکد ہے تو پھر کسی مخصص عرفی کی ضرورت نہیں ہے اور ہر وہ چیز جس کا دیکھنا ممکن تھا اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دیکھ لیا۔
اس کے بعد علامہ عینی نے لکھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر اللہ سبحانہ کی ذات کو بھی دیکھا اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! کیونکہ اس مقام پر آپ نے ہر شے کو دیکھا اور شے کا لفظ اللہ تعالی کی ذات کو بھی شامل ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۴۸ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلی علم غیب کے متعلق علماء دیوبند کی عبارت پر مصنف کا تبصرہ
مشہور دیوبندی عالم شیخ سلیم اللہ خان حدیث کے اس جملہ کی شرح میں لکھتے ہیں:
یہاں ایک اشکال ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس طرح کا کلام ترقی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ میں نے یہ دیکھا، یہ دیکھاحتی کہ یہ بھی دیکھا اور یہاں ترقی کے معنی سمجھ میں نہیں آتے اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج میں جنت و جہنم دیکھ چکے تھے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بیان عالم سفلی کا ہو رہا ہے کہ اس عالم میں ہوتے ہوئے مجھے بہت سی غیبی اشیاء ( کل غیبی اشیاء کہنا چاہیے تھا۔ سعیدی غفرلہ ) حتی کہ جنت و جہنم بھی دکھلائی گئیں، جب کہ لیلۃ المعراج میں آپ کو دوسرے عالم میں مشاہدہ کرایا گیا تھا ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جنت و جہنم کا مشاہدہ آپ کو لیلۃ المعراج میں کرایا گیا ہو، لیکن نماز کسوف میں جس مخصوص صفت کے ساتھ آپ کو دکھایا گیا ہو، اس طرح لیلۃ المعراج میں آپ نے نہ دیکھا ہو، اس صفت میں ترقی کا تعلق مخصوص صفت کے ساتھ ہوگا ۔(کشف الباری جلد ۳ ص ۴۹۲۔٬۴۹۱ مکتبہ فاروقیہ کراچی مارچ 2005ء)
شیخ محمد تقی عثمانی نے لکھا ہے:
کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مجھے پہلے نہیں دکھائی تھی مگر آج وہ اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ دیکھ لی ہے، یعنی وہ چیزیں پہلے نہیں دکھائی گئیں تھیں، وہ آج دکھا دی گئی ہیں، یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی میں نے دیکھ لیا نماز کسوف کے اندر ملاء اعلی کی بہت سی باتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمائی گئیں ۔ ( انعام الباری ج ۴ ص ۱۱۹ مکتبۃ الحرا کراچی )
حدیث میں’’اعم العام‘‘ کا صیغہ ہے اور نکرہ حیز نفی میں ہونے سے اس کا عموم مؤکد ہے جس کا معنی ہے کہ آپ کو غیب کی تمام چیزیں دکھا دی گئیں، حتی کہ جنت اور دوزخ بھی اور اللہ تعالی نے اپنی ذات بھی آپ کو دکھادی جو غیب الغیب ہے پھر باقی کیا رہ گیا؟ لیکن چونکہ شیخ سلیم اللہ اور شیخ عثمانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلی علم غیب کے قائل نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے اس کے ترجمہ میں بہت سی غیبی اشیاء لکھا ہے حالانکہ یہ حدیث آپ کے کلی علم غیب پر واضح دلیل ہے اور اس سے اللہ تعالی کے علم کے ساتھ مساوات لازم نہیں آتی، اللہ تعالی کا علم غیر متناہی ہے اور آپ کا علم متناہی ہے، اللہ تعالی کو ایک ذرہ کا علم بھی غیر متناہی وجوہ سے ہوتا ہے اور آپ کا علم ایک ذرہ میں بھی اللہ تعالی کے علم کے مماثل نہیں ہے جو شخص ایک ذرہ کے علم میں بھی اللہ اور رسول کا علم مساوی مانے، وہ مشرک ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلی اشیاء کا علم ہے مگر متناہی وجوہ سے اور یہی آپ کے علم کلی کا معنی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
دیوبند کے ایک اور عالم سیداحمد رضا بجنوری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
حدیث الباب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے پہلے سے نہیں دکھائی گئی تھی کہ میں نے اس کو اس مقام میں دیکھ لیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام چیزوں کی رؤیت حاصل تھی ہی نہیں، صرف بعض کی تھی، مگر اس مقام میں وہ رؤیت مکمل ہوگئی، لیکن پھر بھی یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا اس سے مراد تمام غیوب ہیں یا وہ غیوب ہیں جن کے بارے میں امت کو مطلع کرنے کی ضرورت تھی یا جو آپ ﷺ کی ذات مکرم وعظم کے لیے بطور خاص ضروری تھے اور جن امور کی اطلاع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی اعزاز و اکرام مقصود تھا اس کا جواب یہ ہے کہ گوحدیث کے الفاظ سے دونوں کا احتمال ہے مگر به ظاہر دوسری صورت ہی مراد ہے اور پہلی صورت کے ممنوع ہونے پر کتاب وسنت دونوں شاہد ہیں حق تعالی نے فرمایا: قل لا یعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ زمین و آسمان میں سوائے خدا کے غیب کو کوئی بھی نہیں جانتا‘‘ حدیث میں ہے: “مفاتح الغيب خمس لا يعلمهن الا الله ‘‘ پانچ چیزیں غیب کی کنجیاں ہیں جن کو بجز اللہ تعالی کے کوئی بھی نہیں جانتا‘‘ پھر اس کے لیے بھی جمیع غیوب مراد نہیں ہوسکتے کہ اس سے خالق و مخلوق کا برابر ہونا لازم آتا ہے جو عقلا بھی محال ہے لہذا علم غیب کلی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم به طریق عقل و نقل مستحیل ہے ۔ (بہجتہ النواس ج۱ ص ۱۲۰ )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کلی کے ثبوت و عدم ثبوت کی بحث ہم آئندہ کسی مناسب موقع سے مکمل و مدلل لکھیں گے ان شاءالله تعالی ۔ ( انوار الباری ج 5 ص 145 ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان ۱۴۲۵ھ )
شیخ بجنوری کے اپنے کلام میں تعارض ہے انہوں نے قرآن مجید کی جو دو آیتیں پیش کی ہیں ان سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کسی کو بھی مطلقا غیب کا علم نہیں ہے پھر آگے چل کر لکھا ہے کہ آپ کو جمیع غیوب کا علم نہیں ہے، یعنی بعض غیوب کا علم ہے درحقیقت ان آیتوں کا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کسی کو بھی از خود غیب کا علم نہیں ہے اور اسی کو ذاتی علم سے تعبیر کرتے ہیں اور تمام مفسرین نے ان آیتوں کی تفسیر میں یہی لکھا ہے ہم اس سے پہلے شیخ شبیر احمد عثمانی سے بھی نقل کر چکے ہیں انہوں نے النمل : 65 کی تفسیر میں لکھا ہے:
کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطاۓ الہی کے ہوسکتا ہے ۔(الی قولہ )ہاں ! بعض بندوں کو بعض غیوب پر باختیار خود مطلع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالی نے غیب مطلع فرمادیا ۔ ( حاشیہ عثمانی ص ۹۶ ۴ دارالتصنیف کراچی )
اور کلی علم غیب کا محمل ہم بیان کرچکے ہیں اور اس سے اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مساوات لازم نہیں کیونکہ آپ کا علم متناہی وجوہ سے ہے اور اللہ تعالی کا علم غیر متناہی وجوہ سے ہے اور ایک ذرہ کا علم بھی اللہ تعالی کا غیر متناہی وجوہ سے ہے اور آپ کا تمام علم متناہی وجوہ سے ہے ایک ذرہ کا علم بھی اللہ تعالی کو غیر متناہی در غیرمتناہی درغیرمتناہی وجوہ سے ہے اس میں غیر متناہی کا تسلسل ہے اور جو آپ کے لیے ایک ذرہ کا علم بھی اللہ تعالی کے برابر مانے وہ مشرک ہے ۔
اس اعتراض کا جواب کہ قبر میں تین سوال کیے جائیں گے، پھر آپ کی شناخت کے متعلق سوال پر اقتصار کیوں کیا گیا ؟
اس حدیث میں مذکور ہے: کہا جاۓ گا: اس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے؟
یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا قبر میں صرف آپ کے متعلق سوال کیا جاۓ گا یا اور کوئی سوال بھی کیا جائے گا اس کا جواب یہ ہے کہ قبر میں جو سوالات کیے جائیں گے ان کی تفصیل ان احادیث میں ہے:
امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد متوفی 360ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان بندہ فوت ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟ پس اللہ اس کو ان کے جوابات میں ثابت قدم رکھتا ہے پس وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی ( سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر اس کی قبر میں وسعت کی جاتی ہے اور اس کے لیے اس میں کشادگی کی جاتی ہے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ آیت پڑھی: ‘ يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحيوة الدنيا وفي الآخرة ويضل الله الظلمین‘‘. (ابراہیم: ۲۲)
(المعجم الکبیر : 9145، حافظ ہیثمی نے کہا: اس حدیث کی سند حسن ہے، مجمع الزوائد ج ۳س ۵۴ بیروت، الشریعہ للآجری :۸۱۱ )
امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ۷۵ ۲ھ روایت کرتے ہیں:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے ہم قبر تک پہنچے، جب لحد بنائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے، آپ نے اپنا سر ( اقدس ) اٹھا کر دو یا تین بارفرمایا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو، اور فرمایا: جب لوگ پیٹھ پھیر کرجائیں گے تو یہ ضرور ان کی جوتیوں کی آواز سنے گا جب اس سے یہ کہا جاۓ گا:اے شخص! تیرا رب کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟ ھناد نے کہا: اس کے پاس دو فرشتے آئیں گے اور اس کو بٹھادیں گے اور اس سے کہیں گے : تیرا رب کون ہے؟ وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے پھر وہ کہیں گے : تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہے گا: میرا دین اسلام ہے پھر وہ کہیں گے : وہ شخص کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہے گا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ کہیں گے : تم کو کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہے گا: میں نے کتاب پڑھی، میں اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی اور یہ اللہ تعالی کے اس ارشاد کے مطابق ہے:يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحيوة الدنيا وفي الاخرة ( ابرانیم: ۲۲) پھر آسمان سے ایک منادی یہ نداء کرے گا کہ میرے بندو نے سچ کہا اس کے لیے جنت سے فرش بچھا دو اور جنت سے لباس پہنادو اور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو، پھر اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور جنت کی خوشبو آۓ گی اور اس کی منتہاۓ بصر تک اس کی قبر کھول دی جاۓ گئی پھر آپ نے کافر کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کے جسم میں اس کی روح لوٹائی جائے گی اور اس کے پاس دو فرشتے آ کر اس کو بٹھائیں گے اور اس سے کہیں گے : تیرا رب کون ہے؟ وہ کہے گا: افسوس! میں نہیں جانتا، پھر وہ اس سے کہیں گے : تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہے گا: افسوس! میں نہیں جانتا پھر وہ کہیں گے: یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا وہ کہے گا: افسوس! میں نہیں جانتا پھر آسمان سے ایک منادی نداء کرے گا : اس نے جھوٹ بولا، اس کے لیے دوزخ سے فرش بچھادو اور اس کو دوزخ کا لباس پہنادو اور اس کے لیے دوزخ سے ایک دروازہ کھول دو، پھر اس کے پاس دوزخ کی تپش اور دوزخ کی گرم ہوائیں آئیں گی اور اس پر اس کی قبر تنگ کردی جائے گی، حتی کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف نکل جائیں گی، پھر اس پر ایک اندھا اور گونگا مسلط کیا جاۓ گا، اس کے پاس لوہے کا ایک گرز ہوگا، جس کی ضرب اگر پہاڑ پر لگائی جاۓ تو وہ بھی مٹی کا ڈھیر ہوجاۓ، پھر وہ گرز اس پر مارے گا، جس سے وہ کافر چیخ مارے گا، جس کو جن اور انس کے سوا سب سنیں گے اور وہ کافر مٹی ہو جاۓ گا اور اس میں پھر دوبارہ روح ڈال دی جاۓ گی ۔
امام عبد الرزاق متوفی 211ھ، امام احمد متوفی ۲۴۱ھ، امام آجری متوفی 360ھ، اور امام ابوعبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ نے اس حدیث کو بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ ( سنن ابوداؤد: ۴۷۵۳ مصنف عبدالرزاق :6737، مسند احمد ج ۴ ص ۲۸۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۸۷۳۳ الشریعہ للآجری : ۸۱۲ المستدرک ج۱ ص ۳۷)
اب یہ اعتراض ہے کہ جب قبر میں تین سوالات کیے جائیں گے تو صحیح بخاری:86 کی اس حدیث میں صرف اس سوال پر کیوں اکتفاء کیا گیا ہے کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بہت اہم سوال ہے حتی کہ پہلے دو سوالوں کے جوابوں کا قبول ہونا، اسی سوال کے جواب کی صحت پر موقوف ہے، اس لیے اسی سوال کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا۔
